خبریں/تبصرے

آل سعود: پاکستان میں مدرسے اور مسجدیں، برطانیہ میں کیمبرج اور ’SOAS‘ کو چندے

فاروق سلہریا

عید سے کچھ قبل یہ خبر نظروں سے گزری کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک وسیع و عریض مسجد تعمیر کرا رہے ہیں۔

یہ خبر نظر سے گزری تو مجھے ’SOAS‘ یاد آیا۔

اگر کبھی لندن کے معروف اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹدیز (SOAS) جانے کا اتفاق ہو تو استقبالیہ ہال میں دیوار پر آپ کو لکڑی کا ایک بڑا تختہ نصب ہوا دکھائی دے گا۔

اس تختے پرسکول کی مالی مددکرنے پر ’SOAS‘ انتظامیہ کی جانب سے سابق سعودی بادشاہ عبداللہ کا شکریہ ادا کیا گیا ہے (جب یہ چندہ دیا گیا تب وہ ولی عہد تھے)۔

بارہ سال پہلے جب میں نے ’SOAS‘ میں داخلہ لیا اور اس اظہار تشکر پر نظر پڑی تو میں حیران رہ گیا۔ اس کے بعد جب بھی اس تختے پر نظر پڑتی تو مجھے سعودیوں کی منافقت یاد آ جاتی۔ ساتھ یہ بھی سوچتا کہ پاکستان میں مدرسے اور مسجدیں (جو طالبان بنانے کی فیکٹریاں ثابت ہوئے) بنوانے والے سعودی ’SOAS‘ کو کیوں چندہ دیتے ہیں؟

انہی دنوں میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ معلوم ہوا ’SOAS‘ ہی نہیں، بہت سی اور یونیورسٹیاں بھی پیٹرو ڈالرز سے مستفید ہوتی ہیں۔

بلاشبہ برطانوی یونیورسٹیوں کی منافقت بھی کم نہیں۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کا سارا بیانیہ پیٹرو ڈالر کے قدموں میں ڈھیر ہو جاتا ہے لیکن میرے ذہن میں ہمیشہ، پاکستان کے سیاق و سباق میں، سعودی منافقت کا یہ عمل زیادہ نمایاں رہتا کیونکہ ان دنوں دہشت گردی عروج پر تھی اور مدرسے کا اس دہشت گردی سے قریبی تعلق تھا۔

مجھے آج تک اس بات کا تشفی بخش جواب تو نہیں ملا کہ سعودی برطانیہ میں یونیورسٹیوں کو کیوں فنڈ کرتے ہیں (شائد امریکہ میں بھی کرتے ہوں)۔ ممکن ہے اس لئے کہ خود ان کی اولادیں ان یونیورسٹیوں میں پڑھتی ہیں۔ بہرحال مائیکل برلی کی کتاب ’بلڈ اینڈ رینج‘ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی ہی نہیں ان کے خلیجی ہم منصب برطانوی جامعات کو 200 ملین پونڈ سے زائد کا چندہ دے چکے ہیں۔ صرف کیمبرج یونیوسٹی کو سعودی عرب نے 2010ء میں 8 ملین پونڈ دئیے۔

یہاں بحث یہ نہیں کہ مساجد اور مدرسے بننے چاہئیں یا نہیں۔ سوال سعودی منافقت اور سیاست کا ہے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں نہ ہاسٹل ہیں نہ کوئی ڈھنگ کی لیبارٹری اور لائبریری۔ اسی طرح، پاکستان میں پہلے لگ بھگ تین لاکھ مساجد ہیں۔ 35 ہزار مدارس ہیں۔ اس ملک کو جدید یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے۔ لائبریریوں اور لیبارٹریوں کی ضرورت ہے…مگر ہمیں فطرانہ بھیجنے والے فطرانہ بھی مفت نہیں بھیج رہے۔

فطرانے کے ساتھ سعودی بنیاد پرستی بھی ارسال کی جا رہی ہے تا کہ یہاں طالبان پیدا ہوتے رہیں۔ غالباً سعودی عرب یہی کردار دیگر مسلم (سنی) ممالک میں ادا کرتا ہے۔

سیدھا سا فارمولا ہے: جتنے طالبان مسلم ممالک میں ہوں گے، اتنا آسان ہو گا سعودی عرب کے لئے اُمہ کی قیادت کرنا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔