نقطہ نظر

ایران کے 11 صوبوں میں ہڑتال: ٹریڈ یونینسٹ بہرنگ زندی سے خصوصی انٹرویو

حارث قدیر

بہرنگ زندی کا کہنا ہے کہ ایران میں تیل، پیٹروکیمیکل، گیس اور بجلی گھروں کے عارضی مزدوروں کی ہڑتال کو دنیا بھرمیں نیو لبرل پالیسیوں کا شکار محنت کشوں کی حمایت اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ بہرنگ زندی ایرانی نژاد ترقی پسند صحافی ہیں، وہ اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں اور ایران کے امور پرگہری نظر رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ’روزنامہ جدوجہد‘ نے انکا ایک خصوصی انٹرویو کیا جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

تیل کارکنوں کی ہڑتال کس طرح شروع ہوئی اور یہ کتنی وسیع ہے؟

بہرنگ زندی: تیل، پیٹروکیمیکل، گیس اور بجلی گھروں میں عارضی معاہدوں کے تحت کام کرنے والے کارکنوں کی ہڑتال گزشتہ ماہ 20 جون کو شروع ہوئی۔ کسی بھی مسئلے سے پہلے میں عارضی کنٹریکٹ ورکرز کے اس تصور کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ ان مزدوروں کی تعداد 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب ہے جو تیل اور پیٹروکیمیکل صنعتوں میں سب سے کم اجرت حاصل کرتے ہیں۔ ایران میں وزارت تیل کے مطابق وزارت محنت ان معاہدوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ وزارت تیل نے ان گنت ٹھیکیداری کمپنیوں سے مزدوروں کی بھرتی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی تعمیر کیلئے معاہدہ کر رکھا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ٹھیکیدار مزدوروں کے خلاف سخت ناانصافیاں برتتے ہیں، آرام کے دنوں میں کمی کر کے 6 دن تنخواہ سمیت تعطیل دینے، کم اجرت اور جاب سکیورٹی نہ ہونے جیسے مسائل کا مزدوروں کو سامنا ہے۔ ان مسائل کے علاوہ پیٹرو کیمیکلز اور آئل پراجیکٹس پر کام کرنے والے مزدوروں کیلئے دوران کام سیفٹی کے معیار، مناسب رہائش اور صفائی ستھرائی کا فقدان ہے۔ جنوبی ایران میں گرمی کی وجہ سے ان مزدوروں کو اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر کام کرنا پڑتا ہے۔ مزدوروں کا یہ احتجاج ایران میں نجکاری کی بے ہنگم پالیسیوں کے خلاف ہے۔ ان پالیسیوں کو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کے دور اقتدار 1989ء سے 1997ء کے دوران واضح طور پر نافذ کیا گیا تھا۔ ایران کی معیشت کی وسیع تر نجکاری آئین میں شامل ہے اور اس کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ درحقیقت اس تصور کے برخلاف کہ ایران خود کو سامراج مخالف اور سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے مخالف دنیا کے ایک حصے کے طور پر پیش کرتا ہے، عملی طور پر ایران نجی املاک کا ایک مضبوط محافظ اور سامراجی نظام کا ایک تذویراتی اور تاریخی اتحادی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہم نے یہ اتحاد عراق اور افغانستان پر امریکی اتحادیوں کے حملے میں دیکھا تھا۔ مزدوروں کے احتجاج میں خاص طور پر بقایا جات کی ادائیگی، سرکاری ملازمین کی اجرت کے برابر اجرت میں اضافہ، 20 دن کام کے بعد 10 دن تعطیل اور تیل منصوبوں پر ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ عارضی مزدوروں کے اہم مطالبات میں شامل ہیں۔

کیا دوسرے شعبوں کے ایرانی مزدوروں کی جانب سے بھی کوئی یکجہتی کی جا رہی ہے؟

بہرنگ زندی: تیل مزدوروں کی ہڑتال اور پیٹروکیمیکل صنعتوں پر کام کی بندش کے 22 روز بعد ’ہفت تپہ‘ شوگر کین کمپنی میں ہڑتال کا آغاز ہو گیا ہے۔ ہفت تپہ مشرق وسطیٰ میں گنے کی سب سے بڑی پیداوارکرنے والی کمپنی ہے۔ عالمی منڈی میں چین کے داخل ہونے کے بعد ایران میں اس کمپنی کی ملکی پیداوار سے سستی مصنوعات فراہم کی جا رہی تھیں، جس کے نتیجے میں یہ کمپنی 2007ء سے معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایک طرح سے اس وقت ہفت تپہ شوگر کمپنی حکومت کی ملکیت تھی، تاہم 2015ء میں اس کی نجکاری کر دی گئی تھی۔ جب نجی شعبے نے کمپنی کا کنٹرول سنبھالا تو مزدوروں کے معاہدوں پر عارضی طو رپر تاخیر کی گئی تھی اور مزدوروں کی اجرت کی ادائیگی میں بھی تاخیر ہوئی تھی۔ اس مسئلے کی وجہ سے مزدوروں نے احتجاج اور ہڑتال کا آغاز کر دیا۔ 6 ماہ کے احتجاج سے مزدوروں کا حاصلات ملیں اور وہ کمپنی کے نجی مالک کو بے دخل کرنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن بدقسمتی سے حکومت تخریب کاری کر رہی ہے اور اس کمپنی کے کام کے تعین کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ایک طرح سے تیل کے کنٹریکٹ ملازمین اور ہفت تپہ شوگر کمپنی کے مزدور نیو لبرل پالیسیوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ میونسپلٹی کے ملازمین اور پنشنرز کی ہڑتال بھی ایران میں جاری ہے۔

نئی حکومت نے کس طرح کے رد عمل کا اظہار کیا؟

بہرنگ زندی: مزدوروں کی ہڑتال کے خلاف ایران میں حکومتوں کی پالیسیاں ہمیشہ جابرانہ رہی ہیں۔ حکومتوں نے پہلوی عہد اور اسلامی جمہوریہ دونوں کے دوران مزدوروں کو دبانے اور محنت کو مسلسل سستا رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا۔ اس سلسلے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلوی عہد اور اسلامیہ جمہوریہ کے دوران مزدوروں کو پھانسیاں دی گئیں، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ تاہم اس مرتبہ صورتحال مختلف ہے اور حکومت سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ذریعے کارکنوں کو جلد دبا نہیں سکتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ 11 صوبوں میں وسیع پیمانے پر ہڑتال ہے، جس نے 104 سے زائد تیل کی کمپنیوں اور مراکز کو متاثر کیا ہے۔ دوسری طرف اس ہڑتال میں حصہ لینے والے مزدوروں کی تعداد تقریباً 90 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ مزدوروں کی اس بڑی تعداد میں شرکت نے اس ہڑتال کو گزشتہ 4 دہائیوں میں ایران کی سب سے بڑی مزدور ہڑتال قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے کسی بھی جابرانہ طریقہ سے حکومت کیلئے اس ہڑتال کو دبانا عملی طورپر ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف نجی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں نے ایران کی تیل کی صنعت کو تباہ کر دیا ہے۔ کچھ معاملات میں ان کمپنیوں نے سرکاری خزانے کو تیل فروخت کرنے کی قیمت بھی ادا نہیں کی۔ ان کمپنیوں کے پاسداران انقلاب جیسے بااثر اور طاقتور فوجی مراکز کیساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ عملی طور پر مزدوروں کے پاس قانونی جنگ لڑنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے جنگ کے بعد ایک ’خاتم الانبیا‘ کے نام سے فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔ اس اڈے میں مختلف ہولڈنگ کمپنیاں شامل ہیں جو اس فوجی اڈے کے بیشتر صنعتی اور تیل منصوبے انجام دیتی ہیں۔

ہڑتال کے آغاز سے کچھ دن قبل ایران میں کم ٹرن آؤٹ کے حامل انتخابات ہوئے، اس تناظر میں اس ہڑتال کی کیا اہمیت ہے؟

بہرنگ زیدی: اس احتجاج میں نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا آغاز ایرانی تاریخ کے ایک متنازعہ انتخابات کے ایک دن بعد ہوا۔ صدارتی انتخابات کے 13 ویں دور میں 50 فیصد سے کم ٹرن آؤٹ ہوا۔ ابراہیم رئیسی ایران میں قانونی اداروں کے تعاون سے صدر منتخب ہوئے کیونکہ وہ عدلیہ کے سربراہ تھے۔ ابراہیم رئیسی اس وفد کے ممبران میں سے ایک تھے جو 1988ء میں تہران اور کاراج میں سیاسی قیدیوں کو پھانسی دینے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ 1988ء میں ابراہیم رئیسی کی زیر صدارت ملٹی منٹ مقدمات کی سماعت میں تقریباً 5 ہزار قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔

دوسری طرف ابراہیم رئیسی کا پاسداران انقلاب کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے نجکاری کی حمایت کی اور مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے مزدوروں کو مدد دینے کی پالیسی استعمال کی جو ناکام رہی۔ ایک طرح سے صدارت کا آغاز گزشتہ 40 سالوں میں سب سے اہم مزدورہڑتال کے ساتھ ہے، جو ایک بہت بڑا بحران ہے۔ ایک طرف اسلامی جمہوریہ کے وجود کے باوجود تیل کی کمپنیوں سے نجی شعبہ کی سرپرستی کو ختم کرنا عمل طور پر ناممکن ہے، دوسری طرف مزدوروں کا بنیادی مطالبہ ان کمپنیوں کا خاتمہ ہے۔ ایران میں نئی حکومت کیلئے یہ سب سے بڑا بحران ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میں یہ بھی شامل کرنا چاہوں گا کہ ایرانی تیل کی صنعت کو اس وقت تیل بیچنے میں زیادہ پریشان نہیں ہے۔ اوپیک کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران کی تیل کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف ایران کے پیٹروکیمیکل صنعت نے حالیہ برسوں میں ایران کے دوسرے معاشی شعبوں کے برعکس مثبت ترقی کی ہے، جن کو منفی نمو کا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کیا ہڑتالی مزدوروں کے ساتھ عالمی سطح پر کوئی یکجہتی ہوئی؟ کوئی تفصیلات۔

بہرنگ زیدی: کچھ یونینوں نے پاکستان، افغانستان، لبنان، جرمنی، فرانس، امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں اس ہڑتال کے حوالے سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ہڑتال کرنے والے مزدوروں کے مطالبات پر اظہار یکجہتی کرنے کے علاوہ ان میں سے بیشتر نے اپنے بیانات میں نجکاری کے پالیسیوں کے خلاف ایرانی مزدوروں سے اتحاد اور یکجہتی کی ہے۔ ایک طرح سے آج دنیا بھر کے مزدور ایک خاص قسم کی سیاست کا شکار ہیں۔ بے لگام نجکاری، عارضی معاہدوں کا پھیلاؤ، اجرتوں میں کٹوتی اور معاشرے کو غریب بنانے کی پالیسی جیسے مسائل کا دنیا کے تمام مزدوروں کو مشترکہ طور پر سامنا ہے۔

دنیا بھر اور پاکستان میں ٹریڈ یونینیں اور معاشرے کی دوسری پرتیں اظہار یکجہتی کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟

بہرنگ زندی: میرے خیال میں ایران میں تیل مزدوروں کی ہڑتال کے ساتھ یکجہتی کیلئے سب سے اہم فریضہ مزدوروں کا بین الاقوامی اتحاد قائم کرنا ہے جن کی زندگیاں اور معیشت نیو لبرل پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ مجھے یقین سے نہیں معلوم کہ آیا پاکستانی محنت کش نجکاری کی پالیسیوں کا شکار ہیں یا پاکستان میں کس حد تک نوآبادیاتی پالیسیاں نافذ ہیں، پھر بھی ان سب سے قطع نظر دنیا بھر میں محنت کش استحصال کا شکار ہیں اور نجکاری کے ذریعے سے ان کے مفادات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ چاہے ریاستی معیشت ہی کیوں نہ ہو یہ حکمران معاشی نظام سے متصادم ہے۔ لہٰذا ایرانی اور پاکستانی مزدور تحریکوں کے اجتماعی تجربات کو شیئر کرنا فائدہ مند ہو گا۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔