پاکستان

کرونا وبا: ماہی گیروں کے مسائل

کے بی فراق
 
ماہی گیروں    کی   محنت  سے فِش فیکٹری مالکان اور مڈل مین بھوک  سے  رہائی  پا  گئے اور  ماہی گیروں  کے لیے بھوک لکھ دی گئی۔ مالکان نے اپنے  لیے  دائمی  مسرت و خوشحالی  اور  اتنا   کچھ   ماہی گیروں  کی  محنت سے حاصل کیا کہ کبھی  دل  کرے تو  دُنیا  جہاں  کے  سفر  کو نکلتے ہیں تاکہ اضافی  رقم   وہاں  خرچ  کر  آئیں۔ لیکن اس بیچ ماہی گیروں  کے لیے مالکان کی  پالیسی یاسوشل سیکٹر میں کچھ بھی شامل نہیں۔ لیکن  یہ  سب    سرمایہ  کار  کی  قلم رو  کا  حصہ نہیں حالانکہ یہ ہر ایک کمپنی کے لیے  لازم  ٹھہرتا  ہے  کہ  محنت کشوں کی زندگی میں آسانیاں  پیدا کی جائیں لیکن یہ خواہش رکھنا سرمایہ داروں کے ہاں  محض  خام خیالی ہے۔ تاہم ماہی گیر وں کی محنت سے  فیکٹری  مالکان ارب پتی  بنتے  گئے اور اس بیچ ماہی گیر وں کی  زندگیاں تلف  ہوتی گئیں۔
 
ماہی گیروں کے لیے سرکار کی  طرف  سے  پہلے   ہی  عذاب  نازل  ہے اور  دوسری طرف سی پیک کے سلسلے میں  تعمیر  کیا جانے والا ایکسپریس وے کا معاملہ بھی ان کی روزی روٹی اور زندگی کے لیے آزار بنا ہوا  ہے۔ بیشتر  لوگوں   میں نفسیاتی مسائل در آئےہیں۔ اس سب میں رہی سہی کثر کرونا وبا نے پوری کر دہی ہے۔ ہم نے بہت پہلےان کو سوشل سیکٹر میں  باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنے کے حوالے سے کہا بھی تھا۔ 
 
ان  دِنوں  ماہی گیروں کے گھرانوں  میں  کسمپرسی  کا عالم ہے اور ماہی گیر  ہی  کی  محنت  پر  منحصر  مارکیٹ اور دیہاڑی دار مزدور، دکاندار اور مستری  بڑی اذیت میں ہیں۔ اس کرونا وبا میں بھی تکلیف اور بچوں  کی  بھوک  کو  دیکھتے ہوئے چند ایک ماہی گیر  روزگار کے لیے  کشتی  لے کر  گئےلیکن انھیں پکڑ کر بند کیا گیااور بعدازاں اس تنبیہہ کے ساتھ  چھوڑ دیا گیا کہ سمندر جانے سے کورونا وائرس لگنے کا  خدشہ ہے۔ لیکن اس کے  متبادل  کی شنوائی کون کرے گا کہ بچے بھوک سے بلک  رہے ہیں  اور دودھ  پیتے بچوں  کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ سرکار نے معاونت کرنےسےانکار کیاہے اور اگر فیکٹری مالکان بھی باہمی شراکت سے معاونت کے  لیے  آگے  آئیں تو ان کے سرمایہ میں رتی بھر کمی نہیں آئے گی۔ اگر  وہ  اس  سخت  حالت  میں بھی نفع نقصان کی شماریات میں لگ گئے،جو کہ عام حالات میں بھی  ان کا وطیرہ ہے لیکن وباکے دِنوں  میں مملکتِ خداداد کی بدبودار ذہنیت سے نکل کر آگے آنا  چاہیئے۔
 
گھر میں بیٹھنابھوک کے ہاتھوں مرنا ٹھہرا، باہر نکل گئے تو فورسز کے ہاتھوں مار پڑتی ہے، اس  پر  ساتھ  ہی  کورونا  وائرس کا خوف لاحق ہے۔ ان حالات نے ماہی گیروں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئی ہیں۔