خبریں/تبصرے

کسان رابطہ کمیٹی کا اگلے سال لاہور میں ’کسان کانفرنس‘ کا اعلان

لاہور (جدوجہد رپورٹ /پریس ریلیز) گزشتہ روز لاہور میں ”پاکستان کسان رابطہ کمیٹی“ کی کوآرڈنیشن کمیٹی کا ایک روزہ اجلاس ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت طارق محمود اور سائرہ اسلم نے کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملٹی نیشنل زرعی کمپنیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا، کسانوں میں پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری کو فروغ دیا جائے گا، کھادوں پر انحصار ختم کر دیا جائے گا، مقامی سطح پر بیج بینک تعمیر کئے جائیں گے اورزہر آلود دوائیوں کا استعمال ترک کیا جائے گا۔ فصلوں کو بیڈ بنا کر لگایا جائے گا تا کہ کم از کم پانی کا استعمال کیا جا سکے۔

اجلاس نے کول پاور پلانٹ سے فضائی آلودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ قابلِ تجدید انرجی پلانٹ لگانے کو ترجیح دے اور مزید کول پاور پلانٹس لگانے کے تمام منصوبے ترک کر دے۔

اجلاس میں کسانوں کی عوامی سطح پر تحریک کو از سرِ نو منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ملک بھرمیں کسانوں کی ابھرنے والی تحریکوں کی مکمل حمایت کی جائے گی۔
اجلاس میں زرعی اصلاحات کو غیر اسلامی قرار دینے کے خلاف سپریم کورٹ میں محترم عابد حسن منٹو کی رٹ پٹیشن کو سننے کے لئے فل بینچ کی فوری تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا اور جاگیرداری و سرمایہ داری نظام کے خلاف کسانوں، ہاریوں، مزارعین، بے زمین کسانوں، کسان عورتوں، چھوٹے کاشتکاروں اور مظلوم عوام کی تحریک کو تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اقوامِ متحدہ کے منظور کردہ کسان چارٹر کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اس مسئلے پر پارلیمنٹیرینز کی بڑی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اجلاس نے انجمن مزارعین پنجاب کے رہنما مہر عبدالستار کے خلاف جھوٹے مقدمات کی واپسی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام پبلک زرعی فارموں کی زمینوں کو کام کرنے والے مزارعین کی ملکیت میں دیاجائے۔

اجلاس کے ایجنڈا میں ”پاکستان کسان رابطہ کمیٹی“ کی تاریخ، لا ویا کمپیسینا ( La Via Compisena) سے وابستگی، اقوامِ متحدہ کے کسان چارٹر کا تعارف، پائیدار قدرتی نظام کاشتکاری کی موجودہ صورتحال، موسمی تبدیلیوں کے کسانوں پر اثرات، ”پاکستان کسان رابطہ کمیٹی“ کی تنظیم سازی اور سرگرمیوں کی منصوبہ بندی شامل تھے۔

ان موضوعات پر گفتگو کرنے والوں میں فاروق طارق، صائمہ ضیا، میاں آصف شریف، احمد رافع عالم، یونس راہو اور محسن ابدالی شامل تھے جبکہ بحث میں حصہ لینے والوں میں فاروق احمد خان، ربیعہ باجوہ، الطاف ساقی، گلزار خان، سفیان ورک، سمیرا اسلم، رانا ابو بکر، چوہدری تجمل گجر، محمد مزمل احمد، عبدالرزاق، ڈیوڈ زاہد، نثار عابد، احمد فراز، صلاح الدین، میاں ارشد اقبال، ناصر اقبال، مبشر ریاض، میاں محمد اشرف اور عامر محمود شامل تھے۔ اس موقع پر طاہرہ حبیب جالب اور فیض نے اپنے اور حبیب جالب کے انقلابی شعر اور نغمے پیش کئے۔

اجلاس نے ایک نو رکنی منشور کمیٹی کی تشکیل دی جو ایک ماہ کے اندر”پاکستان کسان رابطہ کمیٹی“ کا چارٹر اور تنظیمی اصول وضع کر کے کمیٹی کی جنرل اسمبلی اجلاس میں پیش کرے گی تا کہ اس پر بحث کے بعد منظور کیا جا سکے۔

اجلاس نے لاہور میں اگلے سال کے آغاز میں ایک بڑی کسان کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔

اجلاس میں پاکستان کے کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کی 20 سے زائد تنظیموں اور تحریکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔