پاکستان

آئی ایم ایف کے خلاف سڑکوں پر آنا ہو گا!

خالق شاہ

”شکر ہے لوگوں کو معلوم نہیں کہ بینک کام کیسے کرتے ہیں۔ اگر انہیں اس نظام کی سمجھ آ جائے تو کل صبح ہونے سے پہلے انقلاب آجائے!“ (ہنری فورڈ)

پاکستانی معیشت اس وقت شدید نوعیت کی بحرانی کیفیت سے دو چار ہے۔ عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے عوام کو یقین دلاتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے چھٹکارہ دلائیں گے۔ پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید کی وہ تقریر آج کل پھر سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ کی جا رہی ہے جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت بنتے ہی سو ارب ڈالر کے قرضے وہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے منہ پر دے ماریں گے۔ کم از کم عمران خان کے حامی تو اس نعرے بازی پر شاید یقین کرنے لگے تھے۔

حکومت کا آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ چھ ارب ڈالر کا ’پیکیج‘ ملا ہے۔ عمران خان حکومت کی بے بسی کو بھانپتے ہوئے آئی ایم ایف نے شدید دباؤ ڈالا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روپے کی قدر میں بیس فیصد مزید کمی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے باقی تمام مطالبات پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مندرجہ ذیل مطالبات ہیں:

* نج کاری پھر سے شروع کی جائے۔
* سبسڈیاں ختم کی جائیں۔
* روپے کی قدر میں کمی پر لچک دکھائی جائے۔
* اندرونی قرضوں سے اجتناب برتا جائے۔

ماضی میں آئی ایم ایف سے ملنے و الے قرضوں کے ساتھ جڑی انتہائی کڑی شرائط کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں صحت، تعلیم، رہائش اور عوامی فلاح کے دوسرے شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اب جو شرائط مسلط کی جا رہی ہیں ان کا نتیجہ مزید ٹیکسوں، مہنگائی اور بیروزگاری کی شکل میں ہی نکلے گا۔ گویا سارا بوجھ عوام کو اٹھانا ہو گا۔ عوام پہلے ہی گیس اور بجلی کے بلوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ برداشت کر رہے ہیں۔

معروف معیشت دان ڈاکٹر قیصر بنگالی درست کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے: تمام سرکاری اداروں کی نج کاری تاکہ غیر ملکی کمپنیاں انہیں خرید سکیں۔ لیکن بات نجکاری تک نہیں رکے گی۔ ریاستی اثاثوں کی نجکاری کے بعد کہا جائے گا کہ قدرتی وسائل بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کر دئیے جائیں۔
آج کل اس بات کا بھی کافی شور ہے کہ بینک دولت پاکستان (سٹیٹ بینک) کے سربراہ اور وزیرِ خزانہ کو باہر سے منگوایا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ چند لوگوں کو چھوڑ کے‘ پاکستانی معیشت کے پالیسی ساز ہمیشہ ہی باہر سے آتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار عام پاکستانی کو بھی نظر آ رہا ہے کہ معاشی فیصلے کون کرتا ہے۔ ہر شہری آئی ایم ایف کا نام لے رہا ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کر کے دنیا کے کسی ملک نے ترقی نہیں کی۔ آئی ایم یف کی شرائط تسلیم کرنے کا مطلب ہے قرضوں کی دلدل میں مزید دھنسنا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اپنی خود مختاری سے مزید دستبردار ہو رہا ہے۔

حکومت کہہ رہی ہے کہ اگلے سات سال میں اکتیس ارب ڈالر قرضہ ادا کرنا ہو گا۔ اکتیس ارب میں سے 25 ارب تو اصل قرضہ اتارنا ہے۔ پانچ ارب سُود بھی دینا ہے۔ اس میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضے بھی شامل ہیں۔ اگلے سات سالوں میں مزید قرضے لیے جائیں گے اس لئے اصل رقم اکتیس ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہو گی۔

یہ قرضے عام پاکستانی شہریوں نے اتارنے ہیں۔ امیر لوگوں پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ حالت یہ ہے کہ ملک میں چھیاسی فیصد ٹیکس بالواسطہ اکٹھا کیا جاتا ہے اور باقی چودہ فیصد براہِ راست۔ بالواسطہ ٹیکس سے مراد وہ ٹیکس جو ہم ماچس کی ڈبیا خریدیں یا موبائل میں ایزی لوڈ کروائیں‘ موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوائیں یا سگریٹ کا پیکٹ خریدیں‘ حکومت ہم سے پیسے ہتھیا رہی ہوتی ہے۔

کیا کیا جائے؟

پچھلی حکومتوں نے جو قرضے لیے ہیں اُس کا آڈٹ کروایا جائے۔یہ آڈٹ آزاد پارلیمانی کمیشن کرے تا کہ پتہ چلے کہ کس نے کتنا قرضہ لیا اور کہاں خرچ ہوا۔ یعنی کیا قرضے عوام پر خرچ ہوئے یا خواص کے سوئس اکاونٹس میں پہنچ گئے؟ یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب عوام آ ئی ایم ایف کے خلاف سڑکوں پر نکلیں۔

Khaliq Shah

خالق شاہ انسٹیٹیوٹ فار سوشل اینڈ اکنامک جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ تیسری دنیا کے قرضے منسوخ کروانے کے لئے سرگرم عالمی تنظیم’سی ٹی ڈی ایم‘ کے پاکستان میں فوکل پرسن بھی ہیں۔ پاکستان پر عالمی قرضوں کے حوالے سے ان کی تحقیق پاکستانی اور عالمی میڈیا میں شائع ہو چکی ہے۔