خبریں/تبصرے

چالاک حکمران میڈیا کو ’استعمال‘ کرتے ہیں: بے رحم حکمران اسے سنسر کرتے ہیں

فاروق سلہریا

انیسویں صدی کے برطانیہ میں پریس پر زبردست پابندیاں لاگو تھیں۔ صحافیوں اور مدیروں کو جیل بھیجنا، سخت سزائیں دینا، اخبار بند کر دینا عام سی بات تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اخبار زبردست طریقے سے طبقاتی بنیادوں پر تقسیم تھے۔ ایک طرف امیر لوگوں کے مفادات کی ترجمانی کرنے والے اخبار تھے تو دوسری طرف مزدوروں کی بات کرنے والے اخبار۔

مزدوروں کا اخبار عموماََ ایک پیسے (Penny)میں مل جاتا تھا۔ اس لئے اسے پینی پریس یا پیسہ اخباربھی کہا جاتا ہے۔ قبل از تقسیم لاہور سے بھی پیسہ اخبار کے نام سے ایک اخبار نکالا گیا تھا۔ اس اخبار کے نام سے ایک گلی آج بھی انار کلی میں مشہور ہے۔ اس اخبار کا البتہٰ سوشلزم سے کوئی تعلق نہ تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب حکومت کسی مزدور دوست اخبار کے مدیر کو گرفتار کرتی، کوڑے مارتی یا کوئی سزا دیتی تو وہ مدیر اور بھی مشہور ہو جاتا اور اس کا اخبار پہلے سے زیادہ بکنے لگتا۔ یہ واقعات انیسویں صدی کی پہلی تقریباََ تین دہائیوں میں پیش آ رہے تھے۔

جب تشدد اور سنسر نے کام نہ دکھایا تو حکومت نے پینی پریس کا گلا دبانے کے لئے ان پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ ٹیکس کے بعد اخبار اتنا مہنگا ہو گیا کہ عام مزدور اسے خرید نہیں پا رہا تھا۔

محنت کش طبقہ مسائل کا کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈھ نکالتا ہے۔ مزدوروں نے اپنے محلے کے پب مالک سے مطالبہ کیا کہ وہ پب میں اخبار مہیا کرے ورنہ وہ اس کے پب میں نہیں آئیں گے۔ پب برطانوی محنت کشوں کے لئے آج بھی کام کے بعد یا چھٹی کے دنوں میں ملنے کی اہم جگہ ہے۔ یوں پب کی مدد سے پینی پریس زندہ رکھا گیا۔ یہ بھی ہوتا تھا کہ مزدور مل کر اخبار خرید لیتے یا ٹریڈ یونین اخبار کا بندوبست کرتی۔

ہمارے ہاں لاہور کی ریلوے لائنز میں سالہا سال ایک روایت موجود تھی کہ مزدور یونین کی کینٹین سے ناشتہ کرتے اور ایک مزدور چبوترے پر کھڑا ہو کر با آواز بلند اخبار پڑھتا۔ نوے کی دہائی تک یہ چلن عام تھا کہ محلے کے ایک گھر میں اخبار آتا اور وہ اخبار کئی گھروں کا چکر کاٹ کر شام اسی گھر میں آ جاتا جہاں صبح پھینکا گیا تھا۔

خیر۔ واپس برطانیہ کی بات کرتے ہیں۔ جب صحافیوں اور مزدوروں نے ٹیکس والا حکومتی حربہ بھی ناکام بنا دیا تو 1850ء کی دہائی میں یہ ٹیکس ختم کر دیا گیا۔

چالاک حکومت نے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ مارکیٹ (منڈی) کے ’خفیہ ہاتھ‘ کے ذریعے پینی پریس کا گلا گھونٹنے پر عمل درآمد شروع کیا۔

اخبار کا ایک نیا ماڈل رواج پانے لگا جو اگلے ڈیڑھ سو سال تک دنیا بھر میں، جہاں سرمایہ داری تھی، قابل عمل رہا۔ انٹرنیٹ نے اس ماڈل کا کچومر نکالا۔

ماڈل یہ تھا کہ اخبار کی اشاعت اتنی مہنگی بنا دی گئی کہ بغیر اشتہاروں کے اخبار چھاپنا ممکن نہ رہا۔ عمومی طور پر ہوتا یہ تھا کہ اخبار کی فی کاپی قیمت (مثال کے طور پر)بیس روپے ہوتی تھی۔ اخبار بین اسے دس روپے میں خریدتے تھے۔ یہ گھاٹے کا سودا اشتہاروں سے پورا کیا جاتا۔

اب ہونے یہ لگا کہ سوشلسٹ یا مزدور پریس کو کاروباری ادارے اشتہار ہی نہیں دیتے تھے۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں کہ ملک کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار اس لئے بند کرنا پڑا کہ وہ مالی لحاظ سے گھاٹے میں جا رہا تھا۔

یہ تو تھا معاملات کا ایک پہلو۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ جوں جوں مغرب میں جمہوریت مضبوط ہوتی گئی، سنسر شپ مشکل ہوتا گیا۔ حکمرانوں نے سوچا کہ سنسر شپ کی بجائے پراپیگنڈہ کرو۔ نوم چامسکی کے بقول ’مائنڈ کنٹرول‘ کرو۔

بیسویں صدی کے شروع میں امریکہ نے اس کا ایک حل یہ نکالا کہ جرنلزم کے اسکول اور ڈیپارٹمنٹ شروع کئے۔ مقصد یہ تھا کہ جرنلزم اسکولوں کے ذریعے صحافی ’تیار‘ کر کے بھیجے جائیں جو معروضیت (Objectivity) کے نام پر پریس میں مزدور طبقے کی آواز کو دبائیں۔ یوں نام نہاد ’پروفیشنلزم‘ کی مدد سے پریس کو مزید سدھایا گیا۔ امریکی یونیورسٹیوں میں جو ابتدائی جرنلزم سکول یا ڈیپارٹمنٹ قائم ہوئے، وہ بڑے بڑے اخباری سیٹھوں نے قائم کئے۔

یاد رہے بیسویں صدی کے شروع میں سوشلسٹ پریس بہت مضبوط تھا۔ سینکڑوں اخبار نکلتے تھے۔ معروف سوشلسٹ ہفت روزہ ’اپیل ٹو ریزن‘ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتا۔ یہ اخبار 1922ء میں ستر سال کی عمر میں بند ہوا۔

ایسا نہیں کہ تشدد بالکل ترک کر دیا گیا۔ پچاس کی دہائی میں میکارتھی پیریڈ کے دوران آزاد اور کمیونسٹ پریس کے خلاف امریکہ میں زبردست حملے ہوئے۔ سویڈن جیسے ملک میں ستر کی دہائی میں، اولف پالمے کی حکومت کے دوران مارکس وادی صحافی جان گئیو، جو ’پیپلز اِن پکچر‘ (Folket i Bild)نامی بائیں بازو کے میگزین میں کام کرتے تھے، چھ مہینے کے لئے جیل بھیج دئیے گئے کیونکہ انہوں نے یہ خبر جاری کی تھی کہ حکومت کیمونسٹوں کی جاسوسی کرا رہی ہے اور اس کام کے لئے ایک مخصوص محکمہ قائم کیا گیا تھا جو بالکل خفیہ تھا۔

تشدد اور جبر البتہ آہستہ آہستہ پس منظر میں چلا گیا۔ مارکیٹ، مائنڈ کنٹرول اور ’پروفیشنلزم‘ کی مدد سے مغربی حکمرانوں نے میڈیا کو کنٹرول کر لیا۔

امریکہ کی ہی مثال لے لیجئے۔ انتخابات آ رہے ہیں۔ اگر آپ بائیں بازو یا متبادل میڈیا تک رسائی نہیں رکھتے تو سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی آپ کو پتہ نہیں چلے گا کہ امریکی انتخابات میں ہر دفعہ دس بارہ امیدوار ہوتے ہیں۔ ان میں سوشلسٹ ورکرز پارٹی اور گرین پارٹی کے امیدوار بھی ہوتے ہیں مگر مجال ہے کبھی ان کا نام آئے۔ سیاست کو ڈیموکریٹس بمقابلہ ری پبلکن لڑائی بنا کر دکھایا جاتا ہے حالانکہ دونوں اسٹیبلشمنٹ پارٹی کے دو دھڑے ہیں۔

برطانیہ کی مثال لیجئے۔ پچھلے دو انتخابات میں لیبر پارٹی جیرمی کوبین کی قیادت میں سوشلزم کی بات کرنے لگی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جیرمی کوربین کے خلاف ایسی میڈیا مہم چلی…حتیٰ کہ بائیں بازو کی طرف نام نہاد جھکاو رکھنے والا گارڈین بھی اس مہم میں پیش پیش رہا…کہ خود برطانوی پریس کے کچھ حلقے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ برطانوی میڈیا نے تمام صحافتی اخلاقیات تج دی ہیں۔

قصہ مختصر: برطانوی پریس نے وہی کردار ادا کیا جو بول یا اے آر وائی پاکستان میں کرتے ہیں لیکن ایک فرق کے ساتھ۔ برطانوی پریس نظریاتی بنیادوں پر ایسا کر رہا تھا۔ دوم، برطانوی میڈیا کا سرمایہ دارانہ کنٹرول اس بات کو یقینی بنا رہا تھا کہ جیرمی کوربین کو ولن بنا کر پیش کیا جائے۔( جیرمی کوربین کو شدت سے محسوس ہوا ہو گا کہ سوشلسٹ میڈیا کتنا ضروری ہے)۔

ذرا سویڈن کی مثال دیکھئے۔ یہاں کا حکمران طبقہ اس قدر با اعتماد ہے کہ تما م اخبار چاہے وہ کیمونسٹ اور انارکسٹ نکالیں یا چرچ اور نئیو فاشسٹ، حکومت سے سبسڈی لیتے ہیں۔

اب اس لمبی تمہید کے بعد ذرا غور کیجئے پاکستانی میڈیا کے بارے میں جسے چار دن پہلے سانپ نے ایسا سونگھا کہ وہ ابھی تک سکتے میں ہے۔


اب آپ سمجھ جائیں گے کہ اس مضمون کی سرخی کا مطلب کیا ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔