دنیا

اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے تو فلسطین کو کیوں نہیں؟

برنی سینڈرز

”اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے“۔

جب اسرائیل کی حکومت اپنی بے پناہ فوجی طاقت کے ساتھ غزہ سے راکٹ حملوں کا جواب دیتی ہے تو یہ وہ الفاظ ہیں جو ہم ڈیموکریٹ اور ریپبلکن انتظامیہ دونوں ہی سے سنتے ہیں۔

یہ تو واضح ہے کوئی بھی یہ بحث نہیں کر رہا کہ اسرائیل یا کسی اور حکومت کو اپنے دفاع یا اپنے عوام کے تحفظ کا حق حاصل نہیں۔ تو پھر یہ الفاظ ہر سال ہر جنگ کے بعد کیوں دہرائے جاتے ہیں؟ اور کبھی یہ سوال کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ ”فلسطینی عوام کے حقوق کیا ہیں؟“

ہم اسرائیل اور فلسطین میں ہونے والے تشدد کا اس وقت ہی کیوں نوٹس لیتے ہیں جب اسرائیل پر راکٹ گر رہے ہوں۔اس بحرانی کیفیت میں امریکہ کو فوری طور پر جنگ بندی پر زور دینا چاہئے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ حماس کا اسرائیلی آبادی پر راکٹ فائر کرنا بالکل ناقابل قبول ہے، تاہم حالیہ تنازع ان راکٹوں سے شروع نہیں ہوا تھا۔

یروشلم کے پڑوس میں واقع شیخ جراح کے فلسطینی خاندان کئی برسوں سے بے دخلی کے خطرے میں گھرے زندگی گزار رہے ہیں اور جبری نقل مکانی کے لئے بنائے گئے ایک قانونی نظام سے بھی نبردآزما ہیں۔ گذشتہ ہفتوں کے دوران شدت پسند آبادکاروں نے انہیں بے دخل کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔

اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ بے دخلی سیاسی و معاشی جبر کے وسیع تر نظام کا محض ایک حصہ ہے۔ کئی سال سے ہم نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کا بڑھتا ہوا قبضہ اور غزہ میں مسلسل ناکہ بندی دیکھی ہے جس سے فلسطینیوں کی زندگیاں بتدریج اجیرن ہوتی جا رہی ہیں۔ غزہ میں لگ بھگ 20 لاکھ باشندے رہتے ہیں،یہاں 70 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں اور انہیں مستقبل کی کوئی امید بھی نہیں۔

مزید یہ کہ نیتن یاہو کی حکومت اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کو پسماندہ اورخوفناک بنانے میں مصروف ہے، آباد کاری کی پالیسی پر گامزن ہو کر دو ریاستوں کے حل کے امکان کو ختم کر رہی ہے اور ایسے قوانین بنا رہی جو اسرائیل کے یہودی اور فلسطینی شہریوں کے درمیان عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

ان سارے اقدامات کو حماس کے حملوں کا ردعمل نہیں کہا جا سکتا، جو یروشلم میں بے امنی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش یا بدعنوان اور غیر موثر فلسطینی اتھارٹی کی ناکامی تھی، جس نے حال ہی میں انتخابات کو ملتوی کردیا لیکن اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل ہی ایک خودمختار اتھارٹی ہے، اور وہ امن و انصاف کے فروغ کے بجائے یہاں غیر مساوی اور غیر جمہوری کنٹرول کو فروغ دے رہی ہے۔

اسرائیل میں دائیں بازو کی حکمرانی کے ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران نیتن یاہو نے عدم رواداری اور آمرانہ قسم کی نسل پرستانہ قوم پرستی کو فروغ دیا ہے۔ اقتدار کو طول دینے اور مالی بدعنوانی کے الزام پر قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لئے نیتن یاہو نے ان طاقتوں کو قانونی حیثیت دے دی، ان میں اتمر بن گیویر اور اس کی انتہا پسند یہودی پارٹی کو حکومت میں بھی شامل کیا۔یہ بات حیران کن اور افسوسناک ہے کہ یروشلم کی سڑکوں پر فلسطینیوں پر حملہ کرنے والے نسل پرست جتھے کی اب پارلیمان میں بھی نمائندگی ہے۔

یہ خطرناک رجحانات اسرائیل کے لئے نئے نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں، یورپ میں، ایشیا میں، جنوبی امریکہ میں اور یہاں امریکہ میں، ہم نے اسی طرح کی آمرانہ قوم پرست تحریکوں کا عروج دیکھا ہے۔ یہ تحریکیں نسلی منافرتوں کا استحصال کرتی ہیں تاکہ بہت سارے لوگوں کے لئے خوشحالی، انصاف اور امن کی بجائے بدعنوان افراد کے لئے طاقت پیدا کی جا سکے۔ گزشتہ چار سال وائٹ ہاؤس میں ان تحریکوں کا ایک حامی بھی مقیم رہا۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم کارکنوں کی ایک نئی نسل کے عروج کو دیکھ رہے ہیں جو انسانی ضرورتوں اور سیاسی مساوات پر مبنی معاشروں کی تشکیل چاہتے ہیں۔ ہم نے گذشتہ موسم گرما میں امریکی کارکنوں کو جارج فلائیڈ کے قتل کے تناظر میں امریکی گلیوں میں دیکھا سرگرم دیکھا۔ ہم انہیں اسرائیل میں دیکھتے ہیں۔ ہم انہیں فلسطینی علاقوں میں دیکھتے ہیں۔

ایک نئے صدر کے ساتھ اب امریکہ کے پاس دنیا کے لئے ایک نیا نقطہ نظر تشکیل دینے کا موقع ملا ہے۔ جو عدل و انصاف اور جمہوریت پر مبنی ہے۔ چاہے اس سے غریب ممالک کو اپنی ضرورت کی ویکسین حاصل کرنے میں مدد مل رہی ہو، دنیا کو آب و ہوا کی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے یا پوری دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں مدد فراہم کرنا ہو، امریکہ کو باہمی تعاون کو فروغ دے کر تنازع پر رہنمائی کرنا ہوگی۔

مشرق وسطی میں، جہاں ہم اسرائیل کو سالانہ 4 بلین ڈالر کی امداد فراہم کرتے ہیں، اب ہم دائیں بازو کی نیتن یاہو حکومت اور اس کے غیر جمہوری اور نسل پرستانہ طرز عمل کے لئے معذرت خواہ رویہ نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں لازمی طور پر راستہ تبدیل کرنا چاہئے اور یکساں نقطہ نظر اپنانا چاہیے، جو شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قانون کو برقرار اور مستحکم بناتا ہو، اسی طرح موجودہ امریکی قانون کے مطابق امریکی فوجی امداد کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

اس نقطہ نظر کے تحت یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اسرائیل کو امن و سلامتی کے ساتھ رہنے کا مطلق حق ہے، لیکن فلسطینیوں کو بھی اتنا ہی حق حاصل ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مستقبل کی تعمیر میں مدد کے لئے امریکہ کا کردار اہم ہے۔لیکن اگر امریکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے بارے میں ایک قابل اعتماد آواز بننے جارہا ہے تو، ہمیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کو مستقل طور پر برقرار رکھنا چاہئے، حتیٰ کہ جب یہ سیاسی طور پر مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں فلسطینی حقوق کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہئے۔ فلسطینیوں کی زندگی کی اہمیت ہے۔

بشکریہ: نیویارک ٹائمز