پاکستان

کیا آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی راستہ ہے؟

عمران کامیانہ

آج کل ملک میں ہر طرف معاشی بحران اور آئی ایم ایف پر بحث ہو رہی ہے۔ کچھ ہفتے قبل تک تحریک انصاف کی حمایت کرنے والے بھی ازسرِ نو سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ اِس ’تبدیلی‘ سے بدظن دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کیا کوئی راستہ موجود ہے؟

ہم اس سوال کی فوری نوعیت سے ہٹ کے ایک وسیع تر تناظر میں اس کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

اِس سوال کی آڑ میں موجودہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو کچھ یوں جواز فراہم کیا جا رہا ہے: دیکھیں جی سب کچھ پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا ہے اور اِس حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ لہٰذا اچھا لگے یا برا یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی ہو گا!

اس کے علاوہ بہت سے لوگ (بالخصوص نوجوان)، جو کسی متبادل کی تلاش میں ہیں، بہت خلوص اور سنجیدگی سے بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔

اگر ہم غور کریں تو تحریک انصاف کے معذرت خواہان کی کڑوا گھونٹ بھرنے والی مذکورہ بالا دلیل صرف اِس حکومت کے حق میں ہی نہیں ہے بلکہ سارے ’سٹیٹس کو‘کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ تاریخ میں ہر نظام کے رکھوالے بنیادی طور پر یہی منطق استعمال کرتے آئے ہیں کہ اچھا ہے یا بُرا لیکن مروجہ نظام ہی واحد قابلِ عمل نظام ہے۔ ماضی کی غلام داری میں بھی آقاؤں کی دلیل ہوا کرتی تھی کہ غلام اگر آزاد کر دئیے گئے تو بھوکے مر جائیں گے!

بالخصوص سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ دلیل سرمایہ داری کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ ’تاریخ کے خاتمے‘ (End of History) کا یہی مطلب ہے کہ اب صرف آزاد منڈی کی معیشت اور لبرل جمہوریت (یعنی سرمایہ داری) ہی چلے گی۔ اگر یہ نہیں چل پا رہی تو اسے ”ٹھیک“ کرنے ضرورت ہے۔ اِسی کو ”مینیج‘ کرنا ہو گا۔ کوئی دوسرا راستہ انسانیت کے پاس موجود نہیں ہے۔

یہ ایسا زہریلا نفسیاتی وار ہے جس کا شکار نظام کے ایسے متاثرین بھی ہو جاتے ہیں جن کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ہوتا۔ حکمران طبقات کے سب سے خطرناک وار جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی اور نظریاتی ہوتے ہیں۔ ایسے میں متاثرین جب موجودہ نظام کو ہی انسانیت کی حتمی و آخری منزل تصور کر لیتے ہیں تو بہتر زندگی کے لئے ان کی جدوجہد کی اساس ویسے ہی فوت ہو جاتی ہے اور وہ اصلاح پسندی (یعنی موجودہ نظام کو ٹھیک کرنے) کے راستوں پہ چل نکلتے ہیں۔

جب آپ کسی نظام کو حتمی مان لیتے ہیں تو اس کی حدود و قیود کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ جس کے بعد ناگزیر طور پہ نظام کے تقاضوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے اور اس کے بحران کا حل بھی انہی حدود کے اندر رہ کے تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر صورتحال اس نہج تک پہنچ جاتی ہے کہ آئی ایم ایف کے متاثرین بھی آئی ایم ایف اور اس کی کٹھ پتلی حکومتوں کے حق میں دلیلیں پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

آج کی اصلاح پسندی کا المیہ یہ ہے کہ جب تک سرمایہ داری میں کچھ سکت باقی تھی‘ عوام کے حق میں کچھ اصلاحات کی گنجائش بھی موجود تھی۔ لیکن بالخصوص 2008ء کے بعد اِس نظام کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ماضی کی عوام دوست اصلاحات کو بھی چھیننے کے سوا کوئی دوسرا راستہ اس نظام کی حدود میں نہیں بچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ’دائیں‘ اور ’بائیں‘ بازو کی اصلاح پسندی کے درمیان عملی فرق باقی نہیں رہا ہے۔ یہاں پیپلز پارٹی نے بھی برسر اقتدار آ کے وہی پالیسیاں اپنائی ہیں جو بعد میں نواز لیگ اور اب تحریک انصاف اپنا رہی ہے۔ فرق صرف طریقہ واردات کا ہوتا ہے۔ یا پھر عوام کی شدید مزاحمت کے خوف سے حکومتیں وقتی پسپائی پہ مجبور ہو جاتی ہیں۔

حل کیا ہے؟

ہم نے اپنے سابقہ مضامین میں پاکستان کے معاشی بحران کی تاریخی وجوہات پہ انتہائی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔لیکن حل کیا ہے؟

ایک ”حل“ اِس نظام کے اندر موجود ہے۔ جو کئی دہائیوں سے آزمایا جا رہا ہے اور جب تک یہ نظام موجود ہے آزمایا جاتا رہے گا۔پاکستان اپنے وجود کے بعد سے غالباً 32ویں بار آئی ایم ایف کے پاس جا رہا ہے۔ یہی حقیقت اِس ”راستے“ کو بند گلی ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔

یہ عام لوگوں کو محروم کر کے اشرافیہ کو نوازنے کا راستہ ہے۔ مزدور سے چھین کے سرمایہ دار کی جیب میں ڈالنے راستہ ہے۔ حکمران طبقے کے نظام کے بحران کی قیمت محکوموں سے وصول کرنے کا راستہ ہے۔ خساروں کو ’نیشنلائز‘ اور منافعوں کو ’پرائیویٹائز‘ کرنے کا راستہ ہے۔ وہ قرضے جو عوام پہ کبھی خرچ ہی نہیں ہوئے اُن سے نکلوائے جاتے ہیں۔ جس کے لئے اجرتوں اور فلاحی اخراجات میں کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔ مہنگائی اور نجکاری کی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔ چھانٹیاں کر کے لوگوں کو بیروزگار کیا جاتا ہے۔

لیکن حکمران طبقات یہ سب شوق سے نہیں کرتے۔ اُن کا نظام اُن سے کرواتا ہے۔ اُن کے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں ہوتی ہے۔ منافع کے اِس نظام میں شرح منافع کو برقرار رکھنے کے لئے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔ وگرنہ پورا نظام ڈھے جائے گا۔

کچھ لوگ سرمایہ داری میں رہتے ہوئے موجودہ بحران کا ’عوام دوست‘ حل پیش کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اصلاح پسند بایاں بازو پیش پیش نظر آتا ہے۔ مثلاً غریبوں پر ٹیکس لگانے کی بجائے امیروں پر ٹیکس لگانے یا بڑھانے کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن طبقاتی نظام میں حاکمیت امیروں کی ہوا کرتی ہے۔ امیر کیا خود پہ ٹیکس لگائیں گے؟

بالفرض شدید عوامی دباؤ کی صورت میں حکومت ایسے ٹیکس لگانے پہ مجبور ہو جائے تو بھی امیروں کے پاس بہت سے ”حل“ ہوا کرتے ہیں۔ مزدور ہڑتال کر سکتے ہیں تو سرمایہ دار بھی ہڑتال پہ جا سکتے ہیں۔ جیسے مزدور ہڑتالوں میں کام چھوڑ دیتے ہیں ایسے سرمایہ داروں کی ہڑتال سرمایہ کاری بند کر دینے پر مبنی ہوتی ہے (اسے ’کیپیٹل سٹرائیک‘ یا ’سرمائے کی ہڑتال‘ کہا جاتا ہے)۔ یا وہ پیداوار بند کر دیں گے اور اپنے اداروں کو تالے لگا دیں گے۔ یا اپنا سرمایہ بیرونِ ملک ایسی جگہوں پہ منتقل کر دیں گے جہاں ٹیکس کم اور منافع خوری کے مواقع زیادہ ہوں گے۔ ایسی ہر صورت میں بیروزگاری، افراطِ زر اور مہنگائی قابو سے باہر ہو جائے گی۔ بحران کم ہونے کی بجائے بڑھ جائے گا۔ آج وینزویلا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے جہاں بائیں بازو کی حکومت انہدام کے دہانے پہ کھڑی ہے۔

یہ معاملہ صرف ٹیکس لگانے تک محدود نہیں ہے۔ اجرتیں بڑھانے، کام کی جگہوں پر سیفٹی انتظامات کو یقینی بنانے، پیداوار کو ماحول دوست بنانے سمیت ہر وہ عمل جو سرمایہ دار کی شرح منافع پہ ضرب لگائے‘ ایسی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ اِس لئے ایسے تمام فوری مطالبات کو سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد کیساتھ منسلک اور مربوط کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

آج کل لبرل حلقوں کی جانب سے دفاعی اخراجات میں کٹوتی کا نسخہ بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ جو کسی حقیقی حل سے زیادہ فوج کیساتھ نظریاتی ضد (بلکہ غیر نظریاتی ضد) کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ مروجہ سیٹ اپ میں اول تو ایسا ممکن نہیں۔ کسی بھی صورتحال کو ٹکڑوں میں نہیں بلکہ مجموعی طور پہ دیکھا جانا چاہئے۔ پاکستان جیسے ممالک میں سیاست، معیشت اور سرکاری امور میں ریاست کے طاقتور حصوں کی بڑھی ہوئی مداخلت مسئلے کی وجہ نہیں بلکہ مسئلے کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ یہ تیسری دنیا کی سرمایہ داری کے وجود کی شرائط میں سے ایک ہے۔ بالکل جیسے کرپشن اور کالا دھن ہے۔ جہاں دو تہائی معیشت کالے دھن (نام نہاد ’گرے اکانومی‘) پر مبنی ہو وہاں بدعنوانی کے خاتمے کا مطلب سارے نظام کا خاتمہ بن جاتا ہے۔

لیکن بالفرض سارے دفاعی اخراجات ختم کر دئیے جائیں (جو یقینا ایک مضحکہ خیز مفروضہ ہو گا) تو بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ مثلاً سرکاری آمدن پر قرضوں کا بوجھ دفاعی اخراجات سے تین سے چار گنا زیادہ ہے اور مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی لئے اسے ایک گھن چکر کہا جاتا ہے جس میں ہر حکومت پھنستی ہے۔ دفاعی اخراجات معاملے کا ایک پہلو ہو سکتے ہیں۔ ساری بات کو دفاعی اخراجات تک محدود کر دینا سراسر خام خیالی ہے۔ یہی معاملہ افسر شاہی پر آنے والے اخراجات کا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں محرومیاں اس قدر گہری ہیں اور تعلیم، علاج، رہائش، نکاس، ٹرانسپورٹ وغیرہ کے مسائل اس قدر گھمبیر اور پیچیدہ ہیں کہ اِس نظام میں رہتے ہوئے چیزوں کو تھوڑا آگے پیچھے کر کے کچھ بہتری نہیں ہو سکتی۔ یہ کینسر کا علاج ڈسپرین سے کرنی والی بات ہے۔ یہاں عوام کے معیارِ زندگی میں اضافے کے لئے مادی اور سماجی انفراسٹرکچر میں اتنی وسیع سرمایہ کاری کی ضرورت ہے کہ موجودہ نظام میں اس بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

تو پھر حل کیا ہے؟ بعض اوقات بہت پیچیدہ مسائل کا حل بہت سادہ ہوتا ہے۔ بس سوچ کو تھوڑی وسعت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سمجھ بوجھ پہ حکمران طبقات اور سالہا سال کے معمول نے جو تالے لگائے ہوتے ہیں انہیں توڑنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ انگریزی میں ”Out of the Box“ سوچنے کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

مسئلہ اگر نظام کا ہے تو نظام کو بدلنا ہو گا۔ جو نظام وسیع تر اکثریت کی قیمت پہ ایک مٹھی بھر اقلیت کو نوازتا ہو اس کے خاتمے کا جواز ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ حکمران طبقات کا نظام ہے، انہی کے قرضے ہیں، انہی کے قرضوں کا بحران ہے۔ عوام کی اِس کی قیمت کیوں چکائیں؟

حتیٰ کہ سرمایہ داری کی اپنی قانونیت کے مطابق ان قرضوں کا بیشتر حصہ مشکوک یا جعلی ہے۔ مثلاً 2014ء میں فرانس میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق فرانس کا 60 فیصد حکومتی قرضہ غیر قانونی اور جعلی ہے جو لوگوں پہ خرچ نہیں ہوا اور جسے منسوخ کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح کی رپورٹیں یونان، ایکواڈور اور تیونس وغیرہ کے بارے میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اگر ان نسبتاً ترقی یافتہ ممالک میں یہ حالات ہیں تو پاکستان جیسے بدعنوان ملک کی صورتحال کیا ہو گی۔

یہ قرضے انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہیں۔ حل یہ ہے کہ انہیں ضبط کر لیا جائے۔ داخلی یا خارجی قرضوں پر ایک دھیلے کی ادائیگی نہ کی جائے۔ تمام مقامی بینکوں کو قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ ساتھ ہی معیشت کے دوسرے تمام کلیدی شعبوں (بڑی صنعتیں، جاگیریں، توانائی، ٹیلی کمیونی کیشن، ٹرانسپورٹ، سروسز) کو بھی نیشنلائز کر کے محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول میں چلایا جائے۔ یہ سرمایہ داری کی نیشنلائزیشن نہیں ہو گی (جیسا کہ بھٹو دور میں کی گئی تھی) جو بنیادی طور پہ ’بیوروکریٹائزیشن‘ ہوتی ہے اور جس میں یہ ادارے بدعنوان سرکاری افسر شاہی، مزدور اشرافیہ اور سیاسی جماعتوں کی لوٹ مار کا ذریعہ بن جاتے ہیں (بلکہ بنا دئیے جاتے ہیں) اور پھر اس بدعنوانی کو اوپر سے نیچے عام محنت کشوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ سوشلسٹ نیشنلائزیشن ہو گی جس میں سماج کے تمام قدرتی وسائل، ذرائع پیداوار اور انسانی محنت مٹھی بھر اقلیتی طبقے کی منافع خوری کی نذر نہیں ہو گی بلکہ تمام انسانوں کی زندگیوں کی بہتری کے لئے استعمال کی جائے گی۔ یعنی پیداوار کا مقصد منافع نہیں بلکہ انسانی ضروریات کی تکمیل ہو گا۔ ملک کا جی ڈی پی چند سالوں میں کئی گنا بڑھ جائے گا۔ لوگوں کا معیارِ زندگی تیزی سے بلند ہو گا۔

ہاں مشکلات آئیں گی۔ مقامی حکمران طبقات بھی حملہ آور ہوں گے اور سامراجی قوتیں بھی وار کریں گی۔ لیکن روز روز کی نہ ختم ہونے والی اذیت سے نجات کے لئے ان مشکلات سے لڑنا ہو گا۔ انہیں شکست دینا ہو گی۔ انقلاب کو پورے خطے اور دنیا بھر میں پھیلانا ہو گا۔ اپنے لئے‘ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے‘ استحصال اور جبر سے پاک انسانیت کے روشن مستقبل کے لئے!

Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔