فن و ثقافت

’صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے‘: حمایت علی شاعر کینیڈا میں انتقال کر گئے…

اسلم ملک

پندرہ جولائی کو ممتاز شاعر حمایت علی شاعر اپنی 93ویں سالگرہ کے اگلے ہی دن کینیڈا میں انتقال کر گئے جہاں وہ اپنے صاحبزادے بلند اقبال کے ساتھ رہ رہے تھے۔ انہیں ٹورنٹو میں سپرد خاک کردیا گیا۔

حمایت علی شاعر 14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی۔ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ 1955ء میں ریڈیو کا حیدر آباد اسٹیشن قائم ہوا تو اس کے بانی کارکنوں میں شامل تھے۔ سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پاکستان میں اردو ڈرامہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔

حمایت علی شاعر نے پہلے افسانہ نگاری اور پھر شاعری کی طرف آئے۔ ان کے شعری مجموعے: آگ میں پھول، مٹی کا قرض، تشنگی کا سفر، اور’ہارون کی آواز‘ شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب ’حرف حرف روشنی‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔

انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی جو ’آئینہ در آئینہ‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ حمایت علی شاعر کی دو نثری کتابیں ’شیخ ایاز‘ اور ’شخص و عکس‘ بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں پر مشتمل ایک نئی صنف ’سخن ثلاثی‘ کی ایجاد ہے۔ ان کا کیا ہوا شاعری کا انتخاب’دود چراغ محفل‘کے نام سے شائع ہوا۔

حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔ وہ حیدر آباد میں دو اخباروں، جناح اور منزل، سے منسلک رہے۔ ٹیلی وژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کیے جا چکے ہیں جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعرا کا اردو کلام’خوشبو کا سفر‘، اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام ’عقیدت کا سفر‘، احتجاجی شاعری کے چالیس سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام’لب آزاد‘، پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام ’محبتوں کے سفیر‘اور تحریک آزادی میں اردو شاعری کا حصہ ’نشید آزادی‘ کے نام سر فہرست ہیں۔ ڈراموں کے مجموعے ’فاصلے‘ اور ’برزخ‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔

جناب حمایت علی شاعر نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جنھیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان فلموں میں: جب سے دیکھا ہے تمھیں، دل نے تجھے مان لیا، دامن، اک تیرا سہارا، خاموش رہو، کنیز، میرے محبوب، تصویر، کھلونا، درد دل اور نائلہ کے نام سر فہرست ہیں۔ انھوں نے دو فلمیں، ’لوری‘ اور ’گڑیا‘، بھی پروڈیوس کیں۔ ’لوری‘ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ حمایت علی شاعر کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی’تجھ کو معلوم نہیں‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

ان کا فلم’مجاہد‘ کے لئے تحریر کردہ قومی نغمہ’ساتھیو! مجاہدو! جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘ جنگ کے پہلے دن ہی ہر ریڈیو اسٹیشن سے گونج رہا تھا۔ یہ نغمہ 4 ستمبر کو ریلیز ہونے والی فلم میں شامل تھا۔ فلم تو کامیاب نہ ہوئی۔ خلیل احمد کی موسیقی سے مزین مسعود رانا، نورجہاں بیگم اور شوکت علی کی آوازوں میں یہ نغمہ جنگ کے پہلے دن سے لے کے آخری دن تک روز بلکہ بار بار ریڈیو سے نشر ہوتا تھا۔ حمایت علی شاعر کو 2002ء میں حکومت ِپاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا۔

حمایت علی شاعر کے کچھ اشعار:

تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی
کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے
کچھ غم محبت ہو کچھ غم جہاں یارو

شاعر ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

بدن پہ پیرہنِ خاک کے سوا کیا ہے
مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے

یہ شہر سجدہ گذاراں، دیارِ کم نظراں
یتیم خانہء ادراک کے سوا کیا ہے
تمام گنبد و مینار و منبر و محراب
فقیہہِ شہر کی املاک کے سواکیا ہے
تمام عمر کا حاصل بہ فضل ربِ کریم
متاعِ دیدہ نمناک کے سوا کیا ہے
جہانِ فکروعمل میں یہ میرازعمِ وجود
فقط نمائشِ پوشاک کے سوا کیا ہے

میں تو سمجھ رہا تھا کہ مجھ پر ہے مہرباں
دیوار کی یہ چھاؤں تو سورج کے ساتھ تھی

دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں
عشق کو عشق سمجھ مشغلہ دل نہ بنا

Aslam Malik

اسلم ملک روزنامہ جنگ کے سینئر سب ایڈیٹر ہیں۔ وہ ستر کی دہائی سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔