دنیا

قیام امن کیلئے افغانستان کو 10 سال تک اقوام متحدہ کے حوالے کیا جائے

فاروق سلہریا

افغان المیہ نئے حادثوں کی شکل میں جاری ہے۔ ملک سے امریکی فوجوں کے انخلا کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظریں کابل پر ہیں۔

پاکستانی ریاست اور میڈیا تو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کابل پر طالبان کا قبضہ اب چند گھنٹوں کی بات ہے۔ امریکہ اور مغرب جس بے رحمی سے گیارہ ستمبر کے بعد حملہ آور ہوئے تھے، اسی بے رحمی سے…بغیر کوئی ذمہ داری لئے…واپس چلے گئے ہیں۔

چین، روس، ایران، انڈیا، ترکی اور وسط ایشیائی ریاستیں کیا پینترا بدلیں گی اب بالکل واضح تو نہیں مگر قرین قیاس ہے کہ ایران طالبان کی حالیہ برسوں میں حمایت کے باوجود کابل میں ان کی حکومت قائم ہوتا نہیں دیکھے گا۔

انڈیا نے بلاشبہ طالبان سے رابطوں کا انکشاف کیا ہے مگر کابل میں انکی آمد دلی کو بالکل قابل قبول نہ ہو گی۔ انڈیا کے وزیر خارجہ نے تین دن قبل روس کا دورہ کیا اور روس سے کہا کہ افغانستان میں تشدد ختم کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

ترکی رشید دوستم دھڑے کی مدد و حمایت تو جاری رکھے گا ہی مگر طیب اردگان کی امریکہ سے یہ سودے بازی کرنے کی کوشش میں ہے کہ ترکی کابل میں سکیورٹی ڈیوٹی سنبھال سکتا ہے بشرطیکہ امریکہ انقرہ کے سر پر پھر سے دست شفقت رکھ دے۔

روس اور چین جو افغانستان سے امریکہ کا انخلا چاہتے تھے، ہرگز نہ چاہیں گے کہ کابل میں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو چین میں ایغور اور چیچنیا میں علیحدگی پسند مسلمان قوتوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہو (افغانستان کے وسط ایشیائی ہمسائے بھی اپنے بارڈر پر امن کے خواہاں ہیں مگر وہ روس اور چین کی مرضی کے خلاف کوئی کردار ادا نہیں کریں گے اور عقلمند ریاستوں کی طرح انہوں نے افغانستان میں مداخلت سے گریز ہی کیا ہے)۔

یوں اگر افغانستان میں بیرونی مداخلت جاری رہی تو خون خرابہ جاری رہے گا۔ پاکستانی میڈیا کی پیش گوئیوں کے برعکس، طالبان کابل پر قبضہ نہیں کر پائیں گے۔ ادہر مرکزی حکومت بھی اپنی رٹ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔

افغان طرز کے متشدد تنازعے کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جنگی سالار زیادہ مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔

افغانستان کے معصوم شہری کب کے اس جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ افغان المئے کو اب ختم ہونا چاہئے۔ اس ملک کو طالبان، ترکی، ایرانی، روس اور امریکہ کی نہیں، امن کی ضرورت ہے۔

امن کا واحد حل یہ ہے کہ تمام غیر ممالک کی مداخلت کو روکنے کے لئے اگلے کم از کم دس سال تک ملک کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا جائے۔ اقوام متحدہ کے دستوں میں کسی ایسی فوج یا ملک کے سپاہی شامل نہ ہوں جو ماضی میں یہاں مداخلت کرتے رہے ہیں۔ تمام ملیشیا (داعش اور طالبان ہوں یا احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم وغیرہ کے پالے ہوئے پیشہ ور قاتل) کو نہتا کیا جائے۔ تمام جنگی سالار اور طالبان یا داعش کمانڈر جنہوں نے جنگی جرائم کئے ہیں، ان پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلایا جائے۔

امریکہ، یورپ اور سعودی عرب اس ملک میں جنگ شروع کرانے پر بھاری جرمانہ ادا کریں جسے ملک کی تعمیر نو کے لئے استعمال کیا جائے۔

دنیا بھر کی مزدور تحریک اور بایاں بازو نہ صرف افغان یکجہتی کے لئے امن مہم چلائیں بلکہ عملی یکجہتی کے لئے ڈاکٹر، نرسیں، اساتذہ،انجینئررز اور ٹیکنیشنز افغانستان میں جا کر وہاں بحالی کے عمل میں کردار ادا کریں۔ گیارہ ستمبر کے بعد اس طرح کی بعض شاندار مثالیں دیکھنے کو ملی تھیں۔ ان روایات کو پھر سے زندہ کیا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر نے افغانستان میں یا تو بربادی پھیلانے میں حصہ لیا (اکثر سامراجی اورمسلم ممالک اس کام میں شامل رہے) یا تماشا دیکھا ہے۔ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے۔ اگر افغانستان جلے گا تو دھواں ہر طرف پھیلے گا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔