پاکستان

زرعی ملٹی نیشنل کمپنیوں کیخلاف پنجاب کے کسانوں کی خاموش بغاوت

فاروق طارق

پنجاب میں کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کی ایک خاموش تحریک جاری ہے۔ ہزاروں کسان اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ تمام چھوٹے زمیندار اور کسان ایک نئے زرعی طرزِ پیداوار پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ جس کے تحت وہ کھاد کے استعمال میں بڑی بچت کرتے ہیں۔ زرعی دوائیاں ممنوع ہیں۔ بیج انتہائی کم ڈالتے ہیں اور پانی بھی پہلے کی نسبت بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ ٹریکٹر کا انتہائی کم استعمال ہے اور زمین میں صرف ابتدائی طور پر ہل چلایا جاتا ہے۔ بعد ازاں ہل کے بغیر ہی اگلی فصل لی جاتی ہے۔

اس طریقہ کار کا نام انہوں نے ”پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری“ رکھا ہے جس کا مخفف ’پقنک‘ ہے۔ اس نظام کے تحت اس کسان برادری کا فلسفہ ہے کہ قدرت نے ہزاروں سال اس برصغیر پاک و ہند میں بغیر کھادوں، زرعی دوائیوں اور نہروں کے نظام کے‘ زبردست فصل دی ہے۔ اس سارے قدرتی عمل کو مختلف زرعی عالمی کمپنیوں، مشینوں، کھادوں، ہائیبرڈ بیجوں اور دوائیوں کے استعمال نے تباہ کیا۔ زمین کا ستیا ناس کیا اور اس سارے عمل میں زرعی بینکوں نے ان کمپنیوں کی مدد کی۔

آج پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی پائیدار قدرتی نظام کاشتکاری کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ جن زمینداروں اور کسانوں نے اس عمل کو اپنایا ان کے اخراجات میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی اور ان کی آمدن میں زبردست اضافہ ہوا۔ ان کا کھادوں، بیجوں اور دوائیوں پر انحصار بہت کم رہ گیا اور قدرتی طرز کاشتکاری نے ان کے لئے نیا راستہ کھول دیا ہے۔

ان کسانوں اور زمینداروں کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور انہوں نے بے شمار واٹس اپ گروپوں کی تشکیل دے کر اپنے تجربات کو شیئر کیا ہے۔ ان واٹس اپ گروپوں میں اس وقت کم از کم چالیس ہزار کسان اراکین ہیں۔

’پقنک‘ کو ایک ترقی پسند ماہر زراعت میاں آصف شریف نے پچھلے چند سالوں میں خاموشی سے پھیلایا اور تعمیر کیا ہے۔ ان کے درجنوں لیکچر ان گروپوں میں سنے جاتے ہیں۔ وہ اپنا سارا وقت کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لئے ان کو مشورے دینے میں صرف کرتے ہیں۔ وہ خود کوئی زرعی مشینیں فروخت نہیں کرتے اور نہ ان کے اس سارے عمل سے اُن کے کوئی معاشی مفادات ہیں۔
مختلف عالمی یونیورسٹیوں میں ان کے اس نئے طرز معیشت کو سراہا جا رہا ہے اور ان کو لیکچر دینے کے لئے بلایا جاتا ہے۔

اس ہفتے لاہور کی’لمز‘ یونیورسٹی نے بھی انہیں مدعوکیا۔ راقم اور ان کے دو ساتھیوں کو بھی اس لیکچر کو سننے کا موقع ملا۔ ہم پہلے بھی ان کے لیکچر سن چکے تھے اور پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی درخواست پر وہ کئی دفعہ کسانوں کو ملٹی میڈیا کی مدد سے اس طرز پیداوار سے متعارف کرا چکے ہیں۔

ان کے اس لیکچر کو سننے کے لئے پروفیسر، ریسرچ ایسوسی ایٹس اور طلبہ کے علاوہ پنجاب کے دو صوبائی وزیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ نیا ایجاد نہیں کیا بلکہ جو قدرتی طور پر پیدا ہو رہا تھا اس کا مشاہدہ کر کے اس طریقہ کار کو متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے ملٹی نیشنل زرعی کمپنیوں کی جانب سے کسانوں کے استحصال کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ کمپنیاں اپنی پراڈکٹ بیچنے کے لئے کسانوں کو مس گائیڈ کرتی ہیں۔

میاں آصف شریف نے کہا کہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ آج تک کسانوں کے لئے ایک بھی زرعی سکول موجود نہیں۔ انہیں جو دوائیوں اور کھادوں کی کمپنیاں گائیڈ کرتی ہیں اسی کے مطابق وہ کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسان جب تک اپنی آنکھ سے کچھ دیکھ نہ لیں وہ اس پر یقین نہیں کرتے۔ اب پنجاب کے کئی علاقوں میں ’پقنک‘ کے مطابق کاشتکاری ہو رہی ہے۔ جس سے کسانوں کی ان کمپنیوں سے جان چھوٹ رہی ہے۔ اگر یہ بغاوت بڑے پیمانے پر پھیل گئی تو ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان سے اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا ’پقنک‘ میں قدرتی نظام کی بات ہے۔ یہ آرگینک نہیں ہے۔ آرگینک تو خود ایک ڈھونگ ہے۔ آرگینک بھی ایک بزنس بن چکا ہے اس میں بہت ہیرا پھیری ہے۔

واٹس اپ گروپوں میں کسانوں کے درمیان بڑی زبردست بحثیں ہو رہی ہیں اور ایک دوسرے کو پقنک سمجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ایک زمیندار عبدالرزاق نے گروپ میں لکھا، ”آپ بہت جلد ماڈل ہی ماڈل دیکھیں گے۔ ایگرو کمپنیوں کی پھکی کے پیک بھی انشاللہ اُن کی شیلفوں میں پڑے پڑے ہی ایکسپائر ہو جائیں گے… اب میں اس بات کا داعی ہوں کہ ’پقنک‘ ہی ہماری کاشتکاری کی بقاہے۔“

انہوں نے کہا کہ اب میرے ایک ایکڑ کے اخراجات اور آمدن روپوں میں کچھ اس طرح ہیں:

بیج: 1000
ہل اور بیڈ: 2000
ڈی اے پی: 3800
یوریا: 1800
پانی: 500
ہار ویسٹ: 2500
ٹوٹل خرچہ: 10600

پیداور: 46 من
ریٹ فی من: 1300
سیل: 59800
نیٹ انکم: 49200

یعنی گندم کو ایک ایکڑ پر ’پقنک‘ کے طریقہ کار سے کاشت کرنے کے اخراجات صرف 10600 ہوئے جبکہ سیل 59800 روپے کی ہوئی۔ یوں انہیں ایک ایکڑ سے 49200 روپے نیٹ آمدن حاصل ہوئی۔

میاں آصف شریف نے کہا کہ کمپنیاں یہ کہتی ہیں کہ آپ کے ایکڑ میں پیداوار زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئے مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ اخراجات کتنے ہوئے۔ کسان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ ایک ایکڑ سے کتنا کما لیتے ہیں نہ کہ کتنا پیدا کرتے ہیں۔

ابھی کسانوں کی یہ تحریک ابتدائی مرحلے پہ ہے۔ اس کا ابھی کمپنیوں کی طرف سے نوٹس بھی نہیں لیا جا رہا۔ یہ دراصل اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف بغاوت ہے جو کبھی سبز انقلاب کے نام پر کی جاتی تھی اور کبھی کھادوں، بیجوں اور دوائیوں کی کمپنیوں کے پر اثر ٹی وی اشتہاروں کی بنیاد پر‘ جن میں کسانوں کو کہا جاتا تھا کہ پیداوار بڑھانی ہے تو ان کی مصنوعات استعمال کریں۔ جبکہ اخراجات بیان ہی نہیں کیے جاتے۔
پاکستان میں زرعی بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ کسان جو فصل، سبزیاں اور پھل منڈی میں لاتے ہیں اور اس سے جو کچھ کماتے ہیں اس سے ان کے فی ایکڑ اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔

غربت کسانوں میں بڑھتی جا رہی ہے۔ کمپنیوں کی لوٹ کھسوٹ کا اس میں بڑا کردار ہے۔ پائیدار قدرتی نظام کاشتکاری نے کسانوں کی آمدن میں اضافہ کرنے اور کمپنیوں کے استحصال سے جان چھڑانے کا نیا راستہ ڈھونڈا ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔