خبریں/تبصرے

ملا برادر اور سی آئی اے چیف کی خفیہ ملاقات

لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز نے افغان طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ولیم برنز کو افغان طالبان کے سینئر رہنما سے ملاقات کیلئے بھیجا اور پیر کے روز کابل میں یہ ملاقات ہوئی ہے۔

’رائٹرز‘کے مطابق سی آئی اے اور وائٹ ہاؤس کے نمائندوں نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید یا تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی حتمی تاریخ قریب ہے اور تمام ممالک اپنے شہریوں اور سفارتی عملے کو ملک سے نکالنے میں مصروف ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کا ایک مقصد 31 اگست تک امریکی فوجیوں اور دیگر شہریوں کے محفوظ انخلا کی تفصیلات طے کرنا ہے۔

’انڈیپنڈنٹ‘کے مطابق پنج شیر کے علاوہ افغانستان کے متعدد اضلاع پر طالبان کا کنٹرول ہے اور وہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد نئی حکومت بنانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کی نئی حکومت میں ان کے قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر بھی شامل ہوں گے۔

ملا برادر افغانستان میں طالبان تحریک کے بانیوں میں سے ہیں۔ جب 2001ء میں افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ اْس وقت روپوش ہو گئے تھے۔ پھر 2010ء میں پاکستانی حکام نے انہیں کراچی سے گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

2013ء میں جب طالبان سے مذاکرات کی بحث شروع ہوئی تو طالبان کی طرف سے مذاکرات کے آغاز کے لیے ملا برادر کی رہائی کی شرط رکھی گئی تھی۔ افغان حکومت کی جانب سے بھی ملا برادر کی رہائی کی باتیں کی گئیں اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ملا برادر کی رہائی کا عندیہ بھی دیا تھا مگر رہائی نہ ہو سکی۔ تاہم اکتوبر 2018 ء میں پاکستان نے ملا برادر کو قید سے رہا کیا اور 2019 ء میں افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات شروع ہوئے۔

امریکہ کی جانب سے 2019 ء میں مذاکرات منسوخ کرنے سے پہلے جو معاہدہ طے ہوا تھا اس کا مسودہ بھی ملا برادر ہی نے لکھا تھا۔