پاکستان

آئی ایم ایف کا آئی ایم ایف سے معاہدہ…

عمران کامیانہ

کل مورخہ 12 مئی کی شام عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی رو سے پاکستان کو 39 مہینوں کے دوران قسطوں میں تقریباً 6 ارب ڈالر کا قرضہ دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ معاہدہ پاکستانی حکام اور یہاں موجود آئی ایم ایف کے مشن (جس کی قیادت ارنستو رمریز ریگو کر رہا ہے) کے درمیان طے پایا ہے جس کی حتمی منظوری ابھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے دینی ہے۔ عین ممکن ہے یہ بورڈ ناک سے مزید لکیریں نکلوائے۔ تاہم یہ منظوری مل جانے کی صورت میں ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی ’کم شرح سود‘ پہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا قرضہ دیں گے۔

یہ معاہدہ اسد عمر کے استعفے کے بعد غیر اعلانیہ طور پہ وزیر خزانہ کا منصب سنبھالنے والے حفیظ شیخ (جنہیں آئی ایم ایف کے حکم پر ہی دوبارہ ’درآمد‘ کیا گیا ہے) اور آئی ایم ایف کے حکام کے درمیان کئی ہفتوں کے ”مذاکرات“ کے بعد طے پایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں وزارتِ خزانہ کے بہت سے اہم افراد شریک نہیں تھے۔ دوسرے الفاظ میں انہیں شریک نہیں کیا گیا۔ یوں اگر کہا جائے کہ ایک ایسا معاہدہ جو 22 کروڑ لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو گا‘ آئی ایم ایف نے خود اپنے آپ کیساتھ ہی کیا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ شفافیت کی ایسی اعلیٰ مثالیں روز روز دیکھنے کو نہیں ملا کرتیں!

شرائط کیا ہیں؟

عوام کے لئے پچھلے کئی مہینوں کی سیاسی اور معاشی پیش رفت کی طرح یہ معاہدہ بھی کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ اعداد و شمار اور اصطلاحات کی پیچیدگیوں سے ہٹ کے بات کی جائے تو آئی ایم ایف نے جو شرائط عائد کی ہیں ان کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

* بجلی اور گیس کو مزید مہنگا کرنا ہو گا۔ جس سے اگلے تین سالوں میں صارفین پر 340 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
* بجلی اور گیس کی ریگولیشن کے اداروں ’نیپرا‘ اور ’اوگرا‘ کو ”خود مختیار“ بنایا جائے گا۔ یعنی حکومت کو بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے سے بری الذمہ ہونے کا موقع مل جائے گا۔
* پٹرول بھی مزید مہنگا ہو گا۔ پہلے ہی ایک لیٹر تیل پر تقریباً 40 روپے تک کا ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
* روپے کی قدر کا تعین منڈی کرے گی۔ اِس حوالے سے سٹیٹ بینک یا حکومت منڈی کے مقدس قوانین میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اِس اقدام سے ڈالر کے 160 روپے یا اِس سے بھی بڑھ جانے کا امکان ہے (بعض ماہرین نے 200 روپے تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے)۔ جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ واضح رہے کہ پچھلے پندرہ مہینوں کے دوران روپے کی قدر میں 35 فیصد کمی پہلے ہی کی جا چکی ہے۔
* حکومت کو اپنے خرچے کم کرنا ہوں گے۔ مالی خسارہ 0.6 فیصد سالانہ کی شرح سے کم کرنا ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ترقیاتی بجٹ، صحت و تعلیم کے پہلے سے انتہائی قلیل بجٹ اور بچی کھچی سبسڈیوں وغیرہ میں مزید کٹوتیاں کی جائیں گی۔
* ”سٹرکچرل اصلاحات“ یعنی سرکاری شعبے میں چھانٹیاں اور نجکاری۔ سٹیل مل، پی آئی اے، سٹیٹ لائف اور ہسپتالوں سمیت کم و بیش تمام سرکاری اداروں کی نجکاری کا پروگرام ہے۔
* شرح سود، جو پہلے ہی 10.75 فیصد تک پہنچا دی گئی ہے، 14 فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔
* تاہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے مکروہ منصوبے، جن میں لوگوں کو بھکاری بننے کی ترغیب دی جاتی ہے، جاری رہیں گے۔
* مجموعی طور پہ آنے والے بجٹ میں 750 ارب روپے کے نئے ٹیکس عوام پہ لگائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
* اِن اقدامات سے معیشت کی شرح نمو 2.5 فیصد تک گر جانے کا امکان ہے۔ جبکہ ہر سال محنت کی منڈی میں داخل ہونے والے 15 لاکھ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے کم از کم 7 فیصد کی شرح نمو درکار ہے۔
* مذکورہ بالا نکات سے واضح ہے کہ بیروزگاری بڑھے گی۔

مختصراً بات کریں تو آئی ایم ایف کا یہ پروگرام عوام کی مزید تنگی اور بربادی کا نسخہ ہے۔ شاید کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ”بجلی و گیس کی قیمتوں سے اضافے سے غریبوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا“ جیسی باتیں انتہائی گھٹیا مذاق اور خباثت کے زمرے میں آتی ہیں۔

 

’پاکستان کو ملنے والا قرضہ‘ مصر ماڈل کا چربہ ہی معلوم ہوتا ہے‘

مصر میں بھی ماضی قریب میں اسی نوعیت کا ایک پروگرام لاگو کیا گیا ہے۔ کچھ دن قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ملنے والا قرضہ‘ مصر ماڈل کا چربہ ہی معلوم ہوتا ہے۔”آئی ایم ایف میں مصر کو ایک پوسٹر چائلڈ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے پہلے مصر میں تقریباً 30 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے تھے اور آج یہ شرح 55 فیصد ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ شرح سود بڑھے گی، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیاں ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی اور یہ سب عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا۔”اِس سے پاکستان میں کسی قسم کا استحکام نہیں آئے گا کیونکہ یہ معیشت کی شرح نمو (گروتھ ریٹ) کو گرا دے گا۔“


مزید تفصیلات کے لئے آپ ہمارا یہ مضمون پڑھ سکتے ہیں۔


 

Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔