نقطہ نظر

’پاکستان میں طنز و مزاح پر بھی قانوناً پابندی ہے‘

حارث قدیر

کنور خلدون شاہد کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں طاقتور حکمرانوں پر تنقید کیلئے استعمال ہونے والے ’سیٹائر‘ یا طنز و مزاح کو بھی پاکستان میں سنسرشپ کا سامنا ہے، ’سیٹائر‘ لکھنے کیلئے پہلے اعلان کرنا پڑتا ہے کہ یہ ’سیٹائر‘ ہے اس کو حقیقت نہ سمجھ لیا جائے۔

آپ نوجوان صحافی، لکھاری اور ایڈیٹر ہیں۔ گزشتہ لمبے عرصے سے طنز و مزاح کے ذریعے سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر لکھتے آئے ہیں۔ گزشتہ تین سال سے آپ ’دی ڈیپنڈنٹ‘ (The Dependent) کے ساتھ منسلک ہیں جو پاکستان میں سیٹائر لکھنے کے حوالے سے شہرت رکھنے والا ایک مقبول پلیٹ فارم ہے۔ کنور خلدون شاہد ’دی ڈیپنڈنٹ‘ کی بانی ٹیم کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں طنز و مزاح اور سنسر شپ کے حوالے سے ’روزنامہ جدوجہد‘ نے کنور خلدون شاہد سے ایک مختصر انٹرویو کیا ہے جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

سیٹائر ہوتا کیا ہے اور اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

کنور خلدون شاہد: سیٹائر کو اردو میں طنز و مزاح کہا جاتا ہے لیکن انگریزی میں اس سے مراد صرف طنز و مزاح ہی نہیں بلکہ ’ایگزیجیریشن‘ (Exageration) یا کسی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی ’سیٹائر‘ کہلاتا ہے۔ سیٹائر کے آغاز سے متعلق وثوق سے تو نہیں کہا جاتا کہ کب ہوا لیکن ادب اور میڈیا میں یہ طریقہ صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ زمانہ قبل مسیح کی ملنے والی باقیات، تصاویر اور تحاریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ماضی بعید میں بھی سیٹائر کیا جاتا تھا۔ بنیادی طور پریہ طریقہ طاقتور حکمرانوں پر تنقید کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ شاعری، نثر، ناولوں، ڈراموں سے ہوتا ہوا یہ طریقہ میڈیا کے دیگر ذرائع میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔

پاکستان میں سیٹائرلکھنے کا آغاز کس نے اور کب کیا؟

کنور خلدون شاہد: پاکستان میں سیٹائر لکھنے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ پاکستان میں سیٹائر سے مراد اردو زبان میں سیٹائرسے ہی لی جاتی ہے۔ پاکستان بننے سے بہت پہلے ہی اردو میں سیٹائر لکھا جاتا تھا۔ نذیر احمد کے مضامین آج بھی ہم سب کیلئے ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ منٹو کے افسانوں بالخصوص ’انکل سام‘ کے نام خطوط میں سیٹائر موجود ہے، اقبال کی شاعری میں سیٹائر موجود ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار لکھاری، مضمون نگار، شاعر ایسے ہیں جو سیٹائر کا استعمال کرتے آئے ہیں۔

پاکستان میں اخبارات میں پیجوں یا مخصوص حصہ سیٹائر کیلئے مخصوص کئے جانے کا بھی رجحان رہا ہے اور نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے آغاز کے ساتھ ہی سیٹائر کا استعمال بھی شروع کیا گیا۔ مختلف ٹی وی شو ایسے بننے شروع ہوئے جنہیں سیٹائر کہا جا سکتا ہے۔ ابھی بھی نجی ٹی وی چینلوں پر ’خبردار‘، ’خبرناک‘، ’حسب حال‘، ’مذاق رات‘، ’ہم سب امید سے ہیں‘ سمیت مختلف ایسے ٹی وی پروگرامات چلتے ہیں جو سیٹائر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان پروگرامات میں سیٹائر کو بہت سطحی انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ صرف میمکری کرنا، کسی سیاستدان کی آواز نکال لینا، طنز کرنا یا فقرے کسنا ہی سیٹائر نہیں ہے بلکہ طنز و مزاح کے انداز میں ایسی بات کہہ جانا جو کہنے کی اجازت نہ ہو یا پھر حکمرانوں کے عوام دشمن اقدامات پر بات کرنا اہم ہوتا ہے۔

پاکستانی میڈیا میں زیادہ تر سٹیریکل پروگرامات مغربی میڈیا سے مستعار لئے گئے ہیں، ایسا کیوں ہے؟

کنور خلدون شاہد: یہ درست ہے کہ ان پروگرامات یا سیٹائر لکھنے کے مختلف طریقوں کو مغربی میڈیا سے مستعار لیا گیا ہے لیکن آپ اسے نقل نہیں کہہ سکتے۔ اصل میں ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کیلئے موافق حالات مغرب میں ہی موجود ہیں، جہاں تحقیق ہو رہی ہے اور جدت کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے معاشروں میں میڈیا سمیت بے شمار شعبہ جات کو مغرب سے ہی مستعار لیا گیا ہے۔ کوالٹی پر بات ہو سکتی ہے لیکن اس کی بھی بے شمار دیگر وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ خود سنسر شپ ہے، ایسے قوانین ہیں جو سیلف سنسرشپ پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہیں۔

مغرب میں ایسے بے شمار میڈیا ادارے ہیں جو صرف سیٹائر لکھتے ہیں، پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکا؟

کنور خلدون شاہد: اس کی سب سے بڑی وجہ بھی سنسرشپ اور سخت قوانین ہیں۔ ایک نجی ٹی وی پر ایک سیٹائر شو چلتا تھا جس پر نہ صر ف پابندی لگی بلکہ اسکی پوری ٹیم کو بھی یہاں سے بھاگنا پڑا۔ ’خبرستان‘ کے نام سے ایک ادارہ تھا جسے 2017ء میں بند کر دیا گیا۔ ’خبرستان‘ کی ویب سائٹ صرف سیٹائر شائع کر رہی تھی لیکن اس پر پابندی عائد کی گئی۔ بالخصوص 2016ء میں جب ’پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ‘ (پیکا) منظور کیا گیا اس کے بعد نہ صرف سوشل میڈیا پر موجود مختلف پیجوں اور گروپوں کو بند کیا گیا جو اصل میں ’میمز‘ کے ذریعے سے سیٹائر کا استعمال کر رہے تھے اور حکمرانوں اور دیگر طاقتور حلقوں پرتنقید کر رہے تھے۔ اسی طرح ایسی ویب سائٹس اورمیڈیا اداروں پر بھی پابندی عائد کی گئی جو طاقت کے اصل مراکز کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ ’خبرستان‘ بھی اسی پالیسی کا نشانہ بنا، اس کے بعد ہم نے ایک نئی ٹیم کے ساتھ ’دی ڈیپنڈنٹ‘ کا اجرا کیا تھا اور محتاط انداز میں یہ سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔

پاکستان میں کس طرح کے قوانین ہیں جو سیٹائر لکھنے والوں کیلئے مسائل پیدا کرتے ہیں؟

کنور خلدون شاہد: پاکستان میں اگر قوانین کو دیکھا جائے تو آپ کو صاف صاف معلوم ہو جائے گا کہ آپ سیٹائرکر ہی نہیں سکتے۔ تمام اچھی اچھی چیزیں مغربی ممالک میں بننے والے قوانین سے ہی اٹھائی گئی ہیں اور ساتھ ہی اپنی طرف سے پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ اس طرح ابہام ہی ابہام ہے، ایک ہی کام آپ ایک قانون کے تحت کر سکتے ہیں اور دوسرے قانون کے تحت وہ نہیں کر سکتے۔ سیٹائر کے حوالے سے خصوصی طور پر ’پیکا‘ میں یہ درج ہے کہ آپ ’پریٹنڈ‘ نہیں کر سکتے، یعنی آپ کسی کیلئے فرضی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے، جبکہ سیٹائر کی تو بنیاد ہی اسی پر ہے۔ دوسرے لفظوں میں سیٹائر پر پابندی عائد ہے۔

’دی ڈیپنڈنٹ‘کا نام ہی خود سیٹائر ہے، یہ خیال کسے اور کیسے آیا؟

کنور خلدون شاہد: یہ نام میرا ہی تجویز کردہ ہے، اس سے پہلے ایک ادارے پر پابندی کے بعد اس کو مختلف پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو ایک بین الاقوامی میڈیا ادارہ ’انڈیپنڈنٹ‘ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ آزادانہ صحافت کرتا ہے، ہم نے اس کے جواب میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم آزادانہ کچھ بھی نہیں کر سکتے، ہم انحصار یا تابعداری کرنے پرمجبور ہیں۔ اسی طرح یہ پاکستان میں موجود سینسرشپ پر سیٹائر بھی ہے۔

’دی ڈیپنڈنٹ‘ پر جو سیٹائر لکھا جاتا ہے، اس کے ساتھ بینر پر سامنے وضاحت کی جاتی ہے کہ یہ سیٹائر ہے جبکہ مغرب میں ایسا نہیں ہوتا، اس کی کیا وجہ ہے؟

کنور خلدون شاہد: یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس کے بعد یہ سیٹائر ہی نہیں بچتا، سیٹائر کا مقصد ہی یہی ہے کہ قاری جب تک پوری تحریر نہیں پڑھتا تب تک اس کے پلاٹ یا تھیم تک نہ پہنچ سکے۔ جب مرکزی بینر پر یہ واضح کر دیا جائے گا کہ جو کہانی، مضمون یا تحریر آپ پڑھنے جا رہے ہیں یہ سیٹائر ہے، حقیقت نہیں ہے، تو پھر اس کی ساری اہمیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔

پہلے ہم نے ویب سائٹ کے ٹائٹل کے ساتھ ایک مختصر تحریر میں وضاحت کر رکھی تھی کہ یہ ویب سائٹ سٹیریکل مواد شائع کرتی ہے جبکہ بعد میں مجبوراً ہر تحریر کے مرکزی بینر پر بھی لکھنا پڑا کہ یہ سٹائر ہے۔ جو لوگ اس سے متعلق سمجھتے ہیں انہیں تو اس لکھے سے بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس ملک میں سیٹائر کو کس طرح سے لیا جاتا ہے۔

امریکہ میں مختلف ادارے کام کرتے ہیں جو امریکی صدور کے نام کے خطوط تک بطور سیٹائر لکھ کر شائع کرتے ہیں، وہ اپنے مواد کے ساتھ یہ وضاحت بھی کم ہی کرتے ہیں کہ یہ سیٹائر ہے۔ وہاں عدالت ان ٹینشن دیکھتی ہے جبکہ یہاں ایسا نہیں ہے، یہاں اگر اس طرح سے کیا جائے تو آپ ایک سے دوسری تحریر یا پروگرام نہیں کر سکیں گے۔ بنیادی طور پر سیٹائر کا آغاز طاقتور حکمرانوں پر تنقید کیلئے ہوا تھا لیکن آج پاکستان میں سیٹائر کو ہی طاقتور حکمرانوں کے سامنے سرنگوں ہونا پڑ رہا ہے۔ اس حساب سے روایتی میڈیا پر پابندیوں کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔