سماجی مسائل

روزمرہ کے مسائل: شور کا مسئلہ

لال خان

صوتی آلودگی (Noise Pollution) انسان کی زندگی پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔ شور سے قوت سماعت متاثر ہوتی ہے، نیند میں خلل پڑتا ہے، ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ سنگین ہوجاتا ہے، حرکت قلب اور دل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، چڑچڑا پن اور ڈپریشن پیدا ہوتا ہے۔

جدید میڈیکل ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ صوتی آلودگی جسم کی قوت مدافعت کو کمزور کرتی ہے، بچوں میں پیدائشی نقائص کا سبب بنتی ہے اور طالب علموں کی لکھنے پڑھنے اور سیکھنے کی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

آج کسی شاہراہ، کسی گلی میں چلے جائیں، ہر طرف شور ہی شور ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ صوتی آلودگی بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ شور آلود شہروں میں سے پہلے پانچ ہندوستان اور پاکستان میں ہیں۔

دن کو رکشے، کاریں، بسیں اور ویگنیں شور مچاتی ہیں تو رات کو سڑکوں کے بادشاہ ٹرک اور ٹرالے خاموشی کو چیرتے ہوئے گزرتے رہتے ہیں۔

بڑی بسوں اور ٹرکوں کے ہارن 118 ڈیسی بل کا شور پیدا کرتے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق 85 ڈیسی بل کا شور بھی انسان کی قوت سماعت کے لئے مضر ہے۔

یورپ جیسے ترقی یافتہ خطوں میں ہارن بجانا ایک بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔ وہاں ایک سال میں اتنا ہارن نہیں بجتا جتنا یہاں ایک گھنٹے میں بجایا جاتا ہے۔ اس خطے میں صرف سرمایہ داری کی بدتمیزیاں ہی پہنچی ہیں۔

یہاں ڈرائیونگ کا انداز بھی نرالا ہے۔ ضرورت ہو یا نہ ہو، ہر کوئی ہر وقت ہارن بجارہا ہے۔ پورے شہر میں گھومنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں پریشر ہارن نصب ہیں جو اتنی زور سے بجتے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔

گاڑیوں میں ”ساؤنڈ سسٹم“ نصب کرنے کا بھی رواج چل پڑا ہے جس کا والیم ”فل“ رکھا جاتا ہے اور گاڑی جس محلے سے گزرتی ہے اس کے درودیوار ہل جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ موٹر سائیکل کے سائلنسر نکال کر ”یوم آزادی“ اور مذہبی تہواروں پر شور مچانے کی نفسیات شہری نوجوانوں میں پائی جانے والی سماجی بیگانگی اور لمپن ازم کی عکاسی کرتی ہے۔

شور صرف ٹریفک کا ہی نہیں ہے۔ شادیوں اور دوسری تقریبات پر پٹاخوں اور فائرنگ کا شور، رہائشی علاقوں میں کھلی ورکشاپوں اور کارخانوں کا شور، سیاسی ریلیوں اور انتخابی مہمات کا شور، ہر ایک گھنٹے بعد چلتے بند ہوتے جرنیٹروں کا شور وغیرہ وغیرہ۔

یہاں مذہبی ہم آہنگی اور امت مسلمہ کا بھی بہت درس دیا جاتا ہے۔ جبکہ ہر قدم پر ایک مسجد موجود ہے جو کسی مخصوص فرقے کے لئے مخصوص ہے۔ کئی محلوں میں تو ہر فرقے کی ایک ایک مسجد نظر آتی ہے جو ایک دوسرے سے چند میٹر کے فاصلے پر بھی ہو سکتی ہیں۔ اور جب یہ فرقہ پرست ملاں ایک دوسرے کے مقابلے میں دھاڑتے ہیں تو صورتحال قابو سے باہر معلوم ہوتی ہے۔

صوتی آلودگی نہ صرف شہری زندگی میں زہر گھول رہی ہے بلکہ اب تو دیہی زندگی کا رہا سہا سکون، ٹھہراؤ اور خاموشی بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔

لیکن ”آزاد منڈی کی معیشت“ افراتفری اور انارکی کے سوا اور ہے بھی کیا؟ یہ معاشرہ منصوبہ بندی سے عاری اور ”مقابلہ بازی“ پر مبنی اس سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہی تو ہے۔

جب تک یہاں صنعت اور رہائش سے لے کے زراعت اور ٹرانسپورٹ تک‘ سماجی بنیادوں پر ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جاتی یہ شور اور افراتفری ختم نہیں ہو سکتے۔ اس کے لئے ہر شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے انتہائی جدید، سستے اور آرام دہ نظام تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

نجی ٹرانسپورٹ، جس کے شور کے علاوہ بھی ہر طرح کے نقصانات ہیں، کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے اور اس کا متبادل فراہم ہونا چاہئے۔ پیداواری عمل کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ ایسی ہر سرگرمی جس میں شور ناگزیر ہو‘ کو آبادی سے دور منتقل کیا جائے۔

اسی طرح ٹرکوں اور ٹرالوں وغیرہ کا سستا اور کفایت شعارانہ متبادل ریلوے کی شکل میں موجود ہے جس کا بیڑا اِس ملک میں غرق کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اِس وقت انتہائی تیز رفتار اور خاموش ٹرینیں دنیا میں چل رہی ہیں۔

حل تو ہر مسئلہ کا موجود ہے۔ لیکن جب مروجہ نظام ہی سب سے سب سے بڑا مسئلہ بن جائے تو پہلے اِسے حل کرنے کی ضرورت ہے!


ہمارا ”روزمرہ کے مسائل“ کا سلسلہ بالکل مختصر مضامین پر مشتمل ہو گا جس میں آپ بھی کسی سماجی مسئلے اور اس کی وجوہات کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اپنی تحریریں یا آرا ہمیں یہاں ارسال کریں۔


 

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔