مزید پڑھیں...

پاکستان کے 15 ملین عمر رسیدہ افراد حکومتی پالیسیوں میں مکمل نظر انداز

مالی، جسمانی اور جذباتی زمروں میں بزرگوں کو مدد فراہم کرنے کیلئے ایک معاشرے کو مضبوط اداروں اور پالیسی کی ضرورت ہے جو تبدیلی کی حرکیات اور طرز زندگی اور خاندانی ڈھانچے کو مد نظر رکھتے ہوئے وضع کی گئی ہو۔

پاکستان میں کورونا کے معاشی اثرات: بیروزگاری میں 34 فیصد اضافہ، آمدن میں 42 فیصد کمی

حکومت کیلئے کورونا کی تیسری لہر کے دوران سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا معاشی اثرات کو کم کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات کئے جا سکیں گے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق پی بی ایس کا سروے کورونا کی تیسری لہر کے دوران حکومتی پالیسیوں کیلئے اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔ اس کا فالو اپ سروے بھی کیا جانا ضروری ہے اور حکومت کو کورونا ویکسین کی ہر شہری تک مفت فراہمی یقینی بناتے ہوئے لاک ڈاؤن کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کیلئے ناگزیر اقدامات کرنا ہونگے۔

وزیر اعظم صاحب تو پھر سزا بے پردگی کو دینی ہے یا ریپسٹ کو؟

ساڑھی اور شلوار کے ذکر سے میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سکرٹ یا جینز پہننا بے ہودگی، بے حیائی اور بے شرمی ہے۔ عورت کا جو جی چاہے پہنے۔ عورت کہیں برہنہ حالت میں بھی ہو تو بھی کسی پلے بوائے یا جہلم سے سے ڈھاکہ گئے ہوئے غازی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔ ریپ ہر حالت میں ریپ ہے اور اس کا ذمہ دار ریپسٹ ہے۔ موٹر وے اور مدرسوں سے لے کر مشرقی پاکستان اور بوسنیا تک، ذمہ داری ریپسٹوں پر عائد ہوتی ہے۔

گرینڈ الائنس کی کال پر ملازمین نے بلوچستان بھر کی سڑکیں بند کر دیں

آئی ایم ایف کی سامراجی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں ملازمین اور محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تاہم محنت کشوں کی جانب سے بھی مزاحمت کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں 10 فروری کو اسلام آباد میں ملازمین کی جانب سے دھرنادیا گیا، جس بعد حکومت نے ملازمین کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اگلے وفاقی بجٹ تک ان کی تنخواہوں میں عبوری طور پر ’ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس‘ کے تحت 25 فیصد اضافے کی منظوری دی۔

امت اخبار میں خواتین بارے نازیبا زبان استعمال کرنے پر پی ایف یو جے کی مذمت

”پاکستانی صحافت کی تاریخ میں کبھی بھی معاشرے کے کسی بھی طبقے کے خلاف اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے تھے اورایسا لگتا ہے کہ ’روزنامہ امت‘ جیسے اخبارات انتہا پسندی کے ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ ایسے عناصر نہیں چاہتے کہ خواتین مجموعی طور پر معاشرے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔“