مزید پڑھیں...

اتحادی فوجوں کا انخلا اور افغانستان میں نئی صف بندیاں: ایک مکالمہ

گزشتہ 40 عشروں سے افغانستان دنیاکی دو بڑی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ اور پھر خونی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ اس کا آغاز 1979ء میں اس وقت ہوا جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ ایک عرصے تک خون خرابے کے بعد، جس میں افغانیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی، ملک اقتصادی اور سماجی طور پر تباہی کے کنارے پہنچ گیا اور پھر سوویت یونین کوملک سے نکلنا پڑا۔

CV

اتنی بڑی زندگی کے سارے میرٹ
اپنے سی وی میں چھپانے پڑتے ہیں

آکسیجن اور ویکسین کو ترستی ایٹمی طاقتیں بمقابلہ سوشلسٹ کیوبا

اپنے ایک اور انٹرویو میں فیدل کاسترو نے ایٹم بم بنانے کی بابت کہا تھا کہ سرد جنگ کے دوران کیوبا کے لئے ایٹم بم بنانا کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ سوویت روس کی مدد سے یہ کام با آسانی کیا جا سکتا تھا مگر بقول کاسترو ہم یہ بم ماریں گے کسے؟ امریکی مزدوروں کو جو ہمارے بھائی ہیں؟

جنرل قمر باجوہ کی تین خواہشیں

اس ملاقات سے ایک بار پھر یہ ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان میں حکومت اور طاقت کا اصل مرکز کہاں ہے۔ خارجی اور داخلی امور میں حکومت کے پاس اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں اور تمام تر اہم امور کو اس ملک کے طاقتور ترین ادارے کے سربراہان کی طرف سے دیکھا جا رہا ہے۔