خبریں/تبصرے

سعودی عرب: ’ملحد‘ روس کیساتھ 2 ارب ڈالر کے معاہدے اور 21 توپوں کی سلامی

عظمت آفریدی

14 اکتوبر 2019ء کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سعودی عرب کے دورے پر گئے جہاں بی بی سی (16 اکتوبر 2019ء)کے مطابق شاہ سلمان نے نہ صرف ان کا شاندار استقبال کیا بلکہ انہیں 21 توپوں کی سلامی بھی دی۔ ولی عہدمحمد بن سلمان نے پوتن کے ساتھ دو ارب ڈالر سے زائد کے دو طرفہ معاہدوں پر دستخط بھی کئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی چار دہائیاں پہلے کی بات ہے کہ اسی”ملحد“روس کومٹانے کے لئے افغان جہاد کے نام پر امریکہ، پاکستان اور سعودی عرب نے مل کر پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں میں دہشت و بربریت کا ایک نہ ختم ہونے والا کاروبار شروع کیا تھا۔ ان علاقوں میں غریب قبائلیوں کے بچوں کے لئے مدرسوں کا ایک وسیع جال بچھایاگیا جہاں ان کو ”ملحد“ روسیوں کے خلاف جنگ کیلئے تیار کیا گیا۔ [یہ درست ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ روسی ریاست کااُس روسی ریاست سے موازنہ سیاسیات کے مطابق درست نہیں مگر یہاں روس شناخت کی حد تک محدود ہے]۔

مذہبی بنیاد پرستی پر تیار ان مجایدین نے اپنے پیچھے یتیموں اوربیواؤں کے لشکر چھوڑے۔ یہ یتیم بھی بڑے ہو کر امریکی ڈالرجہاد کا کامیابی سے ایندھن بنائے گئے۔

قبائلی علاقوں میں بندوق اور بارود سے جڑی نفرت، تشدد اور عسکریت پسندی کی ایسی آدم خور نفسیات پیدا کی گئیں جس نے اس علاقے کے کلچر، معیشت اور مزاج تک کوخونی بنا دیا۔

تاہم اب وہی روس ہے اور وہی سعودی عرب۔ ان پچھلے سالوں میں نہ تو روس مسلمان ہوگیاہے نہ ہی سعودی عرب نے الحاد قبول کرلیاہے۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ حکمران کس مکاری اورمنافقت سے اپنے طبقاتی و ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے غریب لوگوں کوبے دردی سے جنگوں کاایندھن بناتے ہیں۔

افغان جہاد میں نہ صرف پشتون قبائلیوں کی نسلیں برباد کردی گئیں بلکہ نفرت اورانتہاپسندی کی آگ ملک کے باقی حصوں میں بھی سرایت کرگئی جس میں کبھی غریب عیسائی محنت کش جلتے ہیں، کبھی احمدی توکبھی یونیورسٹی کے طلبہ اورپروفیسرز۔ امریکہ، سعودی عرب یا پاکستان کے حکمرانوں کاکچھ بھی نہیں بگڑا۔

ابھی جب اسلام کا سب سے بڑا چیمپئین سعودی عرب اور ”کافر“ روس دوستی کو بڑھاوا دے رہے ہیں تو مذہب ان کے درمیان بالکل بھی رکاوٹ نہیں بنا۔

مذہب ہمیشہ سے حکمران طبقات کے ہاتھوں میں استحصال کا ایک موثر ہتھیار رہاہے۔ وہی پاکستانی مذہبی بنیاد پرست جو افغان جہاد اور سعودی اسلام کے قصیدے بیان کرتے تھے اب اس ”غداری“ پر خاموش ہیں: جب حکمرانوں کے مفادات تبدیل ہوجاتے ہیں تو یہ بھی اپنے قبلے درست کرلیتے ہیں۔

Azmat Afridi

عظمت آفریدی نے پشاور یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ایم اے کیا ہے۔ وہ سیاسیات، معاشیات، مذاہب اور تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔