پاکستان

اُڑتا ڈالر، گرتی معیشت

عمران کامیانہ

141 روپے کی سطح پہ کچھ دیر آرام کے بعد ڈالر کی پرواز پھر سے جاری ہے۔ آج کے روز تا دم تحریر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 149.35 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 151 روپے سے بھی اوپر فروخت ہو رہا ہے۔ بلکہ کچھ دوستوں کے مطابق اوپن مارکیٹ میں تو مل ہی نہیں رہا کیونکہ جن کے پاس موجود ہے وہ اس کے مزید اوپر جانے کے انتظار میں فی الوقت بیچ نہیں رہے ہیں۔ اِسی طرح کم وقت میں منافع بنانے کے چکر میں بہت سے عام لوگ بھی ڈالر خرید رہے ہیں کہ کل کو مہنگا ہو گا تو بیچ کے پیسے کمائیں گے۔

بدھ کو ڈالر کی قیمت 141.39 روپے تھی۔ دسمبر 2017ء کے بعد سے اس میں تقریباً 35 فیصد کمی پہلے ہی ہو چکی تھی۔ لیکن جمعرات کو انٹر بینک میں روپے کی قدر میں 3.62 فیصد مزید کمی آئی اور ڈالر کی قیمت 146.52 تک جا پہنچی۔ جبکہ جمعرات اور جمعے کے صرف دو دن کے دوران مجموعی طور پہ روپے کی قدر میں 5.62 فیصد کمی آئی ہے۔ اس وقت روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پہ ہے۔

مسخروں کی حکومت

16 مئی کو وزیر اعظم عمران خان نے روپے کی قدر میں گراوٹ کو روکنے کے لئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جو اِ س حکومت کا ایک اور بیہودہ مذاق ہے (اور شاید اسی کام کے لئے انہیں رکھا گیا ہے)۔ کیونکہ یہ سب حکومت کی مرضی سے ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ حکومت انٹر بینک مارکیٹ میں مداخلت نہیں کرے گی اور ”منڈی کی قوتوں“ کو روپے کی قدر کا تعین کرنے دے گی۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد چونکہ روپے کی قدر میں بڑی گراوٹ کے امکانات واضح تھے لہٰذا ”منڈی کی قوتیں“ سٹہ بازی میں سرگرم عمل ہیں اور دھڑا دھڑ ڈالر ذخیرہ کیے جا رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں شاید روایتی ڈرامہ بازی کے لئے چھاپے وغیرہ مار کے ڈالر ’برآمد‘کیے جائیں اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر کچھ وقت کے لئے یہاں ٹھہر جائے یا اس میں معمولی اضافہ ہو جائے لیکن عمومی رجحان گراوٹ کا ہی رہے گا۔

ڈالر کہاں تک جا سکتا ہے؟

اوپن مارکیٹ میں توقع کی جا رہی ہے کہ ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے حالیہ سلسلے کے دوران ڈالر کی قیمت 165 سے 170 روپے تک جا سکتی ہے۔ جبکہ آنے والے دو سے تین سالوں کے دوران ڈالر کے 200 سے 250 روپے تک چلے جانے کے امکانات ہیں۔

نیلی لکیر آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں متوقع اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

معیشت بہت پیچیدہ مظہر ہے جو نہ صرف داخلی بلکہ خارجی طور پہ بھی بہت سے سماجی و سیاسی عوامل سے متاثر ہوتی ہے اور ان کو متاثر کرتی بھی ہے۔ تاہم موجودہ سیاسی اور معاشی رجحان کے تحت مذکورہ بالا اندازے بالکل درست معلوم ہوتے ہیں۔

ڈالر کیوں اور کیسے اوپر چڑھتا ہے؟

روپے کی قیمت میں کمی یا ڈالر کی قیمت میں اضافہ ایک ہی عمل کے دو رُخ ہیں۔ مثلاً جب عام زندگی میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ جس روپے سے ہم وہ اشیا خرید رہے ہیں اس کی قدر کم ہو چکی ہے۔

پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی قدر کا تعین مرکزی بینک کرتا ہے۔ جو پاکستان میں سٹیٹ بینک ہے۔ مرکزی بینک کے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر ہوتے ہیں۔ جب ملک میں ڈالر کی قیمت میں کمی مقصود ہوتی ہے تو سٹیٹ بینک مارکیٹ میں ڈالر پھینک دیتا ہے اور روپے اٹھا لیتا ہے۔ اور جب ملکی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھانی مقصود ہو تو ڈالر اٹھا لیے جاتے ہیں اور روپے منڈی میں پھینک دئیے جاتے ہیں۔ اِس طریقہ کار سے ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر کو مطلوبہ سطح پہ برقرار رکھا جاتا ہے۔

لیکن اب آئی ایم ایف کا پریشر ہے کہ مرکزی بینک منڈی میں کوئی مداخلت نہ کرے اور منڈی کی قوتوں کو روپے کی قدر کا تعین کرنے دے۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے مطابق روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر زیادہ رکھا گیا ہے (بہت سے سرمایہ دارانہ معیشت دان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا ہے یا نہیں یہ ایک الگ موضوع ہے)۔

روپے کی قدر میں کمی کیوں کی جاتی ہے؟

اِس وقت پاکستان ادائیگیوں کے عدم توازن کے مسئلے سے دوچار ہے۔ یعنی درآمدات زیادہ ہیں اور برآمدات کم۔ روپے (یا کسی بھی ملکی کرنسی)کی قدر میں کمی سے درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں۔ مثلاً کسی شے کی قیمت عالمی منڈی میں اگر ایک ڈالر ہے اور ڈالر کی قیمت 100 روپے ہے تو ملکی منڈی میں وہ شے 100 روپے کی ملے گی۔ لیکن ڈالر اگر 150 روپے کا ہو جائے تو وہی شے اب مہنگی ہو کے 150 روپے کی ملے گی اور لوگ اس کا استعمال کم سے کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ یعنی درآمدات کم ہوں گی۔

اسی طرح کسی ایکسپورٹر کو عالمی منڈی میں ایک ڈالر کی چیز بیچ کے پہلے 100 روپے مل رہے تھے تو اب 150 روپے ملیں گے اور وہ زیادہ برآمدات کرنے کی طرف راغب ہو گا۔

اس طرح سے درآمدات کو کم اور برآمدات کو بڑھا کے تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں حکومت ایک شعبے کی قیمت پہ دوسرے شعبے کو سبسڈائز کرتی ہے۔ لیکن آخری تجزئیے میں یہ سبسڈی محنت کش طبقہ ہی دے رہا ہوتا ہے جس کی اجرتیں منجمد ہوتی ہیں جبکہ مہنگائی بڑھ رہی ہوتی ہے۔ یعنی حقیقی اجرتیں کم ہو جاتی ہیں۔

کیا خسارہ کم ہوا ہے؟

حقیقت ہمیشہ نصابی کتابوں سے مختلف اور ٹھوس ہوتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ معاشیات میں بے شمار عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔بالکل جیسے انسانی اعضا ہزارہا طریقے سے ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔ یا جیسے ادویات کے کئی طرح کے مثبت اور منفی اثرات ہوتے ہیں جنہیں مجموعی طور پر مد نظر رکھ کے کوئی دوائی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

لیکن اگر ہم ایک ’آئیڈیل‘ صورتحال بھی تصور کریں تو مذکورہ بالا طریقے سے معیشت کو عارضی سہارا ہی دیا جا سکتا ہے۔ یعنی وقتی طور پہ برآمدات میں کچھ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لمبے عرصے میں یہ طریقہ کارگر نہیں ہوتا اور تجارتی خسارے کا مسئلہ اپنی جگہ بدستور موجود ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں کرنسی کی قدر میں کمی کے بہت سے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ صرف گزشتہ تین دنوں کے دوران روپے کی قدر میں کمی سے ملک کے بیرونی قرضوں میں 800 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح جیسا کہ اوپر دی گئی مثال سے واضح ہے کہ درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھی مہنگائی اس وقت تقریباً 10 فیصد ہے جو پچھلے چھ سال کی بلند ترین شرح ہے۔ عام لوگوں کا جینا پہلے ہی محال ہو رہا ہے اور ابھی روپے کی قدر میں مزید کمی سے مزید مہنگائی ہونی ہے۔

کیا اس طریقے سے معیشت میں بہتری آئی ہے؟

اس سوال کا سیدھا سا جواب نفی میں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے نو مہینوں کے دوران برآمدات میں 0.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق پچھلے مالی سال کے دوران جولائی تا اپریل ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات کا حجم 19.19 ارب ڈالر تھا۔ جو اِس مالی سال کے دوران اسی عرصہ میں 19.17 رہا ہے۔ یعنی کم و بیش کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس ٹریبیون

اِسی عرصے میں تجارتی خسارے میں 13 فیصد کمی کی بنیادی وجہ سی پیک کے پہلے مرحلے کے مکمل ہونے کی وجہ سے درآمدات میں ہونے والی کمی ہے۔ اس کے علاوہ معیشت ویسے ہی سست روی (بلکہ کلیدی شعبوں میں باقاعدہ سکڑاؤ) کا شکار ہو رہی ہے جس سے درآمدات سمیت ہر چیز کی طلب گر رہی ہے۔

پیداواری معیشت کی گراوٹ

ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس مارچ کے مقابلے میں بڑے پیمانے کی پیداوار (لارج سکیل مینوفیکچرنگ) میں 10.63 فیصد کمی آئی ہے۔ ادارے کے مطابق (معیشت کی سست روی کی وجہ سے) خوراک، مشروبات، کھاد، پٹرولیم اور آٹوموبائل کے شعبہ جات میں بحران کی وجہ سے صنعتی شعبے کی پیداوار میں بڑی کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی یا مارچ) میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں تقریباً تین فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کی 36 اشیا میں تقریباً 12 فیصد اور ادارہ شماریات کے ریکارڈ کی 65 اشیا کی پیداوار میں 7.39 فیصد گراوٹ آئی ہے۔

واضح رہے کہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ ملک کی مجموعی مینوفیکچرنگ کا 80 فیصد جبکہ جی ڈی پی کا 10 فیصد ہے۔

سرمایہ کاری، جو پہلے ہی ملکی جی ڈی پی کا صرف 14 فیصد ہے، مزید سکڑ رہی ہے جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ملک میں محنت کی منڈی میں ہر سال داخل ہونے والے 15 لاکھ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے کم از کم 7 فیصد کی شرح نمو درکار ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت اگلے پانچ سالوں کے دوران اوسطاً صرف 2.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ ہم اپنے پچھلے مضامین میں واضح کر چکے ہیں یہ معاشی پھیلاؤ کی بجائے سکڑاؤ کی کیفیت بنتی ہے۔

مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ پاکستان کی تکنیکی پسماندگی کا ہے۔ ملک میں آج تک موٹر سائیکل کا انجن بھی مینوفیکچرنہیں ہو سکا۔ یہاں کی تاخیر زدہ سرمایہ داری وہ تکینکی بنیاد اور انفراسٹرکچر تعمیر ہی نہیں کر سکی جس پر ایک جدید معیشت اور صنعتی معاشرہ پروان چڑھ سکے۔

یہاں کی برآمدات عالمی منڈی میں مقابلہ بازی کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں نجی شعبے(آئی پی پیز) کی برکات ہیں بجلی کی قیمتیں مصنوعی طور پہ زیادہ ہیں اور مسلسل بڑھتی ہی جاتی ہیں جس سے پیداواری لاگت بھی بڑھتی ہے۔

اوپر سے لوڈ شیڈنگ، غیرہنر مند افرادی قوت، پسماندہ تکنیک، زبوں حال انفراسٹرکچر، سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل سونے پہ سہاگے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن غور کریں تو یہ مسائل کہیں باہر سے وارد نہیں ہوتے بلکہ اِسی نظام کے بحران میں سے پھوٹتے ہیں۔ یہاں بھی انسانی جسم کی طرح تمام چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

ملکی منڈی میں دوسرے ممالک بالخصوص چین کی سستی مصنوعات کی یلغار نے مقامی صنعت کا بیڑا بالکل ہی غرق کر دیا ہے۔ یہاں کا سرمایہ دار اپنے تاریخی ’کمپراڈور‘کردار کے عین مطابق اب اپنی بچی کھچی فیکٹریاں کارخانے بھی بند کر کے چینی سرمایہ داری کا مقامی کمیشن ایجنٹ بن چکا ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہروں میں باقاعدہ مثالیں موجود ہیں جہاں فیکٹریاں بند کر کے شوپنگ مال کھول لئے گئے ہیں۔

روپے کی قدر میں کمی جیسے جعلی اور عوام دشمن طریقوں سے اِن مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ آئی ایم ایف کی شرائط سے یہ مسئلے کم ہونے کی بجائے گھمبیر ہی ہوں گے۔ انہیں حل کرنے کے لئے محنت کش طبقے کو خود کچھ کرنا پڑے گا!

Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔