خبریں/تبصرے

ہلسنکی کمیشن امریکی میڈیا پر پابندیوں کی تحقیق کریگا: سی این این کی امان پور بیان دینگی

قیصر عباس

امریکی نیوز چینل سی این این کی بین الاقوامی رپورٹنگ کی سربراہ کرسچیان امان پور دوسری عالمی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ جمعرات کو ہلسنکی کمیشن کی تفشیش کے سلسلے میں امریکہ میں میڈیا پر پابندیوں پر بیان دیں گی۔ امان پور ٹی وی نیوز کی معروف صحافی ہیں جو مشرق وسطیٰ سمیت عالمی امور کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔

ان کے علاوہ کمیشن صحافیوں کی تنظیم سی پی جے کی ڈائریکٹر کرٹنی ریڈز (Courtney Radsch) اور اقوام متحدہ کے آزادی اظہار کے خصوصی نمائندے ڈیوڈ کئے(David Kaye) کے بیانات بھی ریکارڈ ہوں گے۔

ہلسنکی کمیشن آج کل امریکہ میں ”انسانی حقوق، میڈیا، سیاست اور صحافیوں کے تحفظ“ پر تحقیقات کر رہا ہے جس میں سیاہ فام باشندوں کے حقوق کے لئے ہونے والے احتجاج کے دوران صحافیوں پر پولیس کے حملوں، ایک امریکی نشریاتی ادارے میں حالیہ سیاسی بنیادوں پر تبدیلیاں اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے پریس کے خلاف بیانیوں پر تفشیش ہو رہی ہے۔

یو ایس پریس فریڈم ٹریکر کے مطابق امریکہ میں حالیہ احتجاج کے دوران صحافیوں او ر آزادی اظہار پر پانبدیوں کے پانچ سو واقعات ہوئے ہیں جن میں صحافیوں کی حراست، ان پر تشدد اور ان پر حملوں کے ذریعے خوفزدہ کرنے کے واقعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حالیہ انتظامی فیصلوں کے تحت عالمی نشریاتی ادارے ”ا یجنسی فار گلوبل میڈیا“ میں نشریاتی محکموں کے سربراہوں کی تبدیلی کو ان اداروں میں حکومت کی بے جا سیاسی مداخلت تصور کیا جارہا ہے۔

امریکہ میں اگرچہ صحافیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور عمومی طورپر ذرائع عامہ کو جمہوریت کا ایک فعال شعبہ سمجھا جاتا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد صحافیوں کے پیشہ ورانہ کردار کو مسخ کرنے اور انہیں بدنام کرنے کی ایک مہم شروع کی ہے جس کے تحت وائٹ ہاؤس مسلسل میڈیا اور صحافیانہ سرگرمیوں پر تنقید کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

امریکی ادارہThe Commission on Security and Cooperation in  Europe جسے عام طور پر ہلسنکی کمیشن کے نام سے پہچاناجاتاہے، شمالی امریکہ، یورپ اور یوریشیا کے ستاون ملکوں میں انسانی حقوق، دفاعی سکیورٹی، اور اقتصادی تعاون کے لئے کام کرتاہے۔ ادارے کے اکیس کمشنروں میں کانگریس کے اٹھارہ اور امریکی انتظامیہ کے تین نمائندے شامل ہیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔