دنیا

افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے میں امن کے امکانات کیا ہوں گے؟

قیصر عباس

امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں 20 سالہ قبضہ ختم کر کے پانچ ماہ کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی۔ وائٹ ہاؤس سے بدھ کے دن اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی تاریخ کی یہ طویل ترین جنگ جو چار امریکی صدور کے تحت جاری رہی اب پانچویں صدر تک جاری نہیں رہے گی۔

ان کے مطابق ”ہم افغانستان 20 سال پہلے اپنے ملک پر ایک ہولناک حملے کے بعد گئے تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم 2021ء میں بھی وہاں رہیں۔ ہم اب افغانستان میں اپنی موجودگی اور توسیع کو صرف اس وقت کے انتظار میں ملتوی نہیں کر سکتے جب حالات اس کے لئے مواقف ہوں۔“

انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کو ختم کر دیا گیا ہے اور القاعدہ کی کمر توڑ دی گئی ہے اور ہمارا وہاں رہنا اب ضروری نہیں ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اب تک امریکی فوجیوں کی 2,400 ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ایک ٹریلین ڈالر کے اخراجات ہو چکے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ 2011ء میں شروع ہونے والی اس جنگ کو ختم ہونا چاہئے۔

تاہم صدر نے اس طویل جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 38,500 افغان شہریوں کی ہلاکتوں اور 72,300 زخمی ہونے والے شہریوں کا ذکر نہیں کیاجو اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2009ء سے اب تک اس جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کے مطابق پچھلے سات برسوں کے دوران ملک کی سکیورٹی کے 48,000 اہلکان ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے یہ مشکل فیصلہ دفاعی اداروں کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے جن کے مطابق امریکی واپسی افغانستان میں ایک نئی سول خانہ جنگی کا آغاز بھی کر سکتی ہے۔ صدر جو بائیڈن نے ابامہ کی انتظامیہ میں نائب صدر کی حیثیت سے بھی افغانستان سے امریکی انخلا کا موقف اختیار کیا تھاجسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

الجزیرہ ٹی وی کے ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں 2,500 امریکی اور 7,000 اتحادی فوج موجود ہے۔ ادھر نیٹو کے سیکرٹری، جنرل جینز سٹولنزبرگ، نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ”ہماری افواج کا انخلا ایک منظم طریقے پر ہو گا۔ اس دوران آنے والی مشکلات سے ہم پوری طرح واقف ہیں اور حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم ان سے نبٹنے کے لئے اپنی پوری توجہ افغانستان اور پرامن انخلا پر رکھیں۔ ہم طالبان کو ایک کھلا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس دوران اگر ہم پر حملہ کیا گیاتو اس کا جواب بھر پور طریقے سے دیا جائے گا۔“

اگرچہ افغان صدر اشرف غنی نے اس اعلان کے بعد کہا ہے کہ ان کی سکیورٹی فورس امریکہ کی واپسی کے بعد ملک کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن مبصرین کے خیال میں امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں ایک طویل خانہ جنگی کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں ’روزنامہ جدوجہد‘میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کی دفاعی امور کی ماہر عائشہ صدیقہ نے کہا تھا کہ ”امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں بلانے میں سنجیدہ ہے لیکن اس کے بعد کیا ہو گا یہ کسی کو معلوم نہیں۔ عین ممکن ہے کہ امریکی انخلا کے بعد تاریخ افغانستان میں خود کو دہرائے اور ملک میں سول نافرمانی، اندرونی گروہوں کے درمیان خانہ جنگی اور شدت پسندی میں مزید اضافہ ہو جائے۔“

پاکستان نے امریکہ کے ایک اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کی گزشتہ دو دہا ئیوں کے دوران ہر طرح سے مدد کی تھی اگرچہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ان تعلقا ت میں کسی حد تک سرد مہری دیکھی گئی تھی۔

منصوبے کے مظابق مئی سے امریکی اور اتحادی فوجوں کے انخلا کا مرحلہ شروع ہو گا اور ستمبر تک فوجوں کی واپسی مکمل ہو جائے گی۔ لیکن اس کے بعد خطے میں امن کے کیا امکانات ہوں گے؟ خیال ہے کہ اس اہم فیصلے کے بعد پاکستان اور انڈیا میں کشمکش کا ایک نیا دور بھی شروع ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چین اور ایران سمیت خطے کی دوسری ریاستوں کا افغانستان میں عمل دخل ملک کی اندرونی صورت حال کو مزیدبدتر بھی کر سکتا ہے۔

افغانستان کے بدقسمت عوام جو کئی عشروں سے بین الاقوامی طاقتوں کی رسی کشی کا نشانہ بن رہے ہیں اور کب تک قربانیاں دیتے رہیں گے؟ اس سوال کاجواب خود ان کے پاس بھی نہیں ہے!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔