پاکستان

کوئلے میں کوئلہ ہوتی زندگیاں

فاروق طارق

کوئلے کی کانوں سے کوئلہ نکالنے والے محنت کش انتہائی مشکل حالات میں کام کر کے اپنے خاندانوں کے لئے کچھ کما پاتے ہیں۔ بھٹہ مزدوروں کی طرح ان کان کنوں کے لئے بھی لیبر قوانین صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ ہیلتھ اینڈ سیفٹی انتظامات کا شدید فقدان ہے۔ بیشتر مزدور حادثات کا شکار ہوتے ہیں جو اکثر جان لیوا ہوتے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ہزاروں مزدور کام کر رہے ہیں۔ کان میں زہریلی گیس کے اخراج یا دھماکے سے اگر وہ زندہ بچ بھی جاتے ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اْن کے ہاتھ پاؤں کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

تصویر بشکریہ ڈان نیوز

کانوں میں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال اوسطاً 80 کے قریب کان کن ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کانوں کے اندر ہوا کا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا جس کے باعث دم گھٹنے سے مزدور ہلاک ہوتے ہیں یا گیس جمع ہونے کی وجہ سے کانوں میں ہونے والے دھماکوں میں وہ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یہی صورتحال سندھ میں بھی ہے۔ 7 مئی 2019ء کو جامشورو کے علاقے خانوٹ کے قریب کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے میں پانچ محنت کش جھلس کے شدید زخمی ہو گئے۔

بلوچستان کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کش زیادہ تر سوات، بونیر اور شانگلہ سے ہجرت کر کے یہاں کام کرنے آتے ہیں۔

کانوں کے اندر سے کوئلہ نکالنا اور باہر ٹرکوں پہ لادنا دونوں خطرناک کام ہیں۔ ایک مزدور 130 کلو گرام تک کوئلے کی بھاری بوری اٹھا کے ٹرکوں پر لوڈ کرتا ہے۔ یہ انتہائی سخت جان کام ہے جو ایک اوسط مزدور پانچ چھ سال ہی کام کر پاتا ہے۔ پھر مختلف بیماریاں اسے گھیر لیتی ہیں۔ اس کے ہاتھ، کمر اور پاؤں کے پٹھے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

کانوں میں زیادہ حادثات کا شکار باہر سے آئے ہوئے مزدور ہی ہوتے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

بلوچستان میں جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی ہی کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

بلوچستان کے علاقے دُکی کی کوئلہ کانیں موت کے کنویں بن گئی ہیں۔ مثلاً جنوری 2019ء کے ایک ماہ کے دوران دکی کی کانوں میں پانچ حادثات ہوئے۔

سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر جوہر خان نے اس وقت صحافیوں سے بات کرتے بتایا تھا کہ روزانہ پانچ سے چھ حادثات ہو جاتے ہیں۔ کوئلے کی کانوں کے اپنے ہسپتال بند پڑے ہیں جس کے باعث سارا بوجھ سول ہسپتال پر آتا ہے۔ دُکی میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث ایم ایس کو ہی ایسے حادثات میں ابتدائی طبی امداد دینی ہوتی ہے۔

رہنماپاکستان لیبر فیڈریشن عبدالمجید شاہ نے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دُکی مزدوروں کی قتل گاہ بن گیا ہے۔ مسلسل ہونے والے حادثات میں 27 روز کے دوران 19 مزدور جان سے جا چکے ہیں۔

مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں آئے روز حادثات کی بڑی وجہ حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا اورمائنزانسپکٹروں کی عدم موجودگی ہے۔ جبکہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر کان مالکان کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل لالہ سلطان نے بتایا کہ 2018ء میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 93 کان کن ہلاک ہوئے۔ یوں صرف صوبہ بلوچستان میں 90 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے سال 2018ء تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہوا۔ لیکن 2019ء کا آغاز بھی اچھا نہیں تھا اور سال کے دوسرے ہی روز ایک حادثے میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں ضلع دُکی کی حدود میں چمالانگ کے علاقے میں ہوئیں۔ چیف مائنز انسپکٹر بلوچستان افتخار احمد نے بتایا کہ چمالانگ میں یہ حادثہ ایک کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔

کوئلے کی کانوں میں حادثات سے بچنے کے لئے کچھ حفاظتی اقدامات بنیادی نوعیت کے ہیں۔ مثلاً کان میں کام شروع کرنے سے پہلے زہریلی گیس کو چیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کے اندر آکسیجن کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ ایک کان کے اندر متبادل راستہ بنانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں کان کنوں کو نکالنے میں آسانی ہو۔ لیکن ان انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔

اس کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام بھی ہے۔لوگ اپنے نام پر مائننگ کے لیے اراضی الاٹ کراتے ہیں لیکن خود اس پر کام کرنے کی بجائے اس کو ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ بڑے ٹھیکیدار پھر ان کو چھوٹے ٹھیکیداروں کو دے دیتے ہیں۔

ٹھیکیدار اور چھوٹے ٹھیکیدار انسانوں کو بچانے کے لئے حفاظتی انتظامات کا خیال رکھنے کی بجائے زیادہ توجہ اِس بات پہ دیتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کوئلہ کیسے نکالیں۔ دُکی اور چمالانگ میں اس وقت سب سے زیادہ حادثات پیش آرہے ہیں۔ کوئلے کی کانوں کے مالکان زیادہ تر بلوچ اور پشتون سردار ہیں۔ حادثات کی صورت میں نہ صرف ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ان کو سیفٹی کے لوازمات کو یقینی بنانے کا بھی پابند نہیں بنایا جاتا۔

کول مائنز لیبر فیڈریشن بلوچستان کے صدر بخت نواب نے بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ بعض کانیں رجسٹر بھی نہیں ہیں۔ ان کے بقول ”بعض کانوں کے مالکان اتنے بااثر ہوتے ہیں کہ ان کی کانیں نو گو ایریاز ہیں اور وہاں کوئی بھی سرکاری اہلکار معائنے کے لیے نہیں جا سکتا!“

کسی حکومت نے آج تک بدترین حالات میں کام کرنے والے اِن محنت کشوں کے حالات بہتر کرنے پہ توجہ نہیں دی ہے۔ لیبر قوانین پر عملدرآمد کا سارا ڈھانچہ اوپر سے لے کے نیچے تک بدعنوانی سے مفلوج ہے۔ ریاست محنت کشوں کی اموات پہ بالکل بے حس و حرکت نظر آتی ہے۔ ایسی ہر خبر دوسری خبروں کے انبار کے نیچے دب کے منظر عام سے غائب ہو جاتی ہے۔ موت کے منہ میں کام کرنے والے اِن محنت کشوں کی اجرتیں بھی انتہائی قلیل ہیں اور یہ ہر طرح کی دیگر سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ ترقی پسند رجحانات اور دیگر مزدور تنظیموں کو اس معاملے پہ ایجی ٹیشن کرنے کیساتھ ساتھ کان کنی کے محنت کشوں کو بہتر طور پہ منظم ہونے میں معاونت دینے کی بھی ضرورت ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔