مزید پڑھیں...

حق چھین لیا جائے!

یہ اجتماعی اور اشتراکی قیادت ہی ہوتی ہے جو افراد کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کاموجب بنتی ہے۔ یہ سیاسی تربیت ہی نوجوانوں میں اعتماد کا باعث بنے گی۔ اور یہی اعتماد نوجوانوں کو دیوہیکل جبر سے ٹکرانے کی شکتی دے گا۔ پھر حالات کے مطابق طلبہ یونین بحالی کے لئے اجلاس ملک کے کلیدی شہروں میں منعقد کرتے ہوئے آگے کی لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔

27 نومبر کو طلبہ ملک بھر میں نکلیں: آمنہ وحید

گزشتہ سال مارچ کی وجہ سے وزیراعظم نے بھی ٹویٹ کیا، سندھ اسمبلی میں بل پیش ہوا، ایک نئی بحث کھلی۔ اگر کوئی طلبہ مارچ میں نہیں بھی آسکتا تو کم از کم مطالبات پر ضرور غور کرے۔ ساٹھ فیصد طلبہ کے پاس یونیورسٹی کیمپس اور تعلیم کی سہولت موجود نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ جب تک سب لوگ آزاد نہیں ہو