نقطہ نظر

تبلیغی جماعت کی بوئی فصل جہادی گروہ کاٹتے ہیں

طارق علی

اسلام پرست ایوانِ اقتدار سے ہنوز بہت دور ہیں مگر ان کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تبلیغی جماعت کے مستقل مزاج اور سنگدل طائفے انتہائی موثر ہیں۔ تبلیغ سے مراد ہے”حقیقی اسلام کا پرچار“۔ تبلیغی جماعت اور امریکہ کے بارن اگین عیسائی بنیاد پرستوں کے مابین بے شمارمما ثلت پائی جاتی ہے۔ ہر سماجی پرت کے گناہ گار توبہ کے لئے قطار میں کھڑے نظر آئیں گے۔ پاکستان میں تبلیغی جماعت کا بہت بڑا مرکز رائے ونڈ میں ہے۔ کبھی رائے ونڈ گندم، جوار اور سرسوں کے کھیتوں سے گھرا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اب یہ لاہور کے جدید مضافات میں شمار ہوتا ہے جہاں شریف برادران نے، جب وہ نوے کی دہائی میں بر سرِ اقتدار تھے، اپنے لئے خلیجی طرز کا محل تعمیر کروایا تھا۔ تبلیغی جماعت کی بنیاد انیس سو بیس کی دہائی میں مولانا الیاس نے رکھی تھی جو اتر پردیش کے قصبے دیو بند کے ایک کٹر مدرسے سے فارغ التحصیل تھے۔ ابتدا میں تبلیغی طائفے شمالی ہند تک محدود تھے۔ اب بڑے بڑے طائفوں کی منزل مغربی یورپ اور شمالی امریکہ بن چکے ہیں۔ تبلیغی جماعت کو امید ہے کہ اسے مشرقی لندن میں اس میدان کے قریب ہی مسجد بنانے کی اجازت مل جائے گی جہاں 2012ء میں اولمپکس ہونے والے ہیں۔ یہ یورپ کی سب ے بڑی مسجد ہو گی۔ پاکستان میں تبلیغی جماعت وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم میں اس کا اثر و رسوخ اور کرکٹ ستاروں کو تبلیغی بنانا اس کی معروف ترین کامیابی ہے: انضمام الحق اورمحمد یوسف اندرونِ ملک جبکہ مشتاق احمد برطانیہ میں تبلیغی جماعت کے مفادات کی نگرانی پر معمور ہیں۔ ایک اور کامیابی گیارہ ستمبر کے بعد جنید جمشید کی بھرتی تھی جو پاکستان کے پہلے پاپ گروپ وائٹل سائنز کے کرشماتی لِیڈ سنگر تھے۔ انہوں نے اپنا ماضی تج دیا اور اب صرف نعتیں پڑھتے ہیں۔

تبلیغی جماعت والوں کا کہنا ہے کہ وہ متشدد نہیں ہیں اور ان کا مقصد حقیقی دین کا پرچار ہے تا کہ لوگ اس زندگی میں صراطِ مستقیم پر چل سکیں۔ ہو سکتا ہے یہ بات درست ہو مگر بعض نوجوان لڑکے عقیدے، عبادات اور رسومات سے تنگ آ کر کلاشنکوف کو آزمانے میں زیادہ دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تبلیغی جماعت کی بوئی ہوئی فصل کشمیر اور مغربی سرحد پر مصروف مسلح گروہ کاٹتے ہیں۔

مندرجہ بالا اقتباس طارق علی کی کتاب ’دی ڈوئیل‘ (2008ء) سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ فاروق سلہریا نے ’پرزے ہوئے پیماں کتنے‘ کے عنوان سے کیا۔

Tariq Ali

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔