خبریں/تبصرے

کشمیر: کنٹرول لائن کی جانب ’آزادی مارچ‘ میں ہزاروں افراد کی شرکت

کشمیر (راشد شیخ) 5 اگست کو ہندوستانی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پہلے ہی‘ممکنہ مزاحمت کے پیش نظر جو ابھی تک جاری ہے 4 اگست کو کشمیر کے تمام علاقوں میں مکمل کرفیو لگا دیا گیا اور پوری ویلی کو ایک جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں ہندستانی ریاستی جبر کے خلاف ایک احتجاجی لہر موجود ہے۔ اسی سلسلے کو بر قرار رکھتے ہوئے لبریشن فرنٹ (صغیر گروپ) نے 7 ستمبر کو تیترینوٹ ایل او سی پرایک پرامن احتجاجی دھرنے کی کال دی تھی تاکہ کشمیر میں جاری ریاستی جبر کی مذمت کی جاسکے اور وہاں کی مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کی جاسکے۔ لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کی جموں کشمیر این ایس ایف نے بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ آزادی مارچ کے مطالبات میں کشمیر سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلا، ہندوستانی کشمیر سے کرفیو کا فی الفور خاتمہ، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور دیگر معاشی مطالبات شامل تھے۔ مارچ سے قبل ہی پورے کشمیر کی پولیس کو پونچھ میں مجتمع کر لیا گیا جو اس کو ثبوتاژ کرنے کی واضح غمازی کرتا ہے۔ مارچ کے مختلف قافلوں نے پونچھ کے شہر ہجیرہ میں ملنا تھا جہاں سے آگے اکھٹے ہو کر دھرنے والی جگہ پر جانا تھا۔ قیادت نے پہلے طے کر لیا تھاکہ انتظامیہ جہاں پر روکے گی وہی دھرنا دے کر اور اپنا سیاسی پروگرام بتاکر واپس چلے جائیں گیں۔ لیکن انتظامیہ نے میرپور ڈویژن کے قافلے جس کی تعداد ہزاروں میں تھی‘ کو کوٹلی میں رکاوٹیں کھڑی کر کے روک لیا اور رات پڑنے پر پولیس نے پر امن قافلے پر شیلنگ اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی اور ایک نوجوان کی ہلاکت بھی ہوئی اور کافی لوگوں کی گرفتار ی کی بھی خبریں ہیں۔

یہ پر امن آزادی مارچ میں شریک ہزاروں کی تعداد میں نہتے عوام پہ پولیس کی جانب سے کھلی جارحیت کی غمازی کرتا ہے۔ راولاکوٹ سے نکلنے والا قافلہ جب ہجیرہ سے آگے دوارندی بازار پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود پولیس کی بھاری نفری نے شیلنگ کرتے ہوئے پرتشد د انداز میں قافلے کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ رات کی تاریکی میں پولیس نے نہتے عوام کو آبادی کے درمیان انتہائی تنگ علاقے میں محصور کرتے ہوئے خوفناک شیلنگ کی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچنے کی وجہ سے کافی لوگ زخمی ہوئے۔ اس موقع پہ چیئرمین جے کے ایل ایس ایف سردار صغیر جان نے شرکاآزادی مارچ کو پرامن رہتے ہوئے وہیں دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ اس دوران مارچ کی قیادت انتظامیہ سے مذاکرت میں مصروف تھی کہ اچانک شیلنگ شروع ہوئی اور پولیس کی بھاری نفری آزادی مارچ پہ حملہ آور ہوتے ہوئے پیش قدمی کرنے لگی اور اس کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارچ اور ربڑ کی گولیاں بھی برسانے لگی۔ دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے آزادی مارچ میں موجود نوجوان مزاحمت کرنے لگے جس کے نتیجے میں کچھ پولیس کے سپاہی بھی زخمی ہوئے۔ اس دوران ایک بار پھر آزادی مارچ کی قیادت نے شرکا کو پیچھے ہٹنے کو بولا تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ آزادی مارچ کے شرکا قیادت کی کال پہ پیچھے ہٹتے ہوئے دوارندی بازار میں پہنچ گئے اور وہیں دھرنا دے دیا۔ اس دوران وقفے وقفے سے شیلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ رات 1بجے ایک بار پھر پولیس شرکا پہ حملہ آور ہو گئی اور بھرپور شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔

جبکہ 6 ستمبر کی شب سے تین ہزار کے لگ بھگ لوگ تیتری نوٹ پہنچ کے دھرنا دے چکے تھے۔ اس دوران سارا وقت وہ خونی لکیر  پہ ہونے کے باوجود مکمل طور پہ پرامن رہے جبکہ پولیس نے ہر جگہ نہتے عوام پہ کھلی بربریت کی۔ اس سارے واقعے نے واضح کیا ہے کہ ریاست کسی ملک کی بھی ہو وہ جبر کا آلہ ہوتی ہے اور حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پر امن احتجاجی دھرنا ایل او سی پر جاری ہے جس میں ہزاروں لوگ موجود ہیں۔ قیادت نے گرفتار کارکنان کی رہائی اور زخمیوں کو بہتر طبی امدادملنے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔