مزید پڑھیں...

ہمیں فیس بک پر فالو کریں

’روزنامہ جدوجہد‘ پاکستان کا واحد ابلاغیاتی ادارہ ہے جو بلا ناغہ ترقی پسند، محنت کش اور سوشلسٹ نقطہ نظر کے ساتھ ایسی خبریں، تجزئے اور اطلاعات فراہم کرتا ہے جو مین اسٹریم سرمایہ دارمیڈیا سے یا تو غائب ہوتی ہیں یا اس انداز سے پیش کی جاتی ہیں کہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔

خدا حافظ بیبی: ”نیتن یاہو کی کامیابیاں اسرائیل کا خسارہ تھیں“

اگرچہ یہ سیاسی جماعتیں مختلف انداز فکر کی حامل ہیں، اسرائیل کوآمرانہ جمہوریت کی سیاست سے نکال کر ایک نئے دور میں داخل کرنا ان کے اتحاد کا مرکزی نکتہ ہے۔ ملک میں پہلی بار ایک عرب پارٹی کی اقتدا رمیں شمولیت بھی ایک اہم پیش رفت ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ اتحاد کہاں تک کامیاب رہتا ہے۔

جب فیض اور فراز جدوجہد کے دفتر تشریف لائے

ایک روز اس دفتر کی رونقیں دو بالا ہو گئیں جب معلوم ہوا کہ احمد فراز اور فیض احمد فیض یہاں تشریف لا رہے ہیں۔ یہ سال 1982ء تھا۔ وہ دونوں عظیم شاعر ہمارے سینئر ساتھی اسد مفتی کی دعوت پر آئے تھے۔ دفتر میں انہی تنگ سیڑھیوں سے چڑھتے دونوں دفتر تشریف لائے اور دیر تک محفل جمی رہی۔