مزید پڑھیں...

کشمیر کے سوداگر

المیہ یہ ہے کہ 72 سال بعد بھی یہاں پر ایک سامراجی طاقت کے جارح، مغرور، نسل پرست اور ناقابلِ اعتماد حکمران سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔

سرمایہ داری صحت کے لئے مضر ہے!

دواساز کمپنیوں کا مقصد مرض کا علاج نہیں بلکہ منافع ہے۔ ایک دواسازکمپنی کیلئے مرض میں مبتلا انسان کسی طور ایک ’’مریض ‘‘نہیں ہوتا بلکہ ایک ’’گاہک‘‘ ہوتاہے۔

ٹیکنالوجی: رحمت یا زحمت؟

’’گیجٹس‘‘ سے لاحق ہونے والی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے ہٹ کر بھی بات کی جائے تو موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے گرد گھومتی ہوئی زندگیاں، روح کی غربت کا اظہار ہیں۔