شاعری

اس پھیلتی خوشبو کو گلابوں ہی میں رکھنا!

قیصر عباس

دادا امیر حیدر، عاصمہ جہانگیر، لال خان اور آئی اے رحمان سمیت انسانیت کے ان تمام علم برداروں کے نام جو گزشتہ چند سالوں میں ہم سے جدا ہو گئے۔

اس پھیلتی خوشبو کو گلابوں ہی میں رکھنا
لفظوں کے خزینوں کوکتابوں ہی میں رکھنا

کیا جانئے کس سمت نکل جاؤں میں اس بار
رکھنا تو مجھے دل کے حجابوں ہی میں رکھنا

روٹھے ہیں مرے شہر سے مسکان کے موسم
خوشیوں کو ابھی اپنے حسابوں ہی میں رکھنا

ہم خانہ بدوشوں کے لئے موت ہے منزل
صحرا کے مسافر کو سرابوں ہی میں رکھنا

اجڑی ہے یہاں بستی دل اب کے کئی بار
تم سارے نگر پیار کے، خوابوں ہی میں رکھنا

اک کلمہ حق ہی مری میراث ہے یارو
باقی جو بچیں لفظ نصابوں ہی میں رکھنا

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔