سوچ بچار

”نمک حرامی“ کا دوسرا پہلو

شعیب گنڈاپور

جنگ زدہ افغان قوم پر اپنے ملک کے کیے گئے احسانات کے حوالے سے جو احساسِ برتری بعض پاکستانیوں میں پایا جاتا ہے وہ کرکٹ ورلڈ کپ کے آغاز سے مزید واضح ہو کر سامنے آیا ہے۔ افغانستان پر نچھاور کی گئی اپنے ملک کی فراخدلی پر سینہ پھلائے کچھ پاکستانی افغان کرکٹ ٹیم کی ہر کامیابی کا مکمل کریڈٹ وصول کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ زیادہ تر افغان کھلاڑیوں نے کرکٹ تب سیکھی جب وہ پاکستان میں پناہ گزین تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماضی میں افغان کرکٹ بورڈ کو اس کھیل کے فرغ میں مدد دی۔ مگر چونکہ ہمارے خطے میں سیاست زندگی کے ہر شعبے کی طرح کھیل کے میدان پر بھی اثرانداز ہوتی ہے‘ افغان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ گراؤنڈز اوردوسری سہولیات کے لئے ہندوستان سے رجوع کیا تاکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا جاری رکھ سکیں۔ دوسری طرف پاکستان میں افغانوں کو کئی سالوں سے دیئے جانے والے ’نمک حرامی‘ کے طعنے نے مزید زور پکڑ لیا۔

افغان شہریوں کو نمک حرام کہنے والے وہاں سے آئے مہاجرین پر کیے گئے اپنے احسانات گنواتے نہیں تھکتے مگر وہ اس جنگ کو بھڑکانے میں پاکستان کے حکمرانوں کے کردار کو بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے مہاجرین بے گھر ہوئے۔ ’تذویراتی گہرائی‘ کا پیچھا کرتے ہوئے اور افغانستان پر غیر ملکی یلغار میں فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر کے پاکستانی حکمرانوں نے وہ حالات پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی وجہ سے افغانستان کے لوگ اپنے گھر بار سے ہاتھ دھوکر جان کی امان تلاش کرنے میں سرگرداں ہوئے۔ ایسے میں یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا ان مہاجرین سے تشکر اور احسان مندی کی توقع بجا ہے جن کے گھر جلانے اور انہیں مہاجرین بنانے میں پاکستانی حکمرانوں کا ہاتھ ہو؟

ایک موقف یہ آتا ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں کے واقعات کو الگ سے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ دونوں ہمسایوں کے تعلقات روزِ اول سے ہی خراب رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں شمولیت کے وقت افغانستان نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا کیونکہ وہ ڈیورنڈ لائن کو جائز سرحد نہیں مانتے تھے۔ڈیورنڈ لائن، جو کہ برطانوی سامراجی دور کی وراثت ہے، نے اس سامراج کی کی ہوئی دوسری تقسیموں کی طرح ایک ہی رنگ و نسل کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔ افغانستان نے ماضی میں پشتونستان کے تصور کی بھی حمایت کی(مگر وہ تصور کبھی کسی قابلِ ذکر تحریک کی صورت میں ڈھل نہ سکا)۔

یہ سب کچھ ہوا مگر کیا ان باتوں کا موازنہ اس لامتناہی سانحے سے کرنے کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے جو افغان قوم پر گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے مسلط کیا گیا ہے؟ انسانی جانوں کے زیاں، ایک تمدن کے مٹ جانے اور لاکھوں لوگوں کے اپنی جڑوں سے جدا ہونے کی صورت میں پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانا ہی ناممکن ہے۔

پاکستان میں سرکاری طور پر پڑھائی جانے والی کہانی کچھ یوں ہے کہ سوویت یونین نے ہمارے برادر اسلامی ملک پر قبضہ کرنے کی غرض سے جارحیت کی جبکہ ان کا اگلا ہدف پاکستان اور اس کے گرم پانیوں کا ساحل تھا۔ پاکستان نے مجاہدین کی مدد اور تربیت کی تاکہ ہمارے افغان بھائیوں کو ’ملحد کمیونسٹوں‘ سے بچایا جا سکے۔ ایسا کرتے کرتے پاکستانی خفیہ اداروں نے دنیا کی بڑی سپر پاورکو شکست دی جس کی وجہ سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے اور بین الاقوامی سرد جنگ کے خاتمے میں پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔

جو بات اس کہانی میں حذف کر دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومتیں 70ء کی دہائی کے اوائل ہی سے افغان حکومت کے خلاف ایک بنیاد پرست بغاوت تیار کرنے میں متحرک تھیں۔ سوویت افواج کے افغانستان میں داخل ہونے میں ابھی کئی سال باقی تھے۔ ساتھ میں یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ پاکستانی اداروں نے بنیاد پرست باغیوں کے لئے امریکہ سے مدد حاصل کرنے کی تگ و دو بھی سوویت حملے سے کافی عرصہ پہلے شروع کر رکھی تھی۔

اسی کی دہائی جس میں افغانستان میں کھیلی جانے والی سپر پاورز کی جنگ میں لاکھوں جان سے گئے، اس کے بعد بھی اسلام آباد نے افغانستان کی خانہ جنگیوں میں اپنے پسندیدہ گروہوں کی حمایت‘ اسلحے اور جنگجووں کی فراہمی کی صورت میں جاری رکھی۔ ایسا کرتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں نے اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو بھی انتہا پسندی کی طرف دھکیلا۔ امریکی اور سعودی امداد سے چلنے والے مدارس اور ان سے منسلک تربیت گاہیں عسکریت پسندوں کی کھیپ در کھیپ فراہم کرتی رہیں۔ منشیات کا کاروبار پھیلا اور اسلحے کا حصول عام ہوا جو آنے والے سالوں میں انہی ”مجاہدین“ نے پاکستان کے اندر خون خرابہ کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا۔

طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد لوگوں کی زیادہ تر شخصی آزادیاں سلب کر لی گئیں، ان پر سخت پابندیاں لگائی گئیں اور لڑکیوں کی تعلیم منع کر دی گئی۔ طالبان کی طرف سے لگائی جانے والی بہت سی پابندیوں میں سے ایک پابندی کرکٹ کے کھیل پر بھی تھی۔

امریکہ کی نام نہاد ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ شروع ہوتے ہی پاکستانی حکمرانوں نے وفاداریاں بدل کر اپنی سرزمین افغانستان پر بمباری کے لئے پیش کی اور اس کے عوض ڈالر لیے۔ ساتھ ہی ڈبل گیم کی ایک دوغلی پالیسی بھی اپنائے رکھی۔ کیا پاکستان کی طرف سے افغانستان کو دئیے جانے والے ایسے تحائف کے بعد ان سے احسان مندی کی توقع رکھنا تھوڑا نامناسب نہیں؟

کیا ان سب حالات سے افغان رہنما اور جنگی سالار بری الذمہ ہیں؟ ہرگز نہیں۔ لیکن آخر کون سی مظلوم قوم ایسی ہے جس کے کچھ لوگوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے غاصبوں کا ساتھ نہیں دیا؟ لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ بیرونی قوتیں کسی ملک کے اندرونی تنازعات میں مداخلت کر کے اپنے سامراجی منصوبوں کو تقویت پہنچائیں؟

افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگ نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا۔ ایک وقت میں پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی تعداد چالیس لاکھ تک پہنچی۔ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ تقریباً چالیس سال قبل شروع ہوا۔ ان کی ایک نسل نے پاکستان میں ہی آنکھ کھولی اور پاکستان کے علاوہ کسی اور گھر سے وہ واقف نہ تھے۔ مہاجر کی زندگی جیسے دشوار ہوتی ہے ویسے ہی زیادہ تر افغان مہاجرین نے انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزاری۔ مہاجرین کی مدد اور بحالی کے لئے بین الاقوامی اداروں سے امداد آتی رہی مگر اس کی تقسیم میں خرد برد اوربد عنوانی عام تھی۔ پشاور اور کوئٹہ کے بازاروں میں وہ اشیا عام فروخت ہوتی تھیں جو مہاجرین کے لئے بطور چندہ آتی تھیں۔

اس مفروضے کی بنیاد پر کہ غربت اور نا امیدی اکثر لوگوں کو جرائم پیشہ بنا دیتی ہے‘ افغان مہاجرین کو اکثر وارداتوں کے بعد پولیس بطور ملزم اٹھا لیتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے: خیبر پختونخوا پولیس کے اعداد وشمار نے ثابت کیا کہ مجرموں کی شرح مہاجرین میں عام شہریوں کی نسبت زیادہ نہیں تھی مگر پھر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے افغان مہاجرین کو ہراساں کیے جانے میں کمی واقع نہیں ہوئی۔

لندن میں کچھ ایسے افغانوں جنہوں نے کئی سال پاکستان میں بطور مہاجر گزارے تھے، سے ملاقات کے دوران ان کے حالات کے متعلق کچھ معلومات ملیں۔ پاکستان میں رہتے ہوئے بطور مہاجر ان کے لئے ہر معمول کا کام جیسے کرایہ پر گھر لینا، معقول روزگار تلاش کرنا یا بچوں کو سکول میں داخلہ دلانا ایک چیلنج ہوتا تھا۔ اسی جستجو میں کتنے ہی لوگ اپنے پیاروں سے جدا ہوئے۔ کئی بچے سالوں تک سکول سے محروم رہے اور باقی ناکردہ جرائم کی پاداش میں دھرے جانے کے خوف سے اپنی نقل و حرکت محدود رکھتے تھے۔ پولیس اور دوسرے اداروں کو رشوت اور بھتہ دینا بھی ایک عام تجربہ تھا۔ جب مہاجرین کی واپسی کا وقت آیا تو انسانی بنیادوں پر ایسے افغانوں کو مستقل سکونت دینے یا پاکستانی شہریت اپنانے کا کوئی راستہ نہ دیا گیا جنہوں نے زندگی کا سارا یا بیشتر حصہ پاکستان میں گزارا۔

اپنے ملک کے اندر اور باہر اٹھائی گئی بیشمار تکالیف پر جب افغانوں کو پاکستانیوں کی طرف سے نمک حرام کہلائے جانے کی تضحیک بھی سہنا پڑتی ہے تو ان کی طرف سے آنے والے غصے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس بات کا مقصد دوسری طرف سے ظاہر کی جانے والی نفرت کا جواز گھڑنا ہرگز نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ایک قوم کی نفسیات اور جسم پر جب ایسے گہرے گھاؤ پڑتے ہیں تو ان سے تلخی کا پیدا ہونا قدرتی سی بات ہے۔

اسی نظرئیے کو اگر ہم اپنے اوپر لاگو کریں تو دیکھ سکتے ہیں کہ ایسے کئی ممالک ہیں جن کی معاشی مدد پاکستان حاصل کرتا رہا ہے، جہاں پاکستانی روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں اور وہاں کی معیشت سے اربوں کا زرمبادلہ کما کر واپس وطن بھیجتے ہیں۔ ایسے کچھ ممالک نے پاکستان میں شدت پسند عناصر کی مدد کر کے پاکستان کی سماجی ہم آہنگی کو بہت زیادہ نقصان بھی پہنچایا ہے۔ اگر ان ممالک کی ان حرکتوں سے پاکستان کو پہنچنے والے نقصان پر ہم بجا طور پر تنقید کریں تو کیا ہم بھی ان کے حوالے سے نمک حرام بن جائیں گے؟

ضرورت یہ ہے کہ نسلی تعصب اور احساسِ برتری کو ترک کر کے ہمیں اپنے اندر مظلوموں کے لئے ہمدردی پیدا کرنی چاہئے، چاہے وہ مظلوم ہماری قوم کے لوگ ہوں یا ہمارے ہمسائے ہوں۔ زخموں پر مرہم رکھنے اور نفرتوں کو مٹانے کا یہی واحد راستہ ہے۔

Shueyb Gandapur

شعیب گنڈاپور لندن میں مقیم ایک فری لانس لکھاری ہیں جو سیاست، ثقافت، سیاحت اور ادب کے موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے سفر کے دوران اخذ کیے گئے تاثرات کو وہ اپنے انسٹاگرام ہینڈل shueyb1 @ پر شیئر کرتے ہیں۔