مزید پڑھیں...

خاشہ زوان: افغانستان میں اتنا غصہ ہے کہ طالبان بھی تین دفعہ بیان بدل چکے ہیں

خاشہ زوان کے قتل نے ایک بارپھر عیاں کیا ہے کہ بیس سالہ سامراجی تسلط اور افغان بربریت کے عرصہ میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایساکوئی اقدام سامراجی و طالبان ایجنڈے میں شامل تھا۔ افغانستان کے دکھوں کا مداوا خود افغان عوام کی اکثریت ہی اپنے مقدر اور تاریخ اپنے ہاتھ میں لیکر کر سکتے ہیں۔ اس خطے کے محکوم و مظلوم عوام کے دکھوں اور تکالیف سے نجات سرمایہ دارانہ حاکمیت کے ہر برج، ہر مینارے کو توڑنے اور عوامی شراکت داری پر مبنی وسائل و اختیارات پر اجارے کی صورت ہی ممکن ہے۔

جموں کشمیر: وزارت عظمیٰ کیلئے بیرسٹر سلطان اور تنویر الیاس کا مقابلہ، فرق کیا ہے؟

وں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جہاں صرف قبیلوں کے سرداروں کو نو آبادیاتی کنٹرول کو جاری رکھنے کیلئے اس اقتدار پر براجمان کیا جاتا تھا اورپاکستان سے ملنے والی تنخواہ کے عوض یہ قبائلی سردار سیاسی قائدین کہلاتے اور اس خطے میں حکمرانی کرنے کے اہل قرار پاتے تھے، وہاں بیرسٹر سلطان کی آمد کے ذریعے دولت کی بنیاد پر اقتدار تک پہنچنے کا جو طریقہ اپنایا تھا آج وہی طریقہ انکے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اقتدار کی اس رسہ کشی اور خرید و فروخت کے دوران فتح کسی کی بھی ہو، اقتدار پر کوئی بھی براجمان ہو جائے، اس خطے کے مظلوم و محکوم انسانوں کے مقدر نہیں بدلیں گے، پاکستان میں تباہ حال معیشت اور سماجی بحران کے اثرات اسی طرح اس خطے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

مسکراہٹوں کا قتل: افغان کامیڈین کو ’سادہ لباس‘ طالبان نے ہلاک کر دیا

”ظالمو درندوں نے جنگ زدہ قوم کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والے اسپین بولدک اور قندھار کے نامور کامیڈین ”خاشا زوان“ کوبے دردی سے قتل کردیا ہے، مرنے سے کچھ دیر پہلے خاشا زوان نے ان درندوں کو ہنسانے کی ناکام کوشش کی لیکن انسانیت سے عاری دہشت گرد طالبان نے اس معصوم کو بیدردی سے قتل کر دیا۔“

جموں کشمیر: وادی نیلم میں ’کے پی کے‘ پولیس کی فائرنگ، کم از کم 1 شہری ہلاک، 15 سے زائد زخمی

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز شاردہ کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کیلئے ایک گاڑی کو مبینہ طور پر زبردستی لے جانے کیلئے گاڑی میں سوار مسافروں کو اتارنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ن لیگ، پی پی پی ہائبرڈ نظام کا حصہ ہیں، اپوزیشن نہیں

پاکستان کے ترقی پسند ملک میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں شہری ووٹ ڈالنے تک جمہوریت کا حصہ نہ ہوں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ووٹ گنے بھی عوام کی نگرانی میں جائیں اور جمہوری برابری معاشی برابری میں تبدیل ہو۔