خبریں/تبصرے

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے! گزشتہ سال 45 صحافی ہلاک کئے گئے

قیصر عباس

پرانے سال کا سورج غروب ہوا اور ہم نئے سال کی دہلیز پر ہیں۔ جہاں گزشتہ سال عالمی وبا، سیاسی افراتفری اور اقتصادی گراوٹ کا سال ٹھہرا وہاں آزادی صحافت بھی سفاک حکمرانوں ا ور منتخب آمروں کی اسیر رہی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گزشتہ سال پوری دنیا میں 45 صحافی ہلاک ہوئے۔ اپنی جان کا نذرانہ دینے والے ان رپورٹروں اور میڈیا کارکنوں کا تعلق دنیا کے بیس ممالک سے ہے جن کو اتفاقیہ نہیں، خاص طور پر نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔

ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ صحافی جنوبی ایشیا میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ خبر رساں ادارے نے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جر نلسٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ اس عرصے میں 16 صحافی جنوبی ایشیا میں ہلاک کئے گئے جن میں افغانستان میں نو، انڈیا میں چار اور پاکستان میں تین رپورٹر مارے گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد افغانستان کے صحافیوں کی ہے۔ میڈیا کے یہ کارکن نہ صرف طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد بلکہ ملک پر امریکی قبضے کے دوران بھی دہشت گردوں کے تشدد کا نشانہ بنے۔ اب جب کہ طالبان برسر اقتدار ہیں، خواتین صحافیوں کو دفتر آنے سے منع کر دیا گیا ہے اور میڈیا کارکنوں کے خلاف تشدد اور قانونی کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ہندوستان جیسی دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت میں صحافیوں پر تشدد حیران کن ضرور ہے لیکن مودی سرکار نے جس مذہبی جنونیت اور آمرانہ رجحانات کو ہوا دی ہے، یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ اس صورت حال میں کشمیر سمیت پورے ملک میں سکیورٹی کے ادارے بلا روک ٹوک میڈیا اور ان کے کارکنوں کے خلاف ہر قسم کے حربے استعمال کر کے انہیں خاموش کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے صحافیوں کو عرصے سے سرکاری اور غیر سرکاری گروہو ں اور اداروں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہواہے۔

عدم برداشت کے یہ رویے نہ صرف دہشت پسندوں بلکہ سیاسی رہنماؤں کا معیار بھی بن چکے ہیں۔ ٹی وی سکرین پر خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ اور مخالفین کے لئے پر تشدد زبان کا استعمال اس رجحان کی پہلی نشانیاں ہیں۔

میڈیا اور صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشد د کی یہ لہر ہمیں قلم کے ان نڈر سپاہیوں کی قربانیوں کا احساس دلاتی ہے جنہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا کام جان لیوا ہو سکتاہے، معاشرے میں بد عنوانی، طاقت کا نا جائز استعمال اور جرائم سے لوگوں کو باخبر رکھنے کا کام جاری رکھا۔ اس تشدد کے خلاف عوامی رد عمل، صحافیوں کی مزاحمت اور بین الاقوامی دباؤ بھی جاری ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سال اور آنے والا ہر سال آزادی اظہارکے لئے کیسا ثابت ہو گا۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔