سوشل

آج کی ویڈیو: انقلابی ہینڈسم کی انقلابی تقریر

سوشل ڈیسک | فاروق سلہریا

2006ء میں وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے اقوام ِمتحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اس تقریر کا آغاز انہوں نے نوم چامسکی کی کتاب (Hegemony or Survival) کو متعارف کر اتے ہوئے کیا۔ انہوں نے امریکہ میں رہنے والے”بہن بھائیوں“ سے کہا کہ وہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔ یاد رہے ہوگو شاویز کتابوں کے مطالعے کے لئے مشہور تھے۔ فرصت کا ہر لمحہ کتب بینی میں گزارتے دکھائی دیتے تھے۔

کتاب متعارف کروانے کے بعد انہوں نے امریکی صدر بش کو شیطان کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے کیونکہ وہ گذشتہ روز ایسے تقریر کر کے گیا ہے گویاپوری دنیا اس کی ملکیت ہو۔ شاویزکے اس جملے کو تو پوری دنیا میں شہرت ملی کہ ”کل یہاں شیطان آیا تھا۔ یہاں ابھی تک سلفر (Sulphar) کی بو آ رہی ہے“۔

ہوگو شاویز نے اپنے ملک یا اپنے مذہب کی بات نہیں کی۔ انہوں نے ایک انٹرنیشنل اسٹ کی طرح دنیا بھر کے لوگوں کی بات کی۔ اس تقریر کے وقت عراق کی جنگ عروج پر تھی اور عرب دنیا میں لوگ ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے تھے کہ اس طرح کا صدر کسی عرب ملک میں کیوں پیدا نہیں ہوتا؟

اس تقریر یا گذشتہ روز چے گویرا کی اقوام متحدہ میں تقریر ”روزنامہ جدوجہد“ کے ان صفحات میں پوسٹ کرنے کا مقصد کسی سلیکٹڈ، رائٹ ونگ، نیم مذہبی براؤن صاحب سے موازنہ نہیں۔ ایسے کسی سٹیٹس کو کے حامی کا موازنہ چے یا ہوگو شایز سے کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم کوئی موازنہ نہیں کر رہے۔ نہ ہی مڈل کلاس کے دانشورانہ طور پر دیوالیہ لوگوں کو ان کی کسی بات کا جواب دینا مقصود ہے۔ انہیں تو معلوم بھی نہ ہو گا کہ چے یا ہوگو تھے کون۔ یہ ویڈیو تو ہم محنت کشوں اور نوجوانوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے تعلیمی مقصد کے لئے پیش کرنا چاہتے ہیں۔


آپ بھی سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والی ویڈیوز ہمیں ارسال کر کے سوشل ڈیسک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اپنی ویڈیوز ہمیں یہاں ارسال کریں۔


Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔