پاکستان

بابا جان اور افتخار کربلائی: ایک عمر قید، دوسرے کو 90 سال کی سزا…

فاروق طارق

گلگت بلتستان میں بابا جان کے ساتھ مقید افتخار کربلائی کو تیسرے مقدمے میں مزید 19 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔گزشتہ دو مقدمات میں ان کو 71 سال سزا سنائی گئی تھی۔ اب انکی سزا بڑھ کر 90 سال ہو گئی ہے۔ افتخار کربلائی کی یہ سزا ریاستی تاریخ میں کسی بھی فرد کو سنائی جانی والی سب سے طویل سزا ہے۔

افتخار کربلائی سانحہ ہنزہ کیس میں نامزد ملزم ہیں۔ وہ قراقرم نیشنل موومنٹ کے رہنما ہیں۔

افتخار حسین اور بابا جان سمیت دیگر ساتھیوں نے عطا آباد جھیل بننے کے بعد وہاں اس کا شکار افراد کے لئے منصفانہ معاوضہ کے لئے قومی سطح پر مہم چلائی تھی۔

اْن کے سیاسی احتجاج پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات میں چند دن قبل انہیں سزائیں سنائی گئی ہیں۔

بابا جان اور افتخار کربلائی اس وقت گاہکوچ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔بابا جان کی گلگت بلتستان سپریم کورٹ میں اپنی اور بارہ دیگر کارکنوں کی عمر قید کی سزا کے خلاف ریویو پٹیشن کی سماعت ابھی ہونا ہے۔

گرفتاریوں کا پس منظر

بابا جان اور انکے ساتھیوں نے جنوری 2010ء میں لینڈ سلائڈنگ کے باعث ہنزا دریا کا عطا آباد کے قریب راستہ رکنے پر بننے والی نئی جھیل سے متاثرہ افرادکے لئے ایک مہم چلائی تھی۔ اس سے قبل جھیل بننے پر انہوں نے حکومت کو فوری اقدامات کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنسیں کر کے عطا آباد جھیل کو ایک قومی مسئلہ بنا دیا تھا۔

گیارہ اگست 2011ء کو علی آباد میں پولیس نے فائرنگ کر کے شیر اللہ بیگ اور انکے بیٹے شیر افضل کو ہلاک کر دیا۔یہ دونوں عطا آباد جھیل کے متاثرین کو معاوضہ دلانے کے مسئلے پر ہونے والے ایک مظاہرے میں حصہ لے رہے تھے۔ اس واقعہ کے خلاف شدیداحتجاج ہوا۔ بابا جان اس تحریک کے رہنما تھے۔ مطالبہ تھا کہ متعلقہ ڈی ایس پی بابر علی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ چار دنوں کے مسلسل احتجاج کے بعد انتظامیہ اس پولیس افسر کے خلاف ایک ایف ائی آر سامنے لے کر آئی تو احتجاج ختم ہو گیا۔ یہ ایف آئی آر بعد میں جعلی نکلی مگر پھرباباجان اور افتخار کربلائی سمیت سو کے قریب افراد کے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات سمیت مختلف مقدمات درج کر لیے گئے۔

بابا جان نے دسمبر 2011ء میں کچھ دیرانڈر گراؤنڈ رہنے کے بعد گرفتاری پیش کر دی۔ جیل میں ان پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ اسی دوران انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنادی۔ ستمبر 2012ء میں انہیں ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔

ان کی رہائی کے لئے دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے۔ پاکستان میں بھی زبردست مظاہرے کیے گئے۔ دو سال بعد ضمانت کی منسوخی کے بعد وہ ستمبر 2014ء میں دوبارہ جیل میں ڈال دئیے گئے اور اب تک وہ جیل میں ہیں۔

گرفتاری سے قبل وہ ستمبر 2014ء میں اسلام آباد میں عوامی ورکرز پارٹی (اے ڈبلیو پی) کی پہلی کانگریس میں شرکت کے لئے پہنچے ہی تھے کہ انکی گرفتاری کے احکامات جاری ہو گئے۔ کانگریس میں شرکت کرنے کی بجائے وہ واپس گلگت بلتستان گئے اور اپنی گرفتاری پیش کر دی۔

اے ڈبلیو پی کانگرس کے فوری بعد انکی رہائی کے لئے اسلام آباد میں سینکڑوں کارکنوں نے زبردست ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا۔

بابا جان کون ہیں؟

بابا جان ایک محنت کش گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی وہ عوام کی خدمت میں دن رات صرف کرتے تھے۔ انہوں نے اس علاقے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے مقامی دھاتوں کو نکالنے کے خلاف کامیاب مہم بھی چلائی۔ وہ گلگت بلتستان کے ’چے گویرا‘ بھی کہلاتے ہیں۔

جب 15 جون 2015ء کو گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات ہوئے تو بابا جان عوامی ورکرزپارٹی کے امیدوار کے طور پر جیل سے انتخاب لڑ ے۔ اس نشست پرمسلم لیگ نواز کے میرغضنفر علی 8062 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جبکہ بابا جان 4597 ووٹ لے کے دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کی حمایت میں جو ریلیاں نکلیں ان میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی۔ پیپلز پارٹی تیسرے اور تحریک انصاف چوتھے نمبر پر رہے۔ بابا جان کے کاغزات نامزدگی اس لئے مان لیے گئے کہ وہ ایک انڈر ٹرائل قیدی تھے۔

دریں اثنا بابا جان کی عمر قید والے مقدمہ میں گلگت بلتستان ہائی کورٹ نے سزا ختم کر دی اور اس مقدمہ میں انہیں باعزت بری کرنے کا حکم جاری کیا لیکن دوسرے مقدمات میں انہیں ابھی قانونی جدوجہد کرنی تھی اس لئے وہ رہا نہ ہو سکے۔

پھر یہ ہوا کہ جیتنے والے میر غضنفر جو والی ہنزا بھی ہیں، کو 20 نومبر 2015ء کو انتخابات کے پانچ ماہ بعد گلگت بلتستان کا گورنر بنا دیا گیا اور انکی نشست خالی ہوگئی۔ جنوری 2016ء میں اس نشست پر ضمنی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔ بابا جان نے دوبارہ جیل سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا۔ انکے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کیا گیا جسے ابتدائی طور پر منظور کر لیا گیا مگر اپیل پر ان کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے۔

اس تاریخ کو انتخاب زیادہ سردی اور برف باری کے بہانے ملتوی کیا گیا۔ اصل وجہ بابا جان کی اس دوران غیر معمولی مقبولیت تھی۔

دوبارہ انتخابات 25 مئی کو کرانے کا اعلان کیا گیا۔ بابا جان اس دوران ایک انقلابی ہیرو بن کر ابھرے۔انکی حمایت میں تاریخ کے سب سے بڑے جلوس نکلے۔ لیکن انتخاب سے تین روز قبل انتخاب کو ملتوی کر دیا گیا۔

اب حکمرانوں کے لئے انتخاب سے بچنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ بابا جان کو انتخاب لڑنے کے لئے نااہل قرار دلوادیا جائے چنانچہ ہائی کورٹ کی جانب سے بابا جان کو بری کرنے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ جلدی جلدی اس مقدمے کو سنا گیا۔ بابا جان، افتخار کربلائی اور 12 دیگر کارکنوں کو دی گئی عمر قید کی سزا بحال کر دی گئی۔

پھر پانچ ستمبر 2016ء کو انتخاب کرایا گیا اور گورنر میر غضنفر کے بیٹے سلیم غضنفر کو اس سیٹ سے جتوایا گیا۔ نا اہل قرار پانے کی وجہ سے بابا جان انتخاب میں حصہ نہ لے سکے تھے۔ سلیم غضنفر صرف 4679 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے انتخابی ڈھونگ کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ صورتحال یہ ہے کہ میر غظنفر کی بیوی بھی پارلیمنٹ کی رکن ہے اور بیٹا بھی۔

اس سے قبل سولہ اگست 2016ء کو عاصمہ جہانگیر نے گلگت بلتستان کے تین روزہ دورے کے دوران یہاں کے عدالتی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہوں نے بابا جان سے جیل میں ملاقات بھی کی۔

مئی 2017ء کو بابا جان کی رہائی کے لئے ایک عالمی پٹیشن کا آغاز کیاگیا۔ اس پر کئی ممالک کے اراکین پارلیمنٹ اور عالمی شہرت یافتہ ریڈیکل شخصیات نے دستخط کر کے بابا جان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بابا جان بلا شک و شبہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ عالمی شہرت پانے والا سیاسی قیدی بن گیا۔

پچیس مئی 2017ء کو بابا جان کی سزا کے خلاف ریویو پٹیشن کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اسے کچھ دلائل کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔

سولہ اگست 2017ء کو دوبارہ اس اپیل کی سماعت ہوئی جسے کچھ دلائل سننے کے بعد مزید سماعت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

عوام کا مطالبہ ہے کہ عطا آباد جھیل کے واقعہ پر احتجاج کے دوران باپ بیٹے کی پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد بننے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ پبلک کی جائے۔ اس پولیس آفیسر کو گرفتار کیا جائے جس نے دو افراد کو سر عام قتل کیا۔ بابا جان اور انکے تمام ساتھیوں کے خلاف مقدمات میں مسلم لیگی حکومت عدالتوں میں پیروی کرنے کی بجائے انکی بے گناہی کا اعلان کرے۔

ایسا گلگت کی پوری تاریخ میں نہیں ہوا کہ آپ مظاہرہ کریں اور عدالت آپ کو عمر قید کی سزا سنا دے۔ بابا جان کوانتخاب میں توہرا نہیں سکتے تھے لہٰذا انہیں سزا سنا کر نااہل قرار دے دیا گیا۔

عوام میں مقبول رہنماؤں کو عدالتوں کے ذریعے نااہل قرار دینے کی جو رسم اب پاکستان میں شروع ہوئی ہے اس کا آغاز پیپلز پارٹی کے دور میں ان کی گلگت بلتستان میں حکومت نے کیا تھا۔

یاد رہے کہ سانحہ علی آباد کے بعد عوامی ردعمل پر حکومتی نمائندوں کی طرف سے کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کے باوجود یہ سب ہو رہا ہے۔ دوسری طرف سانحہ علی آباد کی انکوائری رپورٹ تاحال پبلک نہیں کی گئی جس میں ذمہ داروں کا تعین کیا گیا تھا۔ اس مسئلے پر جو جوڈیشل کمیشن بنایا گیا اس کی رپورٹ کو ابھی تک عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان، پروگریسو یوتھ فرنٹ اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان نے افتخار کربلائی کے خلاف عدالتی فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان تنظیموں نے اس سلسلے میں انسانی حقوق کی تنظیموں، ترقی پسند گروہوں، سول سوسائٹی کے افراد، آزاد میڈیا، انسان دوست تنظیموں اور انفرادی طور پر متحرک کارکنوں سے مدد کی درخواست کی ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔