شاعری

’کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے‘

منیر نیازی

پنجابی سے ترجمہ: قیصر عباس

کون ہے دوشی
کون نہیں
ان باتوں کا
وقت نہیں!

توبہ کے دن
گزرگئے ہیں
راتیں بھی اب
آہیں بھرنا بھول
گئیں!

جو ہونا تھا
وہی ہوا ہے
ہونی کو
اب روکے کون

بات چلے تو
کس کے روکے
رکتی ہے؟

راہیں
یوں بھی مشکل تھیں
اورگلے میں
غم کا طوق
بھی تھا

شہر کے لوگ بھی
ظالم تھے
مجھ کو
مرنے کا شوق
بھی تھا!