نقطہ نظر

پاکستان میں میڈیا مارشل لا نافذ ہے: ناصر زیدی

حارث قدیر

ناصر زیدی کہتے ہیں کہ پاکستان میں صحافت کبھی بھی آزاد نہیں رہی، موجودہ دور تاریخ کا بدترین دور ہے جس میں میڈیا کو سہ طرفی اور نامعلوم شکنجے میں جکڑا گیا ہے۔

ناصر زیدی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے) کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ پاکستان میں آزادی صحافت کی جدوجہد کا ایک بہت بڑا نام ہیں اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں آزادی صحافت کیلئے قید و بند کی صعوبتیں اور کوڑوں کی سزائیں برداشت کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز ’روزنامہ جدوجہد‘ نے ان کا ایک مختصر انٹرویو کیا جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

پاکستا ن میں صحافتی آزادی کو تاریخی طور پر کیسے دیکھتے ہیں؟

ناصر زیدی:پاکستان میں صحافت کبھی بھی آزاد نہیں رہی، 1947ء سے اب تک پاکستان میں پریس پر قدغنیں رہی ہیں۔ 1947ء سے 1957ء تک تو وہی قوانین رائج تھے جو برطانوی نوآبادیاتی دور کے قوانین تھے۔ بعد ازاں صحافیوں کی جدوجہد کے نتیجے میں کچھ قوانین بنائے گئے لیکن آزادانہ صحافت کو کبھی بھی پروان نہیں چڑھنے دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے زمانے میں بھی پریس پر پابندیاں رہیں، مشرقی پاکستان میں اکثریتی حکومتوں کو گرانے کیلئے میڈیا کا سہارا لیا گیا۔ مارشل لاء ادوار میں اخبارات پر پابندیاں لگائی گئیں، ترقی پسند اخبارات پر قبضہ کیا گیا، نیشنل پریس ٹرسٹ بنا کر تمام بڑے اخبارات کو حکومت کے قبضے میں لے لیا گیا۔ ایوب دور میں ہر ضلع اور تحصیل میں انفارمیشن آفیسر خبروں کی مانیٹرنگ کرتے تھے اور خبروں کی اشاعت کے فیصلے کرتے تھے۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء میں بھی پابندیاں عائد کی گئیں، عوام کی آواز بننے والے صحافیوں اور اخبارات کو بند کیا گیا، صحافیوں کو سرکاری اداروں، ٹی وی اور اخبارات سے نکالا گیا۔ ضیاء الحق کے دور میں بھی صحافت مقید رہی۔ نام نہاد جمہوری ادوار میں پابندیوں کی نوعیت تبدیل ہو ئی لیکن پابندیاں ختم نہیں کی گئیں۔ جمہوری ادوار میں اخبارات کو اشتہارات کے ذریعے بلیک میل کر کے حکومت کی حمایت پرمجبور کیا جاتا رہا۔

سنسر شپ کا آغاز کب سے ہوا، ماضی میں سنسر شپ کس نوعیت کی تھی، اب اسکی نوعیت کیا ہے؟

ناصر زیدی:سنسر شپ کی ابتداء بھی 1947ء سے ہی شروع ہو گئی تھی، سنسر شپ کا آغاز قائد اعظم کی اگست کی تقریر سنسر کرنے اور انکی بیماری کی خبر سنسر کرنے سے کیا گیا۔ ایوب دور میں ضلعی اور تحصیل آفیسر اطلاعات اخبارات کی اشاعت سے قبل خبروں کی منظوری دیتے تھے۔ ضیاء دور میں تاریخ کا طویل ترین سنسر شپ رہا، روزانہ اخبار سنسر کروانے کیلئے انفارمیشن آفس جاتا تھا۔ ایک افسر تمام اخبارات کے صفحات دیکر کر ’نا پسندیدہ‘ خبروں پر نشان لگاتا تھا اور اخبار مالکان یا ایڈیٹرز وہ خبر ہٹا دیتے تھے۔ ابتدائی طور پر وقت کی قلت کی وجہ سے کچھ اخبارات سنسر کی گئی خبروں کی جگہ خالی چھوڑ دیتے تھے، بعد ازاں احکامات آئے کہ جگہ خالی بھی نہیں رکھی جائیگی۔ ضیاء الحق کے دور میں قرآن کی آیات تک سنسر شپ کی نظر ہوئیں۔

موجودہ وقت اور نوازشریف حکومت کے آخری 3سالوں کو مد نظر رکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ نے پہلی مرتبہ بیک گراؤنڈ میں رہتے ہوئے میڈیا کو کنٹرول کرنیکی کوشش کی۔ وزارت اطلاعات کی بجائے کہیں اور سے احکامات آنے لگے، اخبارات کے خلاف کارروائی کی گئی، اشتہارات بند کئے گئے، بیشمار صحافی نکالے گئے، کالم بند ہوئے، پروگرام بند ہوئے، ٹی وی چینلز پر ریکارڈ شدہ پروگرام آتے ہیں، لائیو پروگرام بہت کم آتے ہیں، پروگرامات کو چیک کیا جاتا ہے اور کوئی اعتراض ہو تو روک دیا جاتا ہے۔ یہ دور بدترین اس لئے ہے کہ یہ سنسرشپ غیر اعلانیہ ہے۔

اس پالیسی کی وجہ سے اخبارات اور میڈیا انڈسٹری میں مالیاتی بحران آیا، 7سے 8ہزار لوگ نوکریوں سے نکالے گئے۔ پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا میڈیا بحران تھا جس میں اتنی وسیع بیدخلیاں ہوئیں۔ ایک آزادانہ موقع سوشل میڈیا کی وجہ سے میسر آیا، بیروزگار صحافیوں نے یوٹیوب چینلز چلانے شروع کئے لیکن اب سوشل میڈیا ریگولیشنز کے ذریعے انہیں بھی کنٹرول کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ میڈیا کی آزادی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

آزادانہ صحافت کی کوشش کرنے والوں کو الزامات کا سامنا بھی ہے، اس پر کیا کہیں گے؟

ناصر زیدی: یہ اسٹیبلشمنٹ کا مائنڈ سیٹ ہے کہ پہلے مارو اور پھر یہ کہو کہ ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں اور ایک منظم مہم شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ایک خطرناک طریقہ ہے کہ جو صحافی آزادانہ لکھتا ہے،سچ لکھتا ہے، اسکو دھمکائیں۔ اگر باز نہ آئے تو اس کے گھر میں گھس جاتے ہیں، تشدد کرتے ہیں، راستے میں اغواء کرتے ہیں، مارتے پیٹتے ہیں، جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں، یہ واقعات پے درپے ہو رہے ہیں، ابصار عالم اور اسد طور کا واقعہ ایک مہینے کے وقفے سے ہوا، اسد طور کو مارا بھی، باندھا بھی اور اپنی شناخت بھی بتائی گئی،اس سے پہلے شناخت نہیں بتائی جاتی تھی۔اگر آپ ملوث نہیں ہیں، تو آپکے پاس طاقت ہے، سیف سٹی ہے، سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں، تحقیق کریں اور پکڑ کر سب کے سامنے لائیں کہ یہ لوگ ہیں۔ تحقیق کرنے اور ذمہ داران کو سامنے لانے یا اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے وہی پرانے طریقہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بھارتی ایجنٹ ہیں، کے جی بی کے ایجنٹ ہیں، بیجنگ اور ماسکو سے ہدایات لینے والے ہیں، یہ سب کچھ اخبارات میں لکھا جاتا تھا اور ایک منظم مہم چلائی جاتی تھی۔ یہ طریقہ آج بھی استعمال کیا جاتا ہے، متاثرہ شخص کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سیاسی پناہ لینے کیلئے ایسی حرکتیں کر رہے ہیں، ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں، یہاں تک کہ ریپ کیسز کو بھی مشرف دور میں سیاسی پناہ لینے کا بہانہ قرار دیا جا چکا ہے۔

ماضی میں سنسر شپ اور پابندیوں کیخلاف تحریکیں بھی چلائی گئیں، صحافیوں پر تشدد اور گرفتاریاں ہوئیں، موجودہ وقت اس طرح کی تحریک کیوں نہیں چل سکی؟

ناصر زیدی: ماضی میں تحریکیں چلیں، ایوب خان کے خلاف پروگریسیو نیوز پیپرز لمیٹڈ کو مالکان کے حوالے کرنے کی تحریک چلائی گئی، اخبارات میں ورکنگ انوائرنمنٹ کیلئے جدوجہد کی گئی، تنخواہوں کیلئے قانون سازی ہوئی، مارشل لاء حکومتوں میں ان کے جبر کے خلاف جدوجہد ہوئی، یحییٰ خان کے زمانے میں ملک گیر اور انتہائی کامیاب ہڑتال ہوئی۔ پورے 7روز تک مشرقی اور مغربی پاکستان میں اخبارات بند رہے۔ گو دائیں بازو کے کچھ اخبارات شائع ہوئے،کال کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی، یونین کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس دور کی جدوجہد اور موجودہ وقت کی جدوجہد میں فرق ہے۔ ماضی میں ٹارگٹ سامنے نظر آتا تھا، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے خلاف جدوجہد کی جاتی تھی، آئینی، شہری حقوق کی بحالی اور میڈیا کی آزادی کیلئے جدوجہد کی جاتی تھی۔ اس وقت وزارت اطلاعات کے ذریعے یہ سب کچھ ہوتا تھا۔ اب نامعلوم عناصر سیاست میں شامل ہو گئے ہیں، ان قوتوں کا کردار بڑھ گیا ہے، جو انہوں نے بزور طاقت حاصل کیا ہے۔ پابندیوں کے طریقے بھی مختلف ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ظلم و جبر کے خلاف صحافیوں کو موبلائز کیا جائے، ٹریڈ یونینز، سیاسی قوتوں اور سول سوسائٹی کو موبلائز کر کے ایک وسیع اتحاد تشکیل دیا جائے۔ کیونکہ نہ اقلیتیں محفوظ ہیں، نہ سول سوسائٹی محفوظ ہے، نہ شہری آزایاں ہیں، نہ آئین کی حکمرانی ہے، نہ پارلیمنٹ کی بالادستی ہے، حکومت سرنڈر کرچکی ہے۔ یہ نظام اب ناکام ہو چکا ہے، یہ نظام اب نہیں چل سکتا، اسے تبدیل ہونا چاہیے۔ ایک ایسا قابل قبول نظام ہونا چاہیے جس میں معاشی ناہمواری نہ ہو، مزدورو ں اور کسانوں کو حقوق ملیں اور ایک ترقی پسند معاشرہ جنم لے۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام جمہوری اور ترقی پسند قوتیں ایک وسیع تر اتحاد میں جمع ہو کر کم سے کم مشترکہ پروگرام پر جدوجہد کا آغاز نہ کریں۔

ترقی پسند نظریات کی بنیاد پر اس نظام کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنیکی کتنی ایک گنجائش ہے؟

ناصر زیدی: نئی نسل اورماضی میں جدوجہد کرنے والے وہ لوگ جو مارکسزم کو سچ سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ مارکسزم میں کوئی خامی نہیں ہے، انہوں نے جب معروضی حقائق سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا تو بائیں بازو نے دوبارہ طاقت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ لیبر تحریک ہو، طلبہ کی تحریک ہو یا صحافیوں کی تحریک ہو، اس میں بائیں بازوں کے لوگ صف اول میں ہیں۔ ایک بہتر صورتحال ترقی پسند دوستوں کی کاوشوں سے ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ طویل عرصہ کے بعد طلبہ یونین کی بحالی کیلئے ترقی پسند طلبہ نے تحریک شروع کی تو انہیں ملک بھر میں بہت بڑی پذیرائی ملی۔

پوٹینشل موجود ہے، ہمیں اپنے آپ کو مظلوم طبقات کیساتھ جوڑنا ہوگا، معاشی مسائل اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں، بیروزگاری اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ مسائل کا انببار عوام پر مسلط ہو چکا ہے۔ انہیں اس بحران سے نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ایک ترقی پسند سوچ کے ساتھ پارٹی ابھر کرسامنے آئے اور مظلوم طبقات کی قیادت کرے۔ یہی ایک واحد راستہ ہے، اس بحران سے نکلنے کا۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔