دنیا

امریکہ، اسلام اور ڈونلڈ ٹرمپ‘ ایک نئی تصنیف کے آئینے میں!

قیصرعباس

امریکہ میں گزشتہ انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اقلیتوں، مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف جس انداز میں نہ صرف بیانات دئے بلکہ منتخب ہونے کے بعد عملی طورپرایسی پالیسیاں بھی نافذکیں جن سے قومی اتحاد کے بجائے سماجی تقسیم کوسیاسی سطح پر بھی تسلیم کیا جانے لگا۔ ایک طرف تو یہاں کے رجعت پسندوں کی جانب سے صدر کے اس سیاسی بیانئے کی کھل کر حمایت کی جانے لگی اور دوسری جانب ترقی پسند دانشوروں اور سیاست دانوں نے اس کی سخت مخالفت بھی کی۔

لارینس پنٹیک (Lawrence Pintak) بھی ان امریکی دانشوروں میں شامل ہیں جو اس قومی بیانئے کو ایک خطرناک رجحان کے طورپر دیکھتے ہیں۔ وہ ایک جانے پہچانے صحافی، تجزیہ نگار اور دانشور ہیں جو ایک عرصے سے مشرق وسطیٰ اور اس سے امریکی تعلقات، مسلمان ممالک اور امریکی مسلمانوں پر تحقیق و تدریس میں مصروف ہیں۔ وہ واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی سیاٹل میں کمیونیکیشن کے ڈین رہ چکے ہیں اور میڈیا، اسلام اورمشرق وسطی سے متعلق امریکی پالیسی کے موضوعات پر اب تک پانچ کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ پنٹیک اسلام پر پی ایچ ڈی کرچکے ہیں اور تحقیق و تدریس سے پہلے پاکستان اور دوسرے مسلمان ملکوں میں صحافی کے طورپر کام کرنے کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستانی صحافیوں کے سماجی اور پیشہ ورانہ رویوں پر ایک مستند تحقیق بھی کر چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں عرب سینٹرواشنگٹن ڈی سی (ACW) نے امریکہ اور اسلام کے موضوع پران کی نئی کتاب کی رونمائی کا اہتمام کیا جس کی نظامت سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خلیل جشان (Khalil Jahshan) نے کی۔

مصنف نے تقریب میں کہا کہ گزشتہ امریکی انتخابات کے دوران وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے انتخابی موقف پر کچھ لکھنا چاہتے تھے جب کسی کو امید نہیں تھی کہ وہی صدربنیں گے۔ لیکن انتخابی نتائج کے بعد انہوں نے نئی صورت حال پر ا مریکی مسلمانوں اور صدرٹرمپ کی نئی پالیسیوں پر کتاب لکھنے کا فیصلہ کیاکیونکہ امریکہ اب ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا تھا جس میں امریکی صدر کی جانب سے مسلمانوں اور اقلیتوں کی جگہ محدود کی جا رہی تھی۔ ان کے اس رویے کے نتیجے میں عمومی طور جو فضا قائم ہوئی اس سے اقلیتوں اور مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافے کی توقعات کی جا رہی تھیں۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی مسلمانوں نے اس صورت حال کو قبول کرنے کے بجائے سیاست میں ایک مثبت کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ درمیانی مدت کے انتخابات میں پورے ملک میں 166 مسلمان امیدواروں نے حصہ لے کر ثابت کیا کہ وہ اب صرف تماشائی نہیں بلکہ امریکی سیاست کا ایک حصہ بھی بننا چاہتے ہیں۔ یہ ان ہی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ اب دو مسلمان خواتین امریکی ریاست منیسوٹا سے الہان عمر اور رمشیگن سے رشیدہ طلیب کانگریس کی رکن منتخب ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں عام امریکیوں نے مسلمانوں کو ایک فعال اورقابل اعتماد اقلیت کے طورپر دیکھا ہے۔ لیکن یہ بات بھی صاف ظاہر ہے کہ ا مریکی مسلمان اپنی ثقافتی پہچان بھی برقراررکھنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہونا نہیں چاہتے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدرٹرمپ بیک وقت کچھ عام امریکیوں کے رویوں کی نمائندگی بھی کرتے ہیں اور ان کے خالق بھی ہیں لیکن انتخابی نتائج سے قطع نظر وہ جس طبقے کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ خودامریکی سماج کا ایک اقلیتی طبقہ ہے۔

لارینس پنٹیک کی نئی تصنیف مشرق وسطی اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے صحافیانہ تجزیوں کو کتاب کی صورت میں پیش کرتی ہے جو مشرق وسطیٰ اور مسلمانان عالم کے مسائل اوران کے تاریخی تناظر کا ایک مستند حوا لہ بھی ہے۔ ان کے مطابق ان کی کتاب مشرق وسطیٰ پر کام کرنے والے نئے صحافیوں کے لئے معلومات کا ذریعہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

کتاب کے اٹھارہ ابواب پر پھیلے تجزیوں میں انہوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ محرکات جنہوں نے ٹرمپ جیسے رجعت پسند رہنماؤں کے سیاسی رویوں کی تشکیل کی دراصل ایک دن کی پیداوار نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ کا حصہ ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد مشرق وسطیٰ میں برطانوی حکمت عملی کے ذریعے عربی مسلمانوں کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف اکسا یا گیا۔ سعودی عرب میں آل سعود کو طاقتور بنایاگیا۔ ان کے تجزئے کے مطابق دراصل سلفی تحریک ہی آج کے تمام تشددپسندگروہوں کی بنیاد ہے جن میں اخوان، طالبان اور داعش جیسی تحریکیں شامل ہیں۔ لیکن ان تحریکوں کو ایک اکائی کے طورپر دیکھنا بھی غلطی ہے کیونکہ ان کے درمیان شدیداختلافات بھی جنم لیتے رہے ہیں۔

ان کے خیال میں دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرق وسطی میں امریکی مداخلت اور پالیسیوں نے بھی آج کے شدت پسند گروہوں کو تحریک دی۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں نے ایران کے پہلے منتخب وزیر اعظم مصدق کا تختہ الٹ کر جن حالات کو جنم دیاانہوں نے ہی بعد میں مذہبی انقلاب کی راہ ہموار کی۔ دنیا میں شدت پسندی کے تناظر میں 1979ء کا سال تاریخی طورپرانتہائی اہمیت رکھتاہے کیونکہ مصنف کے خیال میں: ”یہ وہ سال تھا جب ایران کے شیعہ مذہبی رہنماؤں نے جدید دنیا کی پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی… سویت یونین کے ٹینک افغانستان میں داخل ہوئے۔ اسی سال پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گٗئی جس کے بعد ملک میں مذہبی نظام کے نفاذ کا نیا دور شروع ہوا۔ اور اسی سال ایک گروہ جو خود کو اخوان کہلاتاتھا، نے مکہ کی مسجد الحرام پرقبضہ کرنے کی کوشش کی۔“

کتاب کے مصنف نے نہ صرف عرب اور خلیجی ریاستوں بلکہ پاکستان میں بھی خاصا وقت گزارا ہے جوکتاب میں جگہ جگہ پاکستان کے حوالوں اور یہاں کے سیاسی اور سماجی مسائل کے تجزیوں سے بھی ظاہر ہے۔ ”ایران اوردشوارعلاقے کے درمیان“ کے عنوان کے تحت کتاب کا ایک پورا باب پاکستان اوراس کے مسائل پر مرکوز ہے۔ اس باب میں ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور تشدد، اچھے اور برے طالبان کی حکمت عملی، وزیرستان میں قبائلیوں کی مشکلات، کراچی میں سیاسی تشدد اور لاقانونیت، مذہبی اقلیتوں سے امتیازی سلوک، چین اور پاکستان کے تعلقات اوردیگر مسائل کا تجزیہ شامل ہے۔

مجموعی طورپر لارینس پنٹیک کی نئی تصنیف نہ صر ف ڈونلڈ ٹرمپ کی متعصبانہ سیاست کا پردہ چاک کرتی ہے بلکہ امریکی اقلیتوں اور ترقی پسندوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ نفرتوں کی دیوار لوگوں کو ہمیشہ کے لئے تقسیم نہیں کرسکتی! یوں کہہ لیجئے کہ کچھ لوگوں کو کچھ عرصے کے لیے تو بیوقوف بنایا جاسکتاہے، ہمیشہ کے لئے نہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔