تاریخ

فیض اور فلسطین

علی مدیح ہاشمی

’ہمیں تاریخ سے بے دخل کرنے کا منصوبہ ہم نے ناکام بنا دیا ہے‘: فلسطینی شاعر محمود درویش

6 جون 1982ء کو اسرائیلی فوج نے وزیر دفاع ایرل شیرون کی قیادت میں جنوبی لبنان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ برطانیہ میں تعینات اسرائیلی سفیر پر تحریک آزادی فلسطین (پی ایل او) نے قاتلانہ حملہ کیا ہے۔

اسرائیلی منصوبہ یہ تھا کہ پی ایل او کو لبنان سے نکال باہر کریں، لبنان پر شام کے اثر و نفوذ میں کمی لائی جائے اور یہ کہ لبنان میں اسرائیل نواز مسیحی حکومت قائم کر دی جائے۔ ایرل شیرون جن کو بعد ازاں اس خونی حملے کی وجہ سے ’بیروت کا قصاب‘ کہا گیا، ایک سال سے اس اسرائیلی مداخلت کا منصوبہ تیار کئے بیٹھے تھے۔ حملے کا مقصد یہ تھا کہ لبنان میں قائم فلسطینی مہاجر کیمپ تباہ کر دئیے جائیں اور وہاں 200,000 فلسطینی پناہ گیر وں کو فرار پر مجبور کر دیا جائے۔

اس حملے سے قبل فیض نے ایلس فیض کو قائل کر لیا تھا کہ وہ بیروت چھوڑ دیں۔ ایلس فیض نے ہچکچاہٹ کے ساتھ یہ بات مان لی: ”ہمیں معلوم تھا کہ یہ جگہ چھوڑنی ہی پڑے گی۔ میں نے بوجھل دل کے ساتھ کچھ سامان باندھا۔ ہر شیلف کتابوں سے بھری تھی، الماری کپڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ میز پر کتنے ہی مضامین، نوٹس اور تحریریں دھری تھیں۔ کچن میں سودا سلف رکھا تھا۔ ایک قالین تھا جو ہم نے بچتیں کر کر کے خریدا تھا۔ اب ان سب کی جگہ صرف یادیں رہ جانی تھیں“۔

اپنے برطانوی پاسپورٹ کی وجہ سے ایلس فیض کو تو بیروت چھوڑنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ ناکوں پر تعینات اسرائیلی فوجیوں نے انہیں کسی ناکے پر نہیں روکا۔ فیض کا معاملہ البتہ دوسرا تھا۔ کچھ عرصہ قبل وہ یونیسکو کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے جاپان جاتے ہوئے، کراچی ائر پورٹ پر رکے تو انہیں فوج نے گرفتار کر لیا۔ انہیں رہا تو کر دیا گیا مگر اس واقعہ سے یہ طے ہو گیا کہ پاکستان میں قائم ضیا آمریت کے اس دور میں انہیں ’ناپسندیدہ شخص‘ کا درجہ حاصل تھا۔

بیروت میں صورت حال بگڑتی جا رہی تھی۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ ان دنوں بیروت میں فیض پر کیا گزری۔ جس اپارٹمنٹ کمپلیکس میں وہ فلیٹ تھا جہاں فیض اور ایلس فیض رہتے تھے، اسرائیلی حملے سے قبل اس پر بمباری کی گئی۔ وہ عمارت تقریباً پوری ہی تباہ ہو گئی تھی۔ ان کی جان شدید خطرے میں تھی لیکن ان کا ڈرائیور انہیں وہاں سے نکال لایا اور انہیں معین بسیسو کے گھر پہنچا دیا (معین بسیسو فلسطینی شاعر اور یاسر عرفات کے دوست تھے)۔

فیض بیروت چھوڑنا تو نہیں چاہتے تھے مگر پی ایل او کی قیادت نے انہیں بتایا کہ ان کا نام مطلوب افراد کی اس فہرست میں شامل ہے جو اسرائیل نے تیار کر رکھی ہے۔ گویا ان کی جان کو شدید خطرہ تھا۔ انہیں بیروت سے ہر حال میں نکلنا تھا۔

بعد ازاں ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے فض نے بتایا: ”لوگوں سے کہا گیا کہ شہر چھوڑ دیں مگر ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ دشمن کے ہاں پناہ لی جائے سو ہم وہیں پڑے رہے۔ اس کے بعد سب راستوں کی ناکہ بندی ہو گئی۔ 24 یا 25 جون کی رات اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے ایک دوست نے پیغام بھیجا کہ اگلے روز وہ اپنے خاندان کے ہمراہ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو ان کے ہمراہ جا سکتے ہیں۔ ہم پی ایل او کے دوستوں کے ہمراہ رہ رہے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ ہم شہر چھوڑ دیں کیونکہ وہ ہماری حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے بھی حامی بھر لی۔ راستے میں جگہ جگہ اسرائلی فوجیوں اور حزب الکتائب (اسرائیل نواز کرسچین ملیشیا) کے ناکے تھے۔ انہوں نے ہمیں روکا بھی مگر ہمارے دوست کے پاس اقوام متحدہ کا پاسپورٹ تھا اور وہ ہر ناکے پر بتاتے کہ ان کے اہل خانہ بھی ہمراہ ہیں۔ دو گاڑیاں تھیں۔ ایک میں وہ خود سوار تھے۔ دوسری میں بچے۔ ہم بچوں والی گاڑی میں تھے۔ انہوں نے سوچا ہو گا کہ ہم بچوں کے دادا وغیرہ ہیں۔ ہمیں چھ دفعہ روکا گیا مگر کسی نے ہم سے پاسپورٹ نہیں مانگا۔ بیروت سے نکلے تو شمال میں طرابلس کا رخ کیا۔ وہاں سے حمس (شام) پھر دمشق سے ہوتے ہوئے لندن پہنچ گئے“۔

بیروت میں گزرے ہوئے آخری دنوں بارے کہا کرتے تھے: ”وہ دن بہت خوفناک اور دہشت زدہ کر دینے والے تھے۔ ہر وقت بمباری ہوتی رہتی تھی۔“ بیروت میں قیام نے فیض پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ ان کے آخری شعری مجموعے میں شامل ان کی ایسی کئی نظمیں شامل ہیں جن میں اہل فلسطین کی جدوجہد بارے ان کے جذبات کی ترجمانی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ”عشق نے اپنے مجرموں کو پا بہ جولاں لے چلا“، ”فلسطینی شہدا جو پردیس میں کام آ ئے“ اور ”فلسطینی بچے کے لئے لوری“ ایسی نظمیں ہیں جن میں فیض نے فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم پر اپنے دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔

یہ جاننا بھی اہم ہے کہ فیض کے لئے یہ نظمیں محض ان تاثرات کا اظہار نہیں جو انسان دور سے مشاہدہ کر کے قائم کرتا ہے۔ یہ شاعری ان کے دل کی آواز تھی کیونکہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ رہ رہے تھے، ان کی خوشی اور غم، ان کے خوف اور غصے میں شامل تھے۔ اہل فلسطین نے بھی فیض کے جذبات کی بے انتہا قدر کی۔

1981ء میں جب فیض کی 70 ویں سالگرہ منائی گئی تو یاسر عرفات نے خصوصی خط ارسال کیا: ”محترم شاعر اور برادر عزیز فیض احمد فیض! آپ کی شکل میں فلسطینی لوگوں کو ایک ایسا شاعر نصیب ہوا ہے جو ترقی پسند ہے، عالمی شاعر ہے، عالمی امن کے لئے ان تھک جدوجہد کرنے والا کارکن ہے اور آزادی و خوشحالی کے لئے جدوجہد کرنے والے مظلوم عوام کا ساتھی ہے۔ ہم عرب فلسطینیوں کو آپ کی دوستی پر فخر ہے۔ آپ کے گہرے شعور، اہل فلسطین اور ان کی جائز جدوجہد میں آپ کی معاونت کرنے پر ہمیں آپ پر فخر ہے۔ اہل فلسطین خاص کر فلسطینی بچوں اور انقلابیوں کے لئے آپ نے جو دلسوز اور بہترین نظمیں کہیں وہ ہمیشہ برادرانہ اور سچی محبت کی مثال بن کر ہمیشہ زندہ رہیں گی“۔

فیض نے اس خط کا جواب اس طرح دیا کہ اپنے شعری مجموعے ”میرے دل میرے مسافر“ کا انتساب یاسر عرفات کے نام کر دیا۔ ایک بار میں نے اپنی خالہ سلیمہ ہاشمی سے پوچھا: آخر فیض نے جلا وطنی کے لئے جنگ زدہ بیروت کا انتخاب ہی کیوں کیا۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے۔ دل کا عارضہ بھی لاحق تھا۔ مسلسل سگریٹ نوشی کی وجہ سے سانس کی بیماریاں بھی لاحق تھیں۔ ’ریٹائر‘ زندگی گزارنے کے لئے کوئی پرسکون جگہ بھی تو ہو سکتی تھی جہاں وہ زندگی کے باقی دن گزار دیتے۔ اگر وہ پاکستان نہیں بھی آ سکتے تھے (گو وہ دو سال بعد 1982ء میں واپس آ گئے تھے) اور ملک بھی تو تھے جو انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے تیار تھے“۔

سلیمہ ہاشمی کے جواب نے سب باتوں پر روشنی ڈالی: ”بات یوں ہے کہ بیروت سارے مشرق وسطیٰ کے جلا وطنوں کی پناہ گاہ تھا۔ کویت، شام، عراق۔ پھر یہ کہ انہیں بیروت سے ہی نوکری کی پیش کش کی گئی تھی۔ گو ان کی تنخواہ بہت کم تھی مگر ان کا دل فلسطین کے لوگوں کے لئے دھڑکتا تھا۔ یہ بات بھی تھی کہ بیروت وہ جگہ تھی جہاں سے وہ اس مقام کے قریب تھے جو اصل جدوجہد کا مرکز تھا۔ اس کے علاوہ بیروت میں ہی ان کی محمود درویش، ادونس اور معین بسیسو جیسے عرب دنیا کے عظیم دانشوروں اور شاعروں سے ملاقات ہوئی۔ عرب دنیا کے کئی جلا وطن صحافی بھی انہیں بیروت میں ہی ملے۔ دنیا بھر کے باغی ان دنوں بیروت میں جمع تھے اور شائد اسی وجہ سے بیروت انہیں اپنا اپنا سا لگا۔ پھر یہ کہ ایفرو ایشین لکھاریوں کے میگزین کا خیال بھی انہیں پسند آیا۔ وہ ایفرو ایشین رائٹرز ایسوسی ایشن کے بانیوں میں ہی شامل نہیں تھے بلکہ کئی سال اس کی قیادت میں بھی شامل رہے۔ اس تنظیم کے تحت شائع ہونے والے میگزین کا ایک ایڈیشن عربی میں شائع ہوتا تھا (یہ میگزین، لوٹس، ایفرو ایشین رائٹرز ایسوسی ایشن کا سرکاری ترجمان تھا) عرب ایڈیشن کی ذمہ داری معین بسیسو نے لے رکھی تھی۔ فرانسیسی میں ایڈیشن تیونس سے شائع ہوتا تھا۔ انگریزی ایڈیشن کے مدیر فیض احمد فیض تھے۔ اگر اسرائیل نے بیروت پر حملہ نہ کیاہوتا اور بیروت تباہ نہ ہوتا تو لوٹس بہت ترقی کرتا“۔

میں نے فیض کی سوانح عمری بعنوان ”انقلاب و محبت“ (Love and Revolution) تحریر کی (مندرجہ بالا اقتباس وہیں سے لیا گیا ہے) جس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ فیض کا اہل فلسطین اور پی ایل او سے کیا تعلق تھا اور ان کے فلسطین بارے کیا جذبات تھے۔

فلسطین مشرق وسطیٰ کے سیاسی بدن کا رستا ہوا زخم ہے۔ فلسطین اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ بدترین مظالم کا شکار لوگ، مراد یہوی، کیسے ظالم بن جاتے ہیں۔ فلسطین یا اہل فلسطین کے حق میں بات کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ یہودیوں پر ہونے والے مظالم سے آنکھیں چرا لی جائیں۔ اسرائیل کی مخالفت سے مراد یہ ہے کہ اس صیہونی سیاسی منصوبے کی مخالفت جس نے پورے خطے حتیٰ کہ اسرائیل کے اپنے اندر تباہی پھیلائی ہے۔

اسرائیل پر ایک نظر دوڑائیے اور آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ معاملہ جوں کا توں نہیں رہے گا۔ مسئلہ فلسطین کا جو ”حل“ بھی ہر آنے والی اسرائیلی حکومت نے لاگو کیا (اور یہ ”حل“ مجھے ہٹلر کے ”فائنل سولوشن“ کی یاد دلاتا ہے) اس کا انجام ہولناک ہی نکلا۔ یہی ہوتا رہے گا تا آنکہ خطے میں رہنے والے ہر فرد چاہے وہ یہودی ہو یا مسلمان اور مسیحی یا کسی اور گروہ سے تعلق رکھتا ہو…اس کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔

یہ جھوٹ کہ سر زمین فلسطین یہودیوں کی آمد سے قبل خالی پڑی تھی، ایک ایسا جھوٹ ہے جس کا پردہ کئی دہائیاں پہلے چاک ہو گیا تھا۔ کئی دہائیوں سے جاری جنگ نے بھی خون خرابے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ خود اسرائیل کے شہری مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔

فلسطینیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں تاریخ سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ہر باضمیر شخص کا فرض ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہو۔


علی مدیح ہاشمی Love and Revolution: Faiz Ahmed Faiz, the Aauthorized Biography کے مصنف بھی ہیں۔

Ali Madeeh Hashmi

علی مدیح ہاشمی ماہر نفسیات اور فیض فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے معتمد ہیں۔