سوچ بچار

سر سید احمد خان: قدامت سے جدیدیت تک کا سفر

پرویز ہودبھائی

برصغیر ہندوپاک کے دانشور اور عالم جب کسی شخصیت پر تبصرہ کرنے کی غرض سے اپنا قلم اٹھاتے ہیں تو عام طور پر دو انتہاﺅں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی پسندیدہ شخصیت کی بے دریغ تعریفیں کی جاتی ہیں اوراس شخص کو بے حد قد آور، عظیم اوربے عیب ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کو ایسے خوبصورت الفاظ سے نوازا جاتا ہے کہ قارئین کے سامنے ایسی شفاف تصویر بن کر آئے جس پر کوئی ہلکا سا دھبہ بھی نہ ہو۔ دوسری طرف کسی ناپسندیدہ شخص کے لیے سخت سے سخت کلام سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اوراس کی خوبیوں کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ اردو زبان میں لکھے ہوئے تبصروں اورمضامین میں اعتدال پسندی اور مثبت تنقید کی روایت عام نہیں۔ کیا یہ اس زبان کی کمزوری ہے یا اس کے لکھنے اورپڑھنے والوں کی؟ حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشرے ایک طویل ارتقائی عمل سے گزر کر بنتے ہیں ا ور اسی لیے ان میں ہرقسم کی پیچیدگی اورٹیڑھا پن ہونا ایک فطری بات ہے۔ ان کے اندر تضادات اور اختلافات کی بھرمار بھی ہوسکتی ہے اور اسی لیے انہیں سمجھنے کے لیے مختلف پہلوﺅں کو بیک وقت مدنظر بھی رکھنا پڑتا ہے۔ جس طرح قوس ِقزح میں کئی رنگ پائے جاتے ہیں، اسی طرح ایک فرد کے اندر بھی طرح طرح کے افکار، جذبات اور رجحانات ساتھ ساتھ رہائش پذیر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے تمام پہلوﺅں کاجائزہ لینا ضروری ہے۔ یقینا شخصیت پرستی درست طرز عمل نہیں اور یہ معروضیت اور حقیقت پسندی کے عین منافی ہے۔

سر سید احمد خان (1898-1817ء) برصغیر پاک و ہند کی ایک قد آور اور تاریخ ساز ہستی ہیں جن کے مداحوں کی کوئی کمی نہیں مگر ساتھ ساتھ وہ ایک متنازعہ شخصیت کے طورپر بھی دیکھتے جاتے ہیں اوران کے نکتہ چین بھی کم نہیں۔ انہیں یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ دائیں بازو اور بائیں بازو، دونوں ان پر تنقید کرتے ہیں۔ ایک طرف کچھ لوگ ان کے مسلمان ہونے پر شک کرتے ہیں کیونکہ ان کے مذہبی افکار و نظریات روایتی طرز سے ہٹ کر ہیں۔ ان پر انگریز دوستی کا الزام بھی لگایا جاتا رہا۔ جمال الدین افغانی، جو ان کے ہم عصر تھے، نے بھی سر سید پر کڑی تنقید کی تھی۔ ان کے بقول سر سید ’نیچری‘، انگریزوں کے خدمت گزار اور خان بہادر کے سوا اور کچھ نہیں۔ دوسری طرف بائیں بازو کا اعتراض یہ ہے کہ سر سید نے عورتوں کی پردہ داری کو ضروری قرار دیا تھا اور خواتین کی تعلیم کو مسترد کیا۔ یہ اعتراضات کتنے درست ہیں، اس سے ہمیں سرِدست غرض نہیں۔ معروضیت کا تقاضہ ہے کہ کسی بھی شخص کے کردار پر رائے دینے سے قبل اس زمانے کے سماجی اورسیاسی ماحول سے آشنائی حاصل کی جائے۔

برصغیر پاک و ہند میں انگریز استعماریت کی آمد سے کافی وقت پہلے مسلمان حکومتیں زبوں حالی کا شکار ہوچکی تھیں۔ مغل سلطنتیں اندر سے ٹوٹ پھوٹ رہی تھیں اور اسی لیے سامراجی قوتیں صرف ایک معمولی فوجی نفری کی مدد سے ان کو زیر کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ یاد رہے کہ انگریز نے ہندوستان میں قریباً ڈھائی سو برس راج کیا لیکن اس کی فوج میں پچاس ہزار سے زیادہ نفری کبھی نہ رہی۔ دوسری طرف بڑے سے بڑے لشکر مقابلے کو اٹھے مگر ان کو شکست در شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ مسلمان جو تیغ و تلوار لے کر عرب سے اس خطے میں آئے، انہیں بندوقوں اور توپوں کے سامنے پسپا ہونا پڑا لیکن اس کا سبب صرف بہتر اسلحہ نہیں تھا بلکہ جدید مواصلاتی نظام، دخانی جہاز اور جدید طرز کی حکمت عملی کا بھی بہت بڑا کردار تھا۔ بالآخر فاتح بنے مفتوح اور حاکم بنے محکوم۔

سر سید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا جب مسلمان انگریزوں کے ظلم و ستم کانشانہ بنے ہوئے تھے۔ 1857ء کی جنگ میں مسلمان، انگریز استعماریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لیکن انہیں نہایت بے دردی سے کچل دیا گیا۔ ہر طرف نعشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور وہ جنگ ایک ناکام بغاوت ثابت ہوئی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں پر حالات مزید تنگ ہونا شروع ہو گئے۔ سر سید احمد نے اس صورت حال کو مسلمانوں کے لیے نقصان دہ پایا اور مراد آباد پہنچتے ہی ایک کتابچہ لکھناشروع کیا، جس کا عنوان تھا ’اسباب بغاوتِ ہند‘۔ اس کتابچے میں انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ مسلمان باغی ہرگز نہیں اور وہ حکومت سے وفاداری کا عہد کیے ہوئے ہیں۔ یہ تصور درست نہیں کہ وہ انگریزوں سے نفرت کرتے ہیں البتہ انگریزوں کے امتیازی سلوک کی وجہ سے وہ سخت تکلیف دہ حالات میں مبتلا ہو گئے ہیں اور یہ بغاوت اسی کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں کی بے چینی کی بنیاد ان کا معاشی طورپر بدحالی کا شکار ہونا ہے۔ سر سید کے مطابق اس اضطراب کا تدارک ہونا چاہیے اور اصلاحِ احوال جلد ہونا چاہیے وگرنہ ”مسلمان سائیس، خانساماں، خدمت گار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا اور کچھ نہ رہیں گے۔ “

مگر وہ کیا سبب ہے جس نے مسلمانوں کوپسپائی پر مجبور کر دیا اور یہ کہ حالات کو کیسے سدھارا جائے؟ اس اہم ترین سوال پر بہتوں نے سوچا ہے اور اس کے بہت سے جواب دئیے گئے ہیں۔ سر سید کا اپنا موقف حالات کےساتھ ساتھ بدلتا گیا لیکن منزل و مقصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسلم اشرافیہ کے مفادات کاکیسے تحفظ کیا جائے، یہ ان کی تحریر، تقریر اور عمل کا زندگی بھر محور اور مرکز رہا ہے۔

ابتدائی دور کی روایت پرستی

سر سید احمد خان کا نام جدیدیت اور مغربی سوچ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ اپنی جوانی کا دور ختم ہونے تک وہ روایتی مذہبی فکر کے حامل تھے۔ ان کی پیدائش 1817ء میں دہلی کے ایک متمول گھرانے میں ہوئی جس میں کئی نوکر چاکر تھے۔ سر سید کے والد میر تقی، اکبر ثانی بادشاہ کے دربار میں تنخواہ دار تھے۔ حالات بتدریج بگڑتے چلے گئے اور ایک وقت آیا کہ بادشاہت محض نام کی رہ گئی۔ جن لوگوں کو بڑے بڑے خطابات اورمنصب دیئے گئے تھے، انہیں پہلے کی طرح مراعات اور لوازمات دینا اب ممکن نہ رہا۔ ایسے میں اشرافیہ میں سے بہت سے نوجوانوں نے سرکاری ملازمتوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

سر سید کے والد کے گھر کا ماحول ویسا ہی تھا جیسا کہ اکثر اشرافیہ کے ہاں ہوا کرتا ہے۔ سر سید کی سوانح عمری ’حیاتِ جاوید‘ میں مولانا الطاف حسین حالی نے اس کی پوری تفصیل بیان کی ہے۔ سر سید کے والد نے دہلی کے حضرت شاہ غلام علی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ان کا زیادہ وقت عبادت اور دربار کے پھیروں میں صرف ہوتا تھا۔ دوسری طرف سر سید کی والدہ بھی صوم و صلوة کی سختی سے پابند تھیں اور انہوں نے ہی سر سید کے لیے ایک استانی کا بندوبست کیا تھا۔ اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے مولوی حمیدالدین اور دیگر معلموں سے فارسی اورعربی بھی سیکھی، جس کے بعد وہ بڑے شوق سے مختلف مذہبی کتابیں پڑھنے لگے۔ فتح پور سیکری پہنچنے کے بعد سر سید نے تہیہ کیا کہ جو مذہبی کتابیں انہوں نے پہلے قدرے بے توجہی اور لاپرواہی کے ساتھ پڑھی تھیں، ان پر ازسرنو غور کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ مختلف علمائے کرام سے رجوع کرتے رہے۔

اس مذہبی جوش اور جذبے کا اظہار ہمیں سر سید کی کئی تصانیف میں نظر آتا ہے۔ 1848ء میں انہوں نے ایک کتاب تحریر کی جس کا عنوان ہے ’قولِ متیں درابطال حرکت زمیں‘ جس میں سر سید نے قدیم تصور کے موافق بحث کی کہ زمین دراصل ساکن ہے اورسورج بشمول دیگر ستارے اور سیارگان اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اس مقالے کے حق میں انہوں نے تین دلائل پیش کیے جن کی تفصیلات ایک الگ مضمون کی متقاضی ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے ان دوستوں اور احباب کے اصرار پر لکھی تھی جو جدید فلکی نظریات سے اتفاق نہ کرتے تھے اور جو قرآنی آیات سے یہ استنباط کرتے تھے کہ دراصل سورج حرکت پذیر ہے، زمین نہیں۔ کئی برسوں کے بعد سر سید نے اپنی کتاب اوراس میں درج دلائل کو غلط قرار دیتے ہوئے اپنے مقالے سے برات ظاہر کی۔

سر سید کے ابتدائی زمانے کے مضامین قسم قسم کے مذہبی معاملات کااحاطہ کرتے ہیں۔ ان کے عنوانات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے موضوعات روایتی طرز کے ہیں۔ مثال کے طورپر:

۱۔ ”کلمة الحق“ (پیری مریدی کے مروجہ طریقوں کی مذمت)

۲۔ ”رسالہ راہِ سنت درردِ بدعت“ (اہل حدیث کے مشرب کے موافق سنت کی تائید اور بدعت کے رد میں)

اس زمانے میں سر سید، شیخ احمد سرہندی، سید احمد بریلوی اور شاہ ولی اللہ کے خیالات اور نظریات سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ یہ وہی زمانہ تھا جس میں وہابی تحریک کے اثرات عرب سے یہاں آ پہنچے تھے اور برصغیر کے مسلمانوں میں ہرطرف یہی سوچ آہستہ آہستہ سرایت کر رہی تھی۔ اس امر کا تذکرہ ہمیں چند ایسی کتابوں میں بھی ملتا ہے جو اس زمانے کے انگریز مصنفین کی لکھی ہوئی ہیں۔ مثال کے طورپر:

1- Wahhabies in Delhi in Ledlies Miscellany
(Agra: J. Parks Ledlie, 1852, pp 486-492)

2- The Mohammedan Controversy, William Muir
(T.T Clark, Delhi, 1896, pp 65-101)

اگرچہ سر سید کے ابتدائی زمانے کی مذہبی تحریروں کو کم قارئین میسر آئے، تاہم انہیں مذہبی اور علمی حلقوں کی محفلوں میں دعوتیں ملتی رہتیں تھیں اور وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے تھے۔

یہاں ایک واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

سیرسید کو اکثر مولانا صدرالدین آزردہ کے گھر بلایا جاتا تھا جہاں دہلی کے مذہبی اسکالرز اکٹھے ہوا کرتے تھے۔ ایسی ہی کسی نشست میں ایک دن سر سید کے اس مضمون کو زیر بحث لایا گیا جس میں انہوں نے بدعت کی پہچان اوراس کی اقسام پر روشنی ڈالی تھی۔ ان کا موقف یہ تھا کہ جس عمل کا ذکر قرآن مجید یا حدیث میں نہ ملے، اس سے ہر مسلمان کا گریز کرنا بہتر ہے۔ اس موضوع پر سوال در سوال اٹھتے چلے گئے اور بالآخر بحث اس نکتے پرآن پہنچی کہ کیا ایک سچے مسلمان کے لیے آم کھانا جائز ہے کہ نہیں؟ واضح رہے کہ عرب کے گرم خطے میں آم جیسے پھل کا اگنا ممکن نہ تھا۔ اس بحث پر اپنا تفصیلی موقف دینے کی غرض سے سر سید نے ایک مضمون تیار کیا جو تیس صفحات پر مشتمل تھا اور جس میں مختلف احادیث و روایات کی مدد سے وہ ایک ٹھوس نتیجے پر پہنچے۔ سر سید کے بقول آم کھانا اگرچہ گناہ نہیں اور اسلام کی رو سے اس کی ممانعت بھی نہیں، البتہ اگر کوئی مسلمان اس لئے آم نہیں کھاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا کھانا ثابت نہیں تو یومِ آخرت میں فرشتے اس کے پاﺅں چومیں گے۔ گویا آم نہ کھانا‘ کھانے سے افضل ہے۔

اسلامی تہذیب سے سر سید کا لگاﺅ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ’آئین اکبری‘ جیسی مشکل کتاب کی اصلاح کاذمہ اپنے سر لیا۔ یہ کتاب فارسی، عربی، ترکی، ہندی اور سنسکرت کا ایک مغلوبہ تھی جسے آپ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے مکمل کیا۔ اس کے بعد سر سید نے مرزا اسد اللہ خان غالب سے درخواست کی کہ وہ اس کے لیے ایک تقریظ تحریر فرمائیں۔ غالب دہلی کے نامی گرامی شعرا اور دانشوروں میں شمار ہوتے تھے اور سر سید کو توقع تھی کہ ان کی اس کاوش کو سراہا جائے گا۔ ستم ظریفی کہ سر سید کی امیدوں کے برعکس غالب نے الٹا یہ لکھ دیا کہ اصل تعریف کے قابل تو انگریزوں کے آئین و ایجادات و اختراعات ہیں نہ کہ اکبر اور ابوالفضل کے۔ سر سید اس پر غصے سے بھر گئے اور غالب کی تقریظ شامل کرنے سے انکار کر دیا۔ (مولانا حالی بتاتے ہیں کہ تعلقات کی سرد مہری کو دور کرنے کی خاطر سر سید نے غالب کو اپنے گھر مدعو کیا۔ اس وقت غالب رامپور سے مراد آباد پہنچے تھے اور کسی سرائے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے غالب بمع بوتل اچانک سر سید کے گھرپہنچ گئے۔ مگر یہ اےک الگ کہانی ہے)۔

فکری سفر کا آغاز

ایک ایسا شخص جو مذہبی دلائل کی مدد سے زمین کو ساکت ثابت کرنا چاہتا تھا اور جس کے خیال میں آم کھانا بھی ایک ناپسندیدہ فعل تھا، آخرکار سائنس اور جدیدیت کا سب سے بڑا علم بردار کیونکر بنا؟ جس کی پرورش اور تعلیم و تربیت خالصتاً تنگ اور روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی، وہ ایک کشادہ اورکھلے ذہن کا مالک کیسے بن سکا؟ ان سوالات کامیرے پاس کوئی خاطر خواہ اور حتمی جواب نہیں لیکن ہم اس تبدیلی کے اسباب دو صدیوں پہلے کے سماجی اور سیاسی ماحول میں تلاش کر سکتے ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی کے قلم سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مغل بادشاہتوں کا آفتاب لب بام آگیا تو اس کے بعد دہلی کے رئیس زادے بے راہ روی کا شکار ہو گئے۔ ان کی شامیں مجروں میں بسر ہوتیں جہاں نامور طوائفیں ناچتیں اور گاتیں اور جہاں شراب کے دور چلتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ محض انیس برس کے سن میں سر سید کی شادی کرا دی گئی کہ وہ ایسے ماحول سے پرہیز کر سکیں۔ اس کے باوجود وہ اعتراف کرتے ہیں: ”ہم ابھی اسی رنگ میں مست تھے۔ ایسی گہری نیند سوتے تھے کہ فرشتوں کے اٹھائے بھی نہ اٹھتے تھے۔ “

حالی کے مطابق سر سید نے جس حیرت انگیز طریقے سے خود کو اس دلدل سے نکالا، وہ ان کی اخلاقی طاقت کا سب سے پہلا کرشمہ ہے۔ اس وقت ان کی عمراٹھارہ، انیس برس تھی اور آگے ایک فیصلہ کن موڑ ان کا منتظر تھا۔ کیا اپنی خاندانی ریت اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شاہی دربار میں کوئی عہدہ ڈھونڈا جائے یا پھرانگریز حکومت کے دربار میں کوئی ملازمت تلاش کی جائے؟ میر تقی کے انتقال کے وقت سر سید کی عمر بائیس برس سے کچھ کم تھی اوراب اس نوجوان کو فی الفور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ضرورت آن پڑی چونکہ شاہی خزانے خالی ہو چکے تھے اور بادشاہ خود مقروض تھا، اس لیے سر سید نے انگریز کی قائم کردہ عدالت میں ملازمت قبول کر لی جہاں انہیں سررشتہ دار کا معمولی عہدہ دیا گیا۔ گو کہ شروع میں یہ نوجوان انگریزوں کے قوانین اور دستور سے نابلد تھا، لیکن جلد ہی اس نے ان کے طور طریقے سیکھ لیے اور انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل کر لیا۔ انگریزوں نے اس باصلاحیت اور ذہین شخص کو ترقی دینے میں دیر نہ کی اور یوں سر سید 1839ء میں نائب منشی کے عہدہ پر فائز کر دیئے گئے۔

اس کا کوئی یقینی جواب نہیں مل سکے گا کہ جدیدیت کی جانب سر سید کا علمی اور فکری سفر کس نکتے سے شروع ہوا۔ ایک نئے ماحول کے نئے تقاضے تھے جدھر انگریزوں کی رواروی رہتی تھی۔ ان لوگوں کی صرف زبان ہی مختلف نہ تھی بلکہ طرزِ گفتگو اور سوچ کا انداز بھی الگ تھلگ تھا۔ جب فتح پور سیکری میں سر سید کا تقرر صدر امین کے عہدہ پر ہوا تو انہیں انگریزوں کے ساتھ تبادلہ خیال اور گفت و شنید کے مزید مواقع ملنے لگے۔ آگرہ بھی اکثر جانے کو ملتا تھا اور وہاں بھی وہ طرح طرح کے لوگوں سے ملتے تھے۔ ایک دن ریورنڈ جے جے مور نے انہیں تجویز دی کہ وہ ’میکانیات‘ کی کتاب فارسی سے اردو میں ترجمہ کریں۔ اس تجربے کے بعد سر سید نے کئی دیگر سائنسی کتب کا ترجمہ بھی کیا اور ان کی اس خوبی کے سبب انگریز حکومت نے انہیں ایک بہترین مترجم کے طورپر قبول کر لیا۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ بھی ہوا کہ سر سید سائنس کے بنیادی اصولوں سے بھی آشنا ہوتے چلے گئے۔

انگریز کی نوکری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی تنزلی اور بدحالی کا سوال سر سید کے ذہن میں مستقل گھومتا رہا۔ دین اسلام اپنی اصل اور شفاف شکل میں انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا تھا اور ایک زمانے میں اس کے پیروکاروں نے د نیا کو علم کے چراغوں سے منور کر دیا تھا۔ ایک وقت تھا کہ اس کی شان و شوکت دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلی ہوئی تھی، مگرآج اس کے پیروکاروں کے لیے یہ تمام عظمتیں صرف ماضی کی یادیں بن کر رہ گئی ہیں اور اب ان کے نصیب میں فقط ذلت و خواری دکھائی دیتی ہے۔ ایسا کیوں ہوا اور کیا اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ ابتدا میں سر سید کی سوچ اس معاملے میں عام ڈگر سے ہٹ کر نہ تھی۔ جیسا کہ ہمیشہ سے یہ سمجھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا تہذیبی تنزل ان کی اخلاقی کمزوریوں، عیش و عشرت کے شوق اور اندر کے نفاق کا نتیجہ ہے لہٰذا اپنی کھوئی ہوئی عظمتوں تک دوبارہ پہنچنے کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا اور قرآن و سنت کے احکامات پر سختی سے عمل کرنا پڑے گا۔ پھر اسبابِ زوال میں سقوطِ بغدادکو بھی شامل کیاجاتا تھا۔ منگولوں کے اس حملے کے بعد زمین پر گویا لہو کی بارش ہوئی تھی اور دجلہ تک کا پانی سرخ ہوگیا تھا۔ اسی طرح زمانہ جدید میں استعماریت کو زبوں حالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا اور ہندوستان کے کئی علما نے انگریز کے تسلط کے خلاف جہاد کا اعلان بھی کیا تھا۔ گویا کہ مسلمانوں کے اجتماعی شعور کے مطابق ان کی بدحالی اور موجودہ حالت کے اسباب بیرونی ہیں، داخلی نہیں۔

تنزلی کی یہ وجوہ انیسویں صدی میں عام پیش کی جاتی تھیں اور ستم یہ کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ہر طرف یہی باتیں سننے میں آتی ہیں۔ لیکن ایک ذی شعور اور ہوش مند ذہن کے مالک کو ان سے ضرور تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ آخر دوسری قوموں پر بھی خوب مصیبتیں آئی ہیں اور ان لوگوں میں بھی شخصی کمزوریاں کچھ کم نہیں ہیں۔ پھر بھی وہ دنیاوی معاملات میں مسلمانوں سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ جیسے جیسے سر سید اس پہلو پر غورکرتے گئے اور اپنے اطرف کے ماحول اور حالات کو دیکھتے چلے گئے، ویسے ویسے ان کی آنکھیں کھلتی چلی گئیں۔

1857ء کی جنگ پورے ہندوستان کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ کچھ اس کو پہلی جنگ ِآزادی کے نام سے جانتے ہیں اور کچھ اسے غدر یا بغاوت کہتے ہیں۔ دس مئی 1857ء کے روز دہلی میں ہندو اور مسلم باہم اٹھ کھڑے ہوئے اورقتل و غارت گری کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس سے قریباً ڈھائی برس قبل سر سید کا تبادلہ دہلی سے بجنور ہو چکا تھا۔ وہاں جیسے ہی اس طوفان کی خبر پہنچی تو باغیوں کی حمایت میں لشکر تیار ہونے لگے۔ سر سید کے لیے یہ سخت ذہنی اذیت کا وقت تھا۔ ایک طرف وہ مسلمانوں کی محکوم قوم کے ایک اعلیٰ رکن تھے جنہیں کچھ ہی وقت پہلے بہادر شاہ ظفر کے شاہی دربار میں ایک موروثی خطاب عنایت کیا گیا تھا (جس کے بعد ان کا پورا لقب ’جوادالدو لہ سید احمد خان عارف جنگ‘ بنا)۔ انہیں مسلمانوں کی بے چارگی، بے بسی اور شدید کمزوری کا بھی پورا احساس تھا لیکن دوسری طرف وہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے تنخواہ دار ملازم بھی تھے اور ان سے وفاداری کا عہد بھی کیا ہوا تھا۔ سر سید کو کامل یقین تھا کہ ایک دیوہیکل طاقت سے ٹکرانا بے سود اور تباہی کو دعوت دینا ہو گا۔ آپ اس سوچ سے اتفاق کریں یا اختلاف مگر اس زمانے کی اس معروضی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ صرف نوے برس کے اندر اندر انگریزوں کو اس خطے سے رخصت ہونا پڑے گا لہٰذا سر سید نے حکمت کے تحت اوراپنی قوم کی بقا کی خاطر انگریز سرکار کی بھرپور حمایت کی۔ جونہی دہلی سے بجنور میں غدر کی خبر پہنچی تو سر سید اس جگہ پہنچے جہاں بیس یورپین اور یورایشین رہتے تھے۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ سر سید نے انہیں تحفظ فراہم کرنے کا صرف وعدہ ہی نہیں کیا بلکہ عملی طور پر خود بھی ان کے گھروں کے سامنے مسلح ہو کر رات بھر ٹہلتے رہے ۔ گو کہ انہوں نے انگریزوں کوبچانے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن حالات ایسے بے قابو ہوئے کہ سر سید کے اپنے کئی رشتے دار تک انگریزوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔

1857ء کے سانحے سے سر سید نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اب مسلمانوں کو انگریز سے وفاداری کا کھلم کھلا اعلان کر دینا چاہیے۔ اس غرض سے انہوں نے’Loyal Mohamedans of India‘  کے عنوان سے کتاب بھی تحریر کی۔ ساتھ ساتھ وہ مذہبی دلائل کی مدد سے ان فتوﺅں کو بھی مسترد کرتے گئے جو انگریز کے خلاف جہادکو مسلمان پر واجب قرار دیتے تھے۔ اس کے بعد ان پر انگریز کا ایجنٹ اور دلال ہونے کا ا لزام بھی لگتا رہا ۔

روایتی تعلیم پرتنقید

غالب کے روکھے پن کا ہم پچھلے صفحات میں ذکر کر چکے ہیں۔ جب سر سید نے ان سے آئین اکبری کے لیے تقریظ لکھنے کی درخواست کی تو غالب نے اس کا جواب ایک سخت فارسی نظم کی صورت میں دیا، جس کا لب لباب یہ تھا کہ اپنا وقت اکبر کے آئین پر ضائع نہ کرو اور یہ کہ اب کا زمانہ جدیدیت کا ہے اور آئین تو اب کلکتے میں بنتا ہے۔ غالب نے لکھا کہ اصل کمال تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے سائنسی طریقہ کار کو اپنایا ہے اور جو ایسے دخانی جہازوں میں سفرکرتے ہیں جن پر ہوا کے چلنے، نہ چلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ غالب نے سر سید کو نصیحت کی کہ وہ ماضی پرستی ترک کر کے مستقبل کا سوچیں۔ اگرچہ وقتی طورپر سر سید کو غالب کی یہ باتیں ضرور کھٹکی ہوں گی مگر ان کی اپنی سوچ بھی ترقی پسندی کی طرف مائل ہو رہی تھی۔ انہوں نے اس واقعے کے بعد آئینِ اکبری کا ذکر تک کرنا چھوڑ دیا۔

چالیس یا  پینتالیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے سر سید پربھی یہ واضح ہو چکا تھا کہ جو جادو کی چھڑی انگریز نے اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھی ہے، اس کا نام جدید تعلیم اورسائنس ہے۔ یہ وہ طرزِ فکر ہے جو صرف عقل کی حاکمیت قبول کرتی ہے اور جس کے استدلال کی بنیادیں منقولاتی نہیں، تجرباتی ہیں۔ سر سید نے مشاہدہ کیا کہ مسلمان نوجوان اسے اپنانے سے گریزاں ہیں جبکہ ہندو اسے بخوشی اپنا رہے ہیں۔ سر سید کے ہم عصر اورشاعر اکبر الہٰ آبادی کی یہ نظم بھی اس امر کی بخوبی نشاندہی کرتی ہے:

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر
مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس
یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں
نہ جائیں گے و لیکن سعی کے پاس
سناﺅں تم کو اک فرضی لطیفہ
کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس
کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے
کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس
تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے
بلا دقت میں بن جاﺅں تری ساس
کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی
کجا عاشق کجا کالج کی بکواس
کجا یہ فطرتی جوشِ طبیعت
کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس
بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے
ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس
یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی
مجھے سمجھا ہے کوئی ہر چرن داس
دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود
نہیں منظور مغز سر کا آماس
یہی ٹھہری جو شرطِ وصل لیلیٰ
تو استعفیٰ مرا باحسرت و یاس

ہندوستان کے سکولوں اور کالجوں میں ہر طرف ہرچرن داس بھرے ہوئے تھے۔ دوسری طرف مسلمان نوجوان یا تو غیر تعلیم یافتہ رہنا پسند کرتے تھے یا پھر ان کی تعلیم مدارس میں ہوتی تھی۔ ان حالات میں سرکاری ملازمتوں میں ہندوﺅں کے لیے کھلے مواقع تھے اور مسلمان ان کے اہل نہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ لارڈ میکالے کی تعلیمی اصلاحات کے بعد مسلمانوں میں پہلے سے ہی ایک شدید ردعمل پیدا ہو چکا تھا۔ مولانا حالی لکھتے ہیں: ”1835ءمیں کلکتہ کے مسلمانوں کو جب اطلاع ملی کہ انگریز سرکار ہندوستان میں مغربی تعلیم رائج کرنے کا اہتمام کر رہی ہے تو 8000 علما نے ایک عرضی پر دستخط کیے۔ “

علما کی اکثریت انگریزی اور مغربی علوم کو نفرت کی نظر سے دیکھتی تھی۔ اس زمانے سے کوئی دو سو برس قبل شیخ احمد سرہندی اور دیگر علما و مشائخ نے ریاضی اور سائنس کے خلاف فتاویٰ سنا دئیے تھے اور مسلمانوں کو سختی سے یہ تلقین کی تھی کہ ان کی تعلیم خالصتاً مذہبی نوعیت کی ہونی چاہیے۔

سر سید روایتی طرزِ تعلیم سے بخوبی واقف تھے کیونکہ وہ خود بھی اسی نظام سے گزر چکے تھے۔ جدید دنیا سے آشنائی نے ان کو قائل کر دیا تھا کہ روایتی تعلیمی نظام مسلمانوں کی زبوں حالی اور پسماندگی کا اصل سبب ہے۔ اس نظام پر تنقید کرتے ہوئے وہ اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں: ”اب میں نہایت ادب سے پوچھتا ہوں کہ جو جو کتب ِمذہبی اب تک ہمارے ہاں موجود ہیں اور پڑھانے میں آتی ہیں، ان میں کون سی کتاب ہے جس میں فلسفہِ مغربیہ اور علومِ جدیدہ کے مسائل کی تردید یا تطبیق مسائلِ مذہبی سے کی ہو؟ ’اثباتِ حرکت زمین اور بطالِ حرکت و دوری آفتاب ‘پر جو دلیلیں ہیں، ان کی تردید کس سے جا کر پوچھوں؟“

وہ نوجوان جو دہلی اورفتح پور سیکری میں پورے شوق سے مذہبی کتب کامطالعہ کیا کرتا تھا، اسی کو اب شدید تشنگی کے احساس نے گھیر لیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا: ”پس، ایسی حالت میں ان مذہبی کتابوں کا نہ پڑھنا ان کے پڑھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ ہاں، مسلمان مردِ میدان ہیں اور اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں تو بے دھڑک میدان میں آویں اور جو کچھ ان کے بزرگوں نے فلسفہ یونانیہ کے ساتھ کیا، وہ مغربیہ اور علومِ محققہ جدیدہ کے ساتھ کریں۔ تب ان کا پڑھنا پڑھانا مفید ہو گا، ورنہ اپنے منہ میاں مٹھو کہہ لینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ “

معقولات پر اصرار

سر سید پر یہ اعتراض پوری قوت سے کیا جاتا ہے کہ وہ عقل و خرد کو فوقیت دینے کی طرف مائل ہیں، جب کہ اسلام کی اساس ایمان پر ہے۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ اسلامی تاریخ میں معقولات اور منقولات کا معرکہ بہت پرانا ہے۔ اس کاآغاز اسلام کی اولین صدی کے چند سال بعد ہی ہو گیا تھا۔ ان دو نظریات کا ٹکراﺅ جبر اور قدر کے مسئلے سے شروع ہوا تھا۔ ایک طرف جبریے یہ کہتے تھے کہ انسان اپنی تقدیر کامالک ہر گز نہیں ہے اور وہ گویا قسمت کا بے اختیار غلام ہے جس کو ہوا کا جھونکا اِدھر یا اُدھر کہیں بھی لے جا سکتا ہے۔ دوسری طرف قدری یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی راہ بنانے کا کافی سامان مہیا کیا ہے اور یہ کہ انسانی تقدیر پتھر پر لکیر کی طرح غیر مبدل نہیں۔ آٹھویں صدی کے وسط میں ان دو فلسفوں کے پیروکاروں کے مابین زبردست اور خوں ریز تصادم ہوئے جس کے بعد بغداد میں واصل ابن عطا نے معتزلہ مکتب ِفکر قائم کیا۔ معتزلہ یہ دعوی کرتے تھے کہ اسلام کی بنیاد میں صرف ایمان ہی نہیں بلکہ منطق و مشاہدے کا بھی دخل ہے۔ ان کے مطابق علم کا حصول وحی اور الہام کے علاوہ مشاہدات اور عقل سے بھی ہوتا ہے۔ وہ خدا کا وجود عقلی دلیلوں سے ثابت کرنا چاہتے تھے اور قرآنی آیات کی تاویل و تشریح بھی علم اور منطق کی روشنی میں کرتے تھے۔ اسی طرح وہ احادیث و روایات کو بھی مستند اور غیر مستند کے درجوں میں بانٹتے تھے۔ المامون، المعتصم اور الواثق کے شاہی درباروں میں معتزلہ طرزِ فکر کو سرکاری سرپرستی اور تحفظ حاصل تھا۔ شہزادے، منصف، اساتذہ، طبیب، ماہر ِفلکیات، تاجر و غیرہ غرضیکہ سلطنت کے تمام بارسوخ افراد اس فکر کے قائل تھے۔ رواداری اور آزاد خیالی کے اس ماحول نے بغداد کو دنیا کے تمام علوم کا مرکز بنا دیا تھا۔

سر سید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نئے زمانے کے معتزلہ ہیں۔ ان کی تحریروں کا جائزہ بتاتا ہے کہ وہ اکثر مقامات پر منقولات کی اندھی تقلید کو مسترد کرتے ہوئے اجتہاد اورتحقیق کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ فکری ارتقا کے ساتھ ساتھ ان کا ابتدائی اور روایتی دور کہیں پیچھے رہ گیا اور اب وہ اس بات پر قائل نظر آنے لگے کہ سائنسی دریافتوں اورایجادات نے کائنات کی اصل حقیقت ہم پر روشن کر دی ہے۔ سائنسی علوم سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قوانین ِقدرت میں کسی ماورائی طاقت کی دخل اندازی نہیں ہوتی بلکہ موجوداتِ عالم میں جو کچھ وقوع پذیر ہے، خواہ اس کا تعلق مادی اشیا سے ہو یا انسانی معاشرے سے، اس کے اسباب دنیاوی ہوتے ہیں لہٰذا مسلمانوں کے دنیاوی مسائل تعویز، پیروں کی جھولیاںبھرنے اورنذر و نیاز دینے سے حل نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی نجات اس میں ہے کہ وہ ان توہمات کے سحر کو توڑ ڈالیں۔

سر سید نے قرآنِ مجید کی تشریح و تاویل کا جوخاکہ پیش کیا وہ عین معتزلہ کی طرز پر تھا۔ اس کے تین حصے ہیں: اول، کسی قرآنی آیت کے اصل معنی جاننے کے لیے متعلقہ عربی کے الفاظ کے معنی و مفہوم پرتحقیق کی جا ئے، اس لیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ معنی اور مفہوم میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ دوم، کسی آیت کی ایک سے زائد ممکنہ تفاسیر کی صورت میں صرف وہ تفسیر قبول کی جائے جو سائنس اورمنطق کی میزان پر پوری اترے۔ سوم، قرآنِ مجید کی تاویل ابنِ رشد کی قائم کردہ فکری روایت کے مطابق کی جائے اوریہ کہ جہاں جہاں کوئی آیت، متعین سائنسی یا فطری حقائق سے بظاہر متصادم معلوم ہوتی ہو، وہاں تمثیلی یا علامتی تشریح کی جائے۔

سر سید کا مجوزہ طریقہ کار اس زمانے کے علمائے دین کی روایتی سوچ سے بالکل متصادم تھا۔ ان علما کے مطابق موجوداتِ عالم کی سائنسی تشریحات‘ قرآن اور احادیث سے متصادم ہیں، اس لیے لامحالہ وہ غلط ہیں۔ وہ تمام معجزات کو اصلی اور حقیقی معنوں میں لیتے تھے۔ دوسری طرف اگرچہ سر سید بھی قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ہونے پر ایمان رکھتے تھے مگر وہ علماکے نکتہ نظر سے متفق نہ تھے۔ سر سید کے مطابق موجوداتِ عالم کی سائنسی تشریحات درست اور ثابت شدہ ہیں اور اس لیے ہم کو کلامِ الٰہی کے معنی و مفہوم انہی سچائیوں کی روشنی میں متعین کرنا ہوں گے۔ چنانچہ سر سید نے کائنات کی تخلیق، آدم و حوا کا ہبوط، آسمان، وحی اور الہام کی حقیقت، فرشتے، جن اور شیطان، حشر نشر، معراج، معجزے اور کرامات وغیرہ کی عقلی اور تمثیلی تشریحات کیں۔ حضرت مسیح، حضرت موسیٰ، حضرت نوح وغیرہ کے قصص میں جو واقعات قانون قدرت سے متصادم معلوم ہوئے، وہاں وہاں عقلی تشریحات پیش کیں۔

سر سید نے ایک طویل فکری سفر طے کیا اوراس کی روشنی میں آپ نے قرآنِ پاک کی تشریح و تاویل کا ایک خاص طریقہ وضع کیا، جس کا اطلاق وہ مختلف موضوعات اور مسائل پر کرتے چلے گئے۔ ان کے علمی اورتحقیقی مضامین کی فہرست بہت طویل ہے۔ ذیل میں دئیے گئے چند عنوانات سے قارئین اس کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں:

۱۔ دنیا کب بنی اور کتنی مدت میں اور مذہب اسلام سے اس کی مطابقت۔

۲۔ کیا دنیا و مافیہا چھ دن میں بنے؟

۳۔ انسان کی پیدائش، قرآن ِمجید کی رو سے۔

۴۔ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت پر انسان کی ترقی۔

۵۔ سورج کی گردش، زمین کے گرد قرآن مجید سے ثابت نہیں۔

۶۔ خضر: کیا درحقیقت کوئی شخص تھے یا صرف فرضی؟

۷۔ غلامی کی لعنت سے اسلام کی بریت۔

۸۔ کیا نیچر کو ماننے سے خدا معطل ہو جاتا ہے؟

سر سید کئی ایسے نتائج پر پہنچے جن پر علمائے دین کوشدید اعتراض تھا۔ ان کے خیالات عام ڈگر سے اتنے ہٹ کر ہیں کہ آج کے دور میں بھی یونیورسٹی کے محققین اور اسکالرز کے ان پربات کرتے ہوئے پر جلتے ہیں۔

اختتامیہ

سر سید علمی اعتبار سے ایک قد آور اور ہمہ جہت شخصیت تھے البتہ انہیں دانستہ طورپر محدود کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر موجودہ زمانے میں ہندوستان کے مسلمان، سر سید کو ایک تعلیمی درس گاہ کا بانی مانتے ہیں، جبکہ پاکستان میں ان کا نام صرف دو قومی نظرئیے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سکول اور کالج کے نصاب میں سر سید کوقائداعظم اور علامہ اقبال کے ساتھ پاکستان کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر اہم پہلوﺅں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ میں ہندوستان کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا البتہ پاکستان میں کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ سر سید اہل قلم، مدبر اورمفسر قرآن بھی تھے جن کی زندگی کا مقصد یہ تھا کہ توہمات کا سحر توڑ ڈالا جائے اور روشن خیالی اور خرد مندی کو فروغ دیا جائے۔

اگرچہ ان کی بے دریغ تعریف کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں مگر عام طورپر کہیں بھی یہ پڑھنے یا سننے میں نہیں آتا  کہ سر سید نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرانے کی غرض سے قرآن و سنت کی نئی تشریح بھی کی تھی یا یہ کہ انگریزوں اور مسلمانوں کے مابین حائل خلیج کم کرنے کے لیے انہوں نے انجیل مقدس کو ایک نئے انداز میں سمجھا اور سمجھایا۔ کون جانتا ہے کہ اس سب کے نتیجے میں سر سید چالیس برس تک تیرِ دشنام کا ہدف بنے رہے؟ یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ ان پہلوﺅں سے پردہ اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ غرضیکہ ان سے منسوب متنازعہ مگر اہم امور کو نظروں سے اوجھل کر دیا گیا ہے اور سر سید کو محض ایک علامتی ہیرو کا مقام دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس علامہ اقبال کو صرف ہیرو کا درجہ ہی نہیں ملا بلکہ ان کے افکار کی ہرطرف تشہیر و ترویج بھی کی جاتی ہے اور ان کے اشعار جلی حروف میں سرکاری و فوجی تنصیبات میں جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

دیکھا جائے تو دونوں شخصیات میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں ہی بڑا مقام رکھنے والے اور ذہین مسلم دانشور تھے۔ دونوں کے دلوں میں مسلمان قوم کا درد تھا اور وہ امت کی زبوں حالی پر پریشان رہتے تھے۔ دونوں یہ چاہتے تھے کہ اسلامی عقائد کو ملاﺅں کی گرفت سے نکالا جائے اور پیری، مریدی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ ہاں علامہ اقبال نے فلسفے میں ’پی ایچ ڈی‘ کی، جب کہ سر سید کو ہم فلسفی نہیں کہہ سکتے لیکن دونوں تیز طرار اوربہترین ذہنوں کے مالک تھے۔ پھر یہ کہ دونوں کوانگریزوں نے ”سر“ کے لقب سے نوازا تھا اور دونوں نے اسے بخوشی قبول بھی کیا تھا۔ تو پھر ان میں کیا فرق تھا؟

یہ فرق کئی لحاظ سے ہے اور یہ اس لیے بھی ہے کہ سر سید اور علامہ اقبال نے اپنی زندگیاں الگ الگ تاریخی ادوار میں گزاریں اور یہ کہ دونوں کے زمانے کے سیاسی حالات کافی مختلف تھے۔ مثال کے طورپر سر سید کے دور میں انگریز اس قدر طاقت ور تھے کہ کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن انہیں اس خطے سے جانا پڑ سکتا ہے جبکہ علامہ اقبال کے زمانے میں صورت حال مختلف تھی اور سوال صرف یہ رہ گیا تھا کہ انگریزوں کو کتنے برس بعد یہاں سے رخصت ہونا پڑے گا اور یہ کہ اس کے بعد برصغیر کی شکل و صورت کیا ہو گی؟ اسی پس منظر میں سر سید نے انگریزوں سے ٹکرانے کی بجائے ان کی اطاعت پر زور دیا تا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ دوسری طرف علامہ اقبال کا ادراک یہ تھا کہ قوم میں اسلامی احیا کی ضرورت ہے۔ بہر پیش دونوں کا مقصد مسلمانوں کی فلاح ہی تھا۔

ان دونوں شخصیات میں صرف یہی ایک فرق نہیں۔ ان کے طور، طریقے اورفکر و فلسفہ بھی مختلف تھے۔ سر سید کے تمام مضامین، جن میں سیاسی و سماجی موضوعات شامل ہیں، صرف اردو زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس علامہ اقبال کی شاعری اردو اورفارسی میں ضرور ہے لیکن انہوں نے مذہبی خیالات کے اظہار کے لیے انگریزی زبان کا انتخاب کیا۔ ان کے سات خطبات ’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘ کو غالباً اس لیے انگریزی میں پیش کیا گیا تا کہ وہ صرف اس زمانے کی اشرافیہ تک محدود رہیں۔ شاید انہیں ڈر تھا کہ کچھ مولوی ان کے پیچھے چڑھ دوڑیں گے۔ ان خطبات میں وہ احیائے دین کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن و سنت کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ فرسودہ روایات کو ترک کر کے ایک نئی فکر کی آبیاری لازمی ہے۔ اقبال نے اپنی کوئی ذاتی تشریح اور تاویل پیش نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ جدیدیت اور سائنس کے تقاضوں کو کیسے پوراکیاجاسکتا ہے۔ اس کے برعکس سر سید نے نہایت تفصیل کے ساتھ سائنس اور اسلام کو ہم آہنگ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ وہ خود بھی سائنس کے سچے دلدادہ تھے۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے بے شمار سائنسی کتابوں کا ترجمہ خود کیا اور کروایا بلکہ سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد بھی رکھی جو ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی تنظیم تھی۔ اس سوسائٹی کے ذریعے سر سید نے مسلمانوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کا شعور دینے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر اس میں جدید زرعی آلات دکھائے جاتے تھے اور زراعت اور زرعی نظام کے بارے میں سائنسی انداز میں گفتگو ہوتی تھی۔

ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ سر سید کے نظریے کے مطابق مسلمانوں کی بقا اور خوشحالی کے لیے سائنس اور جدید تعلیم کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اقبال کے تفکرات میں ہمیں کچھ ابہام ضرور نظر آتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے سائنس کی مخالفت نہیں کی لیکن اس کے حق میں بھی کچھ زیادہ نہیں کہا بلکہ کہیں کہیں سائنس اور جدیدیت پر شبہات کا اظہار بھی کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کا نجات دہندہ وہ بندہ مومن ہے جو ذاتی خواہشات کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف قوم اور ملت کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہے۔

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی

اقبال کا مردِ مومن شاہین صفت ہے:

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیراکر پہاڑوں کی چٹانوں میں

یہ تشبیہات اور استعارے نہایت خوبصورت اور پر اثر ہیں۔ شاعرانہ تعلیٰ کے اس لطیف پیرائے سے قاری کی روح تڑپ اٹھتی ہے اور قلب گرما جاتا ہے۔ اس امر سے بھی انکار نہیں کہ خوش اخلاقی، جوش و جذبہ اور ولولہ‘ اعلیٰ درجے کی خوبیاں ہیں جن کا اظہار اقبال اپنی شاعری میں کرتے ہیں لیکن ایک سوال بہرحال اٹھتا ہے کہ کیا محض ان خوبیوں کا ہونا خلائی سفر کے زمانے میں آگے بڑھنے کے لیے کافی ہے؟ اقبال فرماتے ہیں:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

خودی کس کو کہتے ہیں؟ یہ انسانی نفس اور شعور کی ایک مخصوص کیفیت کا نام ہے جس کے اوپر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔ اقبال کے مطابق عرفان ِخودی تک پہنچنے کے لیے ہمیں اس ناقابلِ خطا علم کی طرف رجوع کرنا ہو گا جو قرآن و حدیث میں درج ہے۔ اقبال کی لاجواب شاعری نے ایک پسی ہوئی اور مایوس قوم میں اپنے تشخص کااحساس اجاگر کیا۔ اسے یقین دلایا کہ اگر وہ اپنے اندر خودی کو یہاں تک بلند کر دے تو وہ ناقابل تسخیر بن جائے گی اورماضی جیسی عظمتیں پھر سے اس کی دسترس میں آجائیں گی۔ جس زمانے میں مسلمانوں کے حوصلے نہایت پست ہوچکے تھے، ان کے احساسِ کمتری کو دور کرنا اس وقت کا تقاضہ ضرور تھا لیکن اقبال کے نسخے کے دوسرے پہلو بھی ہیں جو غور طلب ہیں۔ اوّل، خودی کے فلسفے کا اطلاق صرف خدا اور رسول کے ماننے والوں پر ہی ہو سکتا ہے لہٰذا صرف مسلمان ہی ہیں جو خودی کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں اوراسی لیے وہ تمام دوسری قوموں سے بالا اور برتر ہیں۔ تو کیا یہ پہلو تہذیبوں کے تصادم کو دعوت نہیں دیتا؟ جس دنیا میں مسلمانوں کو دیگر اقوام کے ساتھ ساتھ رہنا ہے، وہاں کیا اس سوچ سے کھچاﺅ اور تناﺅ پیدا نہیں ہو گا؟

 دوسرا یہ کہ اقبال نے اپنے طور پر قرآن و حدیث کی کوئی تاویل یا تشریح نہیں پیش کی اور نہ ہی اس کا کوئی طریقہ وضع کیا ہے، تو پھر کس کی خودی زیادہ بلند ہو گی۔ سنی کی یا شیعہ کی، وہابی کی، دیوبندی کی یا بریلوی کی؟ اگر اس گھمبیر مسئلے سے نمٹنا اتنا آسان کام ہوتا تو شاید آج اسلامی دنیا میں خون کے دریا نہ بہہ رہے ہوتے۔

سر سید کا نسخہ اس سے بالکل دوسرے نمونے کا تھا۔ آپ کے مطابق آگے بڑھنے کا راستہ تب بن سکے گا جب فرسودہ روایات اور قدامت پرستی کی راہ ترک کر دی جائے۔ اسی لیے انہوں نے ہندﺅں کی اصلاحی تحریکوں کو بھی سراہا۔ راجہ رام موہن رائے اور ان کے ہم خیالوں کی کھلی تعریف کرنے سے بھی نہ ہچکچائے۔ آپ کا تجزیہ یہ تھا کہ آگے بڑھنے کا راستہ تجارت اورصنعت و حرفت پر زور دینے سے ہی بن سکتا ہے۔ ایک بار سر سید نے کہا: ”ہم کو ایسا لائق ہونا چاہیے کہ ہماری تجارت کی محمڈن اینڈ ہندو کمپنی کے نام سے کوٹھیاں لندن میں، اینڈنبرا میں، ڈبلن میں، برسلز میں، سینٹ پیٹرزبرگ میں، برلن میں، ویانا میں، قسطنطنیہ میں، واشنگٹن میں اور دنیا کے تمام حصوں میں قائم ہوں… جس سے ہم کو عزت، دولت، حشمت اور حکومت مل سکے ۔ “

سر سید کے خیال میں مسلمانوں کے اندر اس جذبے کا فقدان تھا کہ وہ دوسری قوموں سے سیکھیں اور ان کے بارے میں جانیں لہٰذا مسلمانوں میں علم کی لگن پیدا کرنے کے لیے سائنٹفک سوسائٹی قائم کرتے وقت انہوں نے ایک اہم دفعہ شامل کرائی: ”ایشیا کے قدیم مصنفوں کی کمیاب اور نفیس کتابوں کو تلاش کر کے بہم جانچنا اور چھاپنا۔ “

میں سوچتا ہوں کہ اگر آج سر سید حیات ہوتے تو کیا موجودہ پاکستان میں ان کا قیام ممکن ہو پاتا یا معتدل مزاج اسلامی اسکالر جاوید احمد غامدی کی طرح انہیں بھی ادھر سے جلا وطن ہونا پڑتا؟ یاد رہے کہ اُس زمانے کے کئی علما نے سر سید کو کافر کہا اور واجب القتل تک قرار دے دیا تھا مگر بہرحال وہ زمانہ آج کی طرح متشدد نہیں تھا اور سر سید اس تمام مخالفت کے باوجود اپنے کام میں جتے رہے اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا مشن بدستور جاری رکھا۔

اگر ہم تقابلی جائزہ لیں تو ایک لحاظ سے زمانہ بدلا ہے مگر دوسرے لحاظ سے نہیں۔ جو سماجی انحطاط کے اسباب پہلے تھے، سو وہ آج بھی ہیں۔ جن زنجیروں نے ہمیں پہلے باندھ رکھا تھا، وہ اب بھی ہمیں جکڑے ہوئے ہیں۔ بقول جوش ملیح آبادی‘ مردے اب بھی دھوم مچائے ہوئے ہیں:

مخلوق کو دیوانہ بنائے ہوئے مردے
یاروں کے دماغوں کو چرائے ہوئے مردے
اوہام کے طوفان اُٹھائے ہوئے مردے
عقلوں کو مزاروں پہ چڑھائے ہوئے مردے
آفاق کو سرپر ہیں اُٹھائے ہوئے مردے
دیکھو کہ کیا دھوم مچائے ہوئے مردے
لیلائے تفکر کو سنورنے نہیں دیں گے
دریائے تو ہم کو اترنے نہیں دیں گے
تحقیق کی نبضوں کو ابھرنے نہیں دیں گے
تقلید کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیں گے
اس بات کا بیڑا ہیں اُٹھائے ہوئے مردے
دیکھو کہ ہیں کیا دھوم مچائے ہوئے مردے

Pervez Hoodbhoy

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔