خبریں/تبصرے

ماحولیاتی بحران: کم ہوتی آکسیجن سے سمندروں کا دم گھٹ رہا ہے

فاروق سلہریا

سمندری پانی میں آکسیجن کی سطح جس تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اُس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1960ء سے اب تک لُو آکسیجن واٹر (Low Oxygen Water) یعنی ایسا سمندری علاقہ جہاں آکسیجن کم ہے، اُس میں 4.5 ملین مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔

مندرجہ بالا انکشافات یونیسکوکے ایک تحقیقی مقالے میں کئے گئے ہیں۔ The Ocean Is Losing Its Breath کے نام سے جاری ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق کم ہوتی ہوئی اِس آکسیجن کی بڑی وجہ انسانی کاروائیاں ہیں۔

سمندر کے لئے خطرناک اِن کاروائیوں میں ایک تو تیل سے چلنے والی سمندری ٹریفک ہے۔ ساحلی علاقوں میں بھی ایسی انسانی کاروائیاں جن سے نائٹروجن کا اخراج ہوتا ہے، سمندری پانی میں موجود آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہیں۔

واضح رہے کہ پانی میں ہوا کی نسبت کم آکسیجن ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک لیٹر پانی کے حجم کا موازنہ ایک لیٹر ہوا کے ساتھ کریں تو معلوم ہو گا کہ ہوا میں 0.3 گرام آکسیجن جبکہ پانی میں 0.008 گرام آکسیجن ہوتی ہے۔ گویا ماحولیاتی آلودگی خشکی سے بھی زیادہ آبی حصے کے لئے خطرناک ہے۔

سمندری پانی میں کم ہوتی آکسیجن کی دوسری اہم وجوہات میں انسانی فضلہ اور زرعی فضلہ ہیں۔ کھاد کی شکل میں جو نائٹروجن ہم اپنی زرعی زمینوں میں ڈالتے ہیں، وہ صرف ہماری خوراک کو ہی زہر نہیں بناتیں، وہ سمندر تک پہنچتی ہیں اور وہاں بھی آبی حیات کی زندگی مشکل بنا رہی ہیں۔

اس طرح، پلاسٹک کی ہی مثال لیجئے۔ پلاسٹک کا ایک بڑا حصہ سمندر میں پہنچ رہا ہے۔ پلاسٹک کی بوتلیں اور لفافے نگل کر مچھلیاں اور دیگر آبی جانور ہلاک ہو رہے ہیں۔ سمندر میں موجود جنگلات یا سمندری مخلوقات کے خوراک کے ذخائر پلاسٹک کے ہاتھوں علیحدہ سے تباہ ہو رہے ہیں۔

اس کم ہوتی آکسیجن کی وجہ سے آبی حیات کے ہر حصے کو زندہ رہنے کے لئے زیادہ توانائی خرچ کرنی پڑ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ سمندر زیادہ مقدار میں نا ئٹروجن خارج کر رہے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔