تاریخ

جموں کشمیر پر قبائلی حملہ: 74 سالہ ’زخموں‘ سے نجات خود انحصاری کی متقاضی!

حارث قدیر

رواں سال 22 اکتوبر کو جموں کشمیر پر قبضے کی غرض سے پاکستانی ریاست کی ایما پر ہونے والے منظم قبائلی حملے کو 74 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں ابھی تک اس واقع کو متعدد مرتبہ کریدہ جا چکا ہے اور ہر مرتبہ وحشت و بربریت کی ایک نئی داستان ان واقعات کی ہولناکی میں اضافہ ہی کرتی آئی ہے۔

ہر سال 22 اکتوبر کی آمد کے ساتھ ہی ایک نئی بحث کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔ جموں کشمیر کے باسیوں کی جدوجہد کو مختلف نظریات اور مفادات کی عینک سے دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور جموں کشمیر میں نو آبادیاتی مداخلت اور قبضے کودوام بخشنے کیلئے ایک یا دوسری ریاست یا سامراجی نظام کو جاری رکھے جانے کے تناظر میں اس واقع کے محرکات کو توڑا مروڑا جاتا ہے۔ تاریخ کو درست طریقے سے مرتب کئے بغیر نہ تو ماضی سے اسباق حاصل کئے جاتے ہیں اور نہ ہی حال میں ہونے والے واقعات کے محرکات کو تلاش کرتے ہوئے مستقبل کی پیش بندی کی جا سکتی ہے۔

جموں کشمیر کے باسیوں کی غلامی کی داستان محض 22 اکتوبر 1947ء سے شروع نہیں ہوتی، تاہم غلامی کے ایک نئے دور کا آغاز اس واقع سے ضرور منسلک ہے۔ جہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ محض اس ایک واقعے کا کسی خاص ترتیب سے رونما ہوجانا ہی آج کے حالات کا مرکزی محرک نہیں ہے، وہاں یہ جاننا بھی اشد ضروری ہے کہ اگر یہ ایک واقعہ ایک مخصوص ترتیب سے رونما نہ ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ نومولود ریاستوں کی حکمران اشرافیہ برطانوی سامراج کے ایک ریذیڈنٹ کے زیر سایہ چلنے والی جموں کشمیر کی ’شاہی ریاست‘کو آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پرقائم کرنے پر تیار ہو جاتی۔

1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت دیگرشاہی، شخصی یا دیسی کہلانے والی ریاستوں کی طرح ’جموں کشمیر‘ کو بھی کسی ایک نومولود ریاست میں ضم کیا جانا تھا۔ تاہم موجودہ مخصوص حالت کے پس پردہ سامراجی ممالک اور نو مولود ریاستوں کے حکمران طبقات کے مخصوص مفادات پوشیدہ تھے۔ یوں کسی مخصوص سکرپٹ کے تحت نہ سہی لیکن دوطرفہ کھینچا تانی میں کم و بیش ویسا ہی ایک ڈھانچہ قائم ہو گیا جس کے تحت اس خطے پر بالواسطہ سامراجی تسلط بھی قائم رکھا جا سکا اور اس خطے کے محنت کشوں کا سرمایہ دارانہ استحصال بھی جاری و ساری رکھا جا سکا ہے۔

تاریخ سے متعلق سامراجی ایماء پر قائم کردہ مغالطوں کو درست اور تعصبات کے زیر سایہ تاریخ کو دیکھنے کا سلسلہ ترک کئے بغیر نہ تو درست بنیادوں پر مسئلہ جموں کشمیر کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی گزشتہ 7 دہائیوں سے ایک رستے زخم کو بار بار کریدے جانے کی اذیت سے نجات کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی مرتب کرتے ہوئے درست سمت میں جدوجہد کو استوار کیا جا سکتا ہے۔

جموں کشمیر میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا سلسلہ پہلی مرتبہ سکھ راج کے دوران اس وقت سامنے آیا تھا جب کسی سکھ کے ہاتھوں مقامی شہری کے قتل پر حکومت کو 16 سے 20 نانک شاہی (رائج الوقت کرنسی) جرمانہ کی سزا مقر کی گئی، جس میں سے 4 نانک شاہی ہندو مقتول کے خاندان کو دیئے جاتے تھے، جبکہ اگر مرنے والا مسلمان ہو تو اسکے خاندان کو صرف 2 نانک شاہی دیئے جاتے تھے۔

ڈوگرہ راج کے آغاز کے ساتھ ہی کشمیریوں پر مزید ٹیکس عائد کئے گئے تاکہ کشمیر کو خریدنے کیلئے ادا کئے گئے 75 لاکھ نانک شاہی اور برطانوی حکومت کیساتھ وفاداری کی علامت کے طور پر دیئے جانے والے تحائف کی رقم پوری کی جا سکے۔ ڈوگرہ راج ٹیکسوں کے نام پر بھتہ خوری کا بدترین دور تھا، کاشت شدہ فصلوں کا 50 سے 75 فیصد ڈوگرہ حکمران حاصل کرتے تھے، جبری مشقت، زیلداری ٹیکس سمیت مسلمان شہریوں پر شادی کا ٹیکس بھی عائد کیا گیا تھا۔ یوں مذہبی طور پر معاشرے کو تقسیم اور نفرتوں کو ابھارنے کا سلسلہ سکھ راج کے بعد ڈوگرہ راج میں بھی قائم رکھا گیا۔

تاہم وادی کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد ہمیشہ طبقاتی بنیادوں پرہی جابرانہ حکومت کے خلاف مزاحمت کی صورت میں ابھرتی رہی اور ابتدا میں یہ جدوجہد کبھی بھی مذہبی تعصبات کی بنیاد پر استوار نہیں ہوئی تھی۔ ڈوگروں کے خلاف مزدوروں کی مزاحمت 1865ء میں اس وقت شروع ہوئی جب کشمیری شال بافی کی صنعت سے منسلک مزدوروں نے بغاوت کی، اس بغاوت کو ڈوگرہ حکومت نے بے دردی سے کچل دیا اور شال بافی کی صنعت سے منسلک 28 ہزار کشمیری ریاستی جبر کے بعد محض 5 ہزار ہی رہ گئے۔ 1924ء میں سرینگر میں ریشم کے کارخانے کے مزدوروں نے ایک منظم ہڑتال کی اور یہ سلسلہ 1930ء میں کچھ نوجوانوں اور بائیں بازو کے مسلم دانشوروں کی جانب سے ریڈنگ روم پارٹی کے قیام تک آگے بڑھتا رہا۔

1931ء میں جب ڈوگرہ حکومت نے 3 سیاسی جماعتوں کے قیام کی منظوری دی تو اس میں بھی مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی، ’کشمیری پنڈت کانفرنس‘، جموں کے ہندوؤں کیلئے ’ہندو سبھا‘ اور سکھوں کیلئے ’شرمنی خالصہ دربار‘ کے نام سے پارٹیاں قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ڈوگرہ حکومت کے ان متعصبانہ اقدامات اور طبقاتی جبرکے خلاف متعدد تحریکیں ابھرنا شروع ہوئیں، 13 جولائی 1931ء کا واقعہ بھی انہی تحریکوں کا ہی تسلسل تھا، جس کے نتیجے میں ڈوگرہ پولیس نے انتہائی درندگی سے 22 مظاہرین کو ہلاک کیا۔

پنڈت پریم ناتھ بزاز لکھتے ہیں کہ ”جیل میں پہنچنے والے ہجوم کے جذبات ہندو مخالف نہیں تھے بلکہ ظلم کے خلاف تھے۔ پھر بھی 13 جولائی کے بعد ہونے والے فسادات نے اس تحریک کو مذہبی تحریک میں اس وقت تبدیل کر لیا جب وادی میں ہندوؤں کی ملکیتی دکانیں لوٹ لی گئیں۔“

وادی کے محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی جدوجہد کو ان کی مذہبی شناخت تک محدود کر دیا گیا۔ اگرچہ ڈوگرہ حکمرانی کے دوران مسلم محنت کش طبقے کی تکالیف بہت زیادہ تھیں۔ تاہم جس طرح اس وقت حکمرانوں نے مذہبی تعصبات کا استعمال کر کے ظلم و جبر کے خلاف تحریک کو مذہبی تحریک کے طور پر پیش کیا، اسی طرح آج تک ریاست جبر اور بربریت کے خلاف جدوجہد کو تقسیم کرنے کیلئے مذہبی اور فرقہ وارانہ ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جسے شعوری یا لاشعوری طورپر کہیں نہ کہیں اپنایا بھی جاتا رہا ہے۔

22 اکتوبر کو ہونے والے قبائلی حملے کو پونچھ کی بغاوت سے جوڑ دینا اور پونچھ کی بغاوت کے نتائج کو اس کے آغاز کے پس پردہ سازش قرار دیا جانا بھی تاریخ کے حقیقی واقعات کے تسلسل کو دیکھنے کی بجائے تعصبات کی بنیاد پر مرتب کردہ تاریخ پر من و عن یقین کئے جانے کا ہی شاخسانہ ہے۔ درحقیقت اگر 22 اکتوبر کو قبائلی حملہ آوروں کے ذریعے پاکستانی ریاست جموں کشمیر کو ہتھیانے کیلئے حملہ نہ بھی کرتی تو منصوبہ بندی میں زیر بحث آنے والے دیگر منصوبوں میں سے کسی ایک پر عملدرآمد ضرور کیا جانا تھا۔ اسی طرح بھارتی حکمران بھی جہاں مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ مذاکرات میں شریک تھے، وہاں آخری راستہ انکے پاس بھی طاقت کا استعمال ہی تھا۔

مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ قائمہ (Stand Still) کر لیا تھا، (1947ء کے معاہدوں کی شقوں کے مطابق کسی بھی ایسی ریاست کیلئے یہ ممکن تھا کہ جب وہ الحاق پر غور کر رہی ہو یا وہ الحاق کے عمل سے گزر رہی ہوں اور بعض مخصوص مسائل ابھی حل طلب ہوں تو وہ ایک یا دونوں مملکتوں کے ساتھ یہ معاہدہ کر سکتی تھی) دوسری طرف اسکا بھارتی حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ گو پہلے پہل ہری سنگھ جموں کشمیر کو الگ ریاست کے طور پر قائم رکھنے کی خواہش رکھتا تھا لیکن 13 جون 1947ء کو مشترکہ دفاعی کونسل کے اجلاس میں جناح اور نہرو کے درمیان شاہی ریاستوں کے الحاق پر اختلافات کے بعد صورتحال میں تبدیلی آگئی۔ جناح نے اس بات پر زور دیا کہ شاہی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ انکے حکمرانوں کو کرنا چاہیے جبکہ نہرو کا اصرار تھا کہ یہ فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔ تاہم جناح کی بات کو تسلیم کیا گیا، لیکن جناح کی خواہشات کے برعکس ہندو اکثریت والی وہ ریاستیں جن کے حکمران مسلم تھے ان پر یا تو بھارت نے جبری طور پر قبضہ کر لیا یا پھر وہ خود ہی بھارت کیساتھ الحاق پر مجبور ہو گئیں۔

بھارتی حکمرانوں کے ان عزائم کے پیش نظر ہی پاکستانی حکمرانوں نے جموں کشمیر کو بزور طاقت حاصل کرنے کیلئے مختلف طریقے استعمال کرنے شروع کئے، جن میں پونچھ سے شروع ہونیوالی بغاوت کی مدد کرنے کے علاوہ براہ راست حملے کیلئے مختلف طریقوں سے منصوبہ بندیاں کی گئیں۔ ان منصوبہ بندیوں کا اظہار 22 اکتوبر کو قبائلی حملہ آوروں کے مظفرآباد کے راستے جموں کشمیر میں داخلے، قتل عام اور لوٹ مار کی صورت ہوا۔

سابقہ جاگیر پونچھ کا علاقہ 1935-36ء کے دوران ڈوگرہ حکومت کی براہ راست عملداری میں آیا تھا۔ ڈوگرہ حکومت کے جابرانہ ٹیکسوں اور پالیسیوں کی وجہ سے پونچھ کی ڈوگرہ حکومت سے ہم آہنگی قائم نہ ہو سکی۔

برطانوی تاریخ دان ’ایین کوپلینڈ‘ اپنی تصنیف ”سٹیٹ، کمیونٹی اینڈ نیبرہڈان پرنسلی نارتھ انڈیا“ میں لکھتے ہیں کہ ”21 اپریل 1947ء کو مہاراجہ نے راولاکوٹ (موجودہ پاکستانی زیر انتظام پونچھ کا صدر مقام) میں 40 ہزار غیر متحرک فوجیوں کے اجتماع سے ملاقات کی اور وہ اس ملاقات میں نہ صرف متاثر ہوئے بلکہ بہت گھبرائے بھی۔“

یہ وہ فوجی تھے جو برطانوی فوج کا حصہ تھے اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد واپس لوٹے تھے۔ اس واقعہ سے متعلق کچھ تاریخ دان یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاراجہ اس وقت فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ کے ساتھ موجودگی سے گھبرا کر ملاقات کئے بغیر ہی واپس چلا گیا تھا اور اس اجتماع کے تحت دراصل یہ فوجی مہاراجہ کو سلامی پیش کرنے اور اس کے بعد مہاراجہ سے ٹیکسوں اور معاشی پالیسیوں میں نرمی کی اپیل کرنا چاہتے تھے، اس کے علاوہ ان کا اور کوئی مقصد نہ تھا۔

ایین کوپلینڈ آگے لکھتے ہیں کہ ”15جون کو پونچھ میں ’نو ٹیکس مہم‘ کی صورت میں ایک مزاحمتی تحریک کا آغاز ہو گیا تھا۔“

10ہزار کے لگ بھگ پونچھیوں نے پونچھ شہر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں مہاراجہ کی فوج کے ساتھ تصادم ہو ا۔ بعد ازاں 15اگست کو باغ میں ریاستی فوج کے ساتھ تصادم اور پھر 28اگست کو راولاکوٹ کے نواحی علاقے دوتھان کے مقام پر تصادم ہوا۔

کرسٹوفر سنیڈن لکھتے ہیں کہ ”جولائی 1947ء میں مہاراجہ نے پونچھ اور میرپور کے (ان سابقہ) فوجیوں سے اسلحہ ضبط کر لیا تھا، جس پر مسلمانوں نے یہ الزام عائد کیا کہ یہ اسلحہ ہندوؤں اور سکھوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔“

ڈوگرہ حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں اور تقسیم برصغیر کے نتیجے میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے اثرات اور پاکستان کو مسلمانوں کیلئے بننے والا ملک سمجھتے ہوئے اس سے جذباتی لگاؤ رکھنے والے افراد کی شمولیت نے اس تحریک کو مذہبی رنگ میں تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔

پاکستانی حکمرانوں کی پالیسیوں کا عمل دخل بھی بدرجہ اتم موجود رہا۔ کسی بھی خطے میں عوامی بغاوت، مزاحمت اور احتجاج یا کسی بھی نوعیت کا عدم استحکام بیرونی ریاستوں کی مداخلت کیلئے سب سے آئیڈل صورتحال بن جایا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ 12ستمبر1947ء کو وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے فوجی اور سول حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں مبینہ طور پر دو مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کی منظوری دی۔ ان منصوبوں میں سے ایک جموں کشمیر پر شمال سے حملہ کرنے کیلئے قبائلی فورس کی تیاری اور دوسرا پونچھ میں باغیوں کو مسلح کرنے کا منصوبہ شامل تھا۔

قبل ازیں جناح بھی جموں کشمیر پر فوجی آپریشن کی منظوری دے چکے تھے۔ یہ اقدام مہاراجہ کے بھارت کے ساتھ خفیہ مذاکرات کی وجہ سے اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے سردارشوکت حیات کو اس آپریشن کی بھاگ ڈور سونپی تھی۔ تاہم بعد ازاں وزیراعظم لیاقت علی خان نے یہ ذمہ داری خورشید انور کے حوالے کی اور فوجی آپریشن کی بجائے قبائلیوں کے ذریعے یہ اقدام اٹھانے کا فیصلہ ہوا۔ انہی فیصلوں کے پیش نظر پونچھ کے باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا اور 4اکتوبر کو باغیوں اور مہاراجہ کے فورسز کے مابین تھوراڑ (راولاکوٹ) کے مقام پر جھڑپیں ہوئیں اور مہاراجہ کی فوجوں کو شکست دیئے جانے کے ساتھ ساتھ مقامی غیر مسلم آبادیوں کو بھی مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بغاوت کا اختتام جموں کشمیر کی اسمبلی میں مسلم نشست پر منتخب نمائندے سردار ابراہیم کی سربراہی میں ’انقلابی حکومت‘ کے نام سے حکومت کے قیام کے اعلان پر ہوا، جسے بعد ازاں ’آزاد حکومت‘ کے نام سے جانا گیا، اس حکومت کا ابتدائی دارالحکومت ’جنجال ہل‘ (پلندری) کے مقام پر قائم کیا گیا۔ بعد ازاں حکومت پاکستان کی ایماء پر یہ دارالحکومت مظفرآباد میں منتقل کر دیا گیا۔اس حکومت کے ’اعلان آزادی‘ کو حکومت پاکستان نے تسلیم نہیں کیا، تاہم یہ حکومت ابتدا سے ہی حکومت پاکستان کے رحم و کرم پر رہی۔ اسی اثناء میں 22اکتوبر کو قبائلی گروہ مظفرآباد میں داخل ہوئے، لوٹ مار، قتل عام، عصمت دری کرتے ہوئے یہ حملہ آور بارہ مولا اور سری نگر کے مضافات تک جا پہنچے۔

اس دوران بھارتی حکمران مہاراجہ کو بھارت سے الحاق کرنے پر تیار کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ 26اکتوبر کو مہاراجہ نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے اور 27اکتوبر کو بھارتی فوجی دستے سرینگر ایئرپورٹ پر پہنچنا شروع ہو گئے۔ بھارتی فورسز کے پہنچنے سے قبل شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے دفاعی دستے قبائلیوں کے خلاف مزاحمت میں برسرپیکار تھے۔

بھارتی فورسز کے آنے کے بعد قبائلی پسپا ہونا شروع ہوئے اورباضابطہ پاک بھارت جنگ کے آغاز اور جنگ بندی کی صورت سابق شاہی ریاست جموں کشمیر مستقل بنیادوں پر دونوں نومولود ریاستوں کے درمیان تقسیم ہو گئی۔ بھارت جموں کشمیر کے مقدمہ کو اقوام متحدہ میں لے گیا اورجموں کشمیر کے باسیوں کو ایک مسلسل اذیت میں دھکیل دیاگیا۔

قبائلی حملے کے دوران ظلم و جبر کی اندوہناک داستانیں رقم کی گئیں، عورتوں کے زیورات لوٹنے کیلئے انکے جسمانی اعضاء تک کاٹ دیئے گئے، درجنوں عورتوں کو قبائلی اپنے ساتھ اغواء کر کے لے گئے، مال مویشی کے علاوہ سونا اوردیگر قیمتی دھاتیں لوٹ کر لے گئے۔ کئی خاندانوں کو عورتوں اور بچوں سمیت زندہ جلایا گیا۔ پونچھ کے باغیوں نے بھی غیر مسلم خاندانوں کے قتل عام کی اندوہناک مثالیں قائم کیں۔ ڈوگرہ حکمرانوں کے مظالم کے خلاف ابھرنے والی بغاوت نے جب فرقہ وارانہ رنگ اختیارکیا تو وحشت و بربریت کی ایسی داستاں رقم ہوئی جس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ دوسری طرف اگست سے نومبر کے درمیان جموں میں آر ایس ایس اور اکالی دل کے مسلح غنڈوں کے قتل عام کی داستانیں اس سے بھی زیادہ وحشت ناک تھیں، جس کے نتیجے میں 5لاکھ مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پرمجبور ہوئے اور 2لاکھ کے قریب لاپتہ ہو گئے۔

مذہبی بنیادوں پر برصغیر کی سامراجی تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے جموں کشمیر میں پہنچنے، پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کی منظم پالیسیوں اور مقامی افراد کی بغاوت کے فسادات کے رنگ میں رنگے جانے کے باعث اس خطے کے باسیوں کی آزادی کا خواب گزشتہ74سال سے ادھورا ہے۔ حکمرانوں کی پالیسیوں اوراپنے سامراجی و تذویراتی مقاصد و مفادات کے پیش نظردونوں ریاستوں کے حکمرانوں کی مداخلت کے تحت جموں کشمیر میں ایک منظم انداز میں پیوست کئے گئے مذہبی تعصبات اور فرقہ وارانہ تقسیم نے آج تک آزادی کی اس جدوجہد کو جموں کشمیر کے باسیوں کی اپنی خواہشات پرپنپنے ہی نہیں دیا،اور ایک یا دوسری ریاست کے حکمران طبقات کے مفادات کی شعوری یا لاشعوری تکمیل کی کوششوں میں قربانیوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

جس طرح ماضی میں افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعد جموں کشمیر کو پراکسی وار کا اکھاڑا بنا دیا گیا تھا، اسی طرح اس وقت بھی جموں کشمیر پر پراکسی وار، بنیاد پرسی اور دہشت گردی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ہر دو اطراف کے حکمران طبقات اور اشرافیہ کیلئے یہ کھلواڑ ہمیشہ انکے مفادات کی تکمیل کیلئے سود مند رہا ہے۔ موجودہ وقت وادی کشمیر میں شروع ہونے والے قتل عام کو جہاں عسکریت پسند بھارتی ریاست کے سہولت کاروں کا قتل عام قرار دے رہے ہیں، وہاں اندرون خانہ ایسے اعلانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ ’بھارتی ریاست انہیں جنت (کشمیر) کے ڈومیسائل فراہم کرے، ہم انہیں جہنم کا ویزہ دینگے‘۔ عام شہریوں، غیر ریاستی مزدوروں کے قتل عام اور پونچھ کے جنگلات میں بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے طویل مسلح تصادم جیسے واقعات فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ جہاں بھارتی ریاستی جبر کو مزید بڑھاوا دینے کا جواز فراہم کر رہے ہیں، وہاں سیاسی جدوجہد کو منظم کرنے، حقیقی طبقاتی مسائل اور پاک بھارت کے محنت کش طبقے سے اس جدوجہد کی جڑأت بنانے کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کر رہے ہیں۔

یہ سامراجی کھلواڑاب لمبے عرصے تک جموں کشمیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کو پراکسی الجھاؤ کا شکار بنانے میں کامیاب ہونے والا نہیں ہے۔ اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی طبقاتی جدوجہد کی ایک میراث ہے۔ پورے برصغیر کے ڈیڑھ ارب انسانوں کے استحصال کے جواز کیلئے جن کشمیری محنت کشوں اور نوجوانوں کی اذیتوں کو رستے زخم کے طور پر حکمرانوں نے استعمال کیا ہے، انہی محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریک ہمالیہ کے پانیوں کی طرح پورے برصغیر میں پھیلتے ہوئے سامراجی ریاستوں اور سرمایہ دارانہ حاکمیت کا تختہ الٹنے پر منتج ہوگی۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔