دنیا

ایکواڈور: حکومت داراحکومت سے فرار، سڑکوں پر مظاہرین کا راج…

البرٹو جیووانیلی

ایکواڈور میں لینن مورینو کی حکو مت کی جانب سے کٹوتیوں کے اقدامات کے اعلان کے ایک ہفتے بعد بھی عوام مسلسل سڑکوں پر ہیں اور پورے ملک کو جام کرکے آئی ایم ایف کے نسخوں (جن میں دیگر اقدامات کے ساتھ فیول سبسڈیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے تاکہ عوام بحران کی قیمت ادا کریں) کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پٹرول کی فی لیٹر قیمت 1.83 ڈالر سے 2.35 ڈالر ہونے کا مطلب پبلک ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں فوری اضافہ اور افراط زر کا بڑھنا ہے جس کے تباہ کن اثرات ہمیشہ عوام پر ہی پڑتے ہیں۔

لینن مورینو کے ”غیر معمولی اقدامات“ اور ٹرانسپورٹ مافیا کی جانب سے ہڑتال کے خاتمے کے اعلان کے باوجود بے تحاشہ عوامی غم و غصہ موجود ہے اور ملک کے مرکزی کوہستانی علاقوں سے ہزاروں آبائی لوگ (Indigenous People) دارالحکومت کی طرف مارچ کر رہے ہیں جہاں وہ اُن کسانوں، مزدوروں، طلبہ اور عام لوگوں کے ساتھ مل جائیں گے جو مورینو کے استعفے اور صدارتی حکم نامہ 803، جس کے ذریعے فیول سبسڈی کا خاتمہ کیا گیا ہے، کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی غلامی میں جکڑی حکومت

مورینو کی حکومت کی اتنی غیر مقبول ہے کہ ہر 100 شہریوں میں سے 92 اس حکومت کو بد یا بد تر تصور کرتے ہیں۔ وہ تمام تر سماجی حاصلات کو برقرار رکھنے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آیا تھا لیکن شروع دن سے ہی اس کی حکومت بڑے کاروباریوں اور مالیاتی سٹہ بازوں کے لیے وقف تھی جس نے سرمایے کی منتقلی پر ٹیکس کو 50 فیصد کم کیا، نتیجتاً زرعی پیداوار گر گئی اور زرعی درآمدات کا راستہ کھل گیا۔ چاول، اناج اور ڈیری مصنوعات کی قومی پیداوار رک گئی۔ یہ اب لاطینی امریکہ کی ان حکومتوں میں شامل ہو گئی ہے جنہوں نے لوگوں کی امیدوں کو ابھارا اور پھر ان سے غداری بھی کی۔ ایک طرف سے اپنے آپ کو ترقی پسند کہتے ہیں لیکن دوسری طرف سامراجی مالیاتی اداروں کے شرائط کو قبول کرکے انہیں ملک میں نافذ بھی کرتے ہیں۔

انقلاب کی پیش قدمی

مورینو کی حکومت نے فی الحال دارالحکومت سے بھاگ کے ’گوایاکویل‘ میں پناہ لی ہے جہاں سرمایہ داروں کے چیمبر، بینکر اور بڑے کاروباری مافیا اس پر اور آئی ایم ایف کے ساتھ اس کے معاہدوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور احتجاجی عوام کو ”کام چور“ کا لقب دے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں ہزاروں لوگ ”ہاں! میں کام چور ہوں“ کے پوسٹر وں کے ساتھ سڑکوں اور سوشل میڈیا پر نکل آئے ہیں۔ آج ’گوایاکویل‘ شہر میں بھی عوامی غم و غصہ پھٹ پڑا اور 70 مختلف مقامات پر کاروباروں پر حملے اور لوٹ مار کے واقعات ہوئے۔ اس سے مجبور ہو کر مورینو نے اپنے آپ کو ’سالیناس‘ کے ایک فوجی اڈے میں محصور کر لیا ہے اور وہاں سے حکومت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سڑکوں کو جام رکھنے اور حکومتی عمارات اور مقامی حکومتوں کے گھیراؤ کو جاری رکھنے کی کال پورے ملک میں بڑھتی جا رہی ہے۔ احتجاج کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور متعدد کسان تنظیمیں دارالحکومت ’کویٹو‘ کی طرف مارچ کر رہی ہیں۔

’قومی شہری اسمبلی‘ کے قیام کی بھی کال دی گئی ہے جس میں بائیں بازو کے رجحانات اور لڑاکا مزدور، کسان اور طلبہ تنظیموں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ اس میں حکومت کے مینڈیٹ کو مسترد کیا جائے گا اور تمام تر کٹوتیوں کا خاتمہ اور آئی ایم ایف سے قطع تعلقی کا پروگرام دیا جائے گا۔ لیکن ایک متبادل معاشی پروگرام اور فوری الیکشن کی کال بھی دی جا رہی ہے۔

تمام اخبارات، ملکی اور عالمی میڈیا اور تحریک میں شریک لوگوں کی رپورٹوں سے یہ صاف نظر آرہا ہے کہ ایکواڈور ایک حقیقی انقلاب سے گزر رہا ہے۔ اس کی پیشرفت اور وسعت سے قطع نظر‘ ملک اب پہلے کی طرح کبھی نہیں رہ سکتا۔

ایکواڈور کا موجود بحران آئی ایم ایف کے نسخوں کے نفاذ کا نتیجہ ہے جو پورے لاطینی امریکہ میں جاری ہے۔ یہ تحریکیں نہ صرف موجودہ حکومتوں بلکہ پوری ریاست اور نظام پر سوالیہ نشان لگا رہی ہیں۔ یہ فیصلہ کن لمحات ایکواڈور کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ تحریک کی پیش قدمی سے وہ لازمی متبادل تخلیق ہوسکتا ہے جو نہ صرف لینن مورینو کی حکومت بلکہ ہر اس سرمایہ دارانہ رجحان کے خلاف جنگ لڑے گا جو تحریک کو اس کے بنیادی مقصد سے ہٹانے کی کوشش کر ے گا کیونکہ اس وقت ایکواڈور کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں ایک انقلابی اتھل پتھل کی ضرورت ہے تاکہ مزدوروں اور کسانوں کی حکومت قائم ہو۔