خبریں/تبصرے

دہشت گردی کے خلاف جنگ: 5.9 ٹریلین ڈالر خرچ اور پانچ لاکھ ہلاکتیں

فاروق سلہریا

2001ء میں گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کی طرف سے شروع ہونے والی ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کا آغاز افغانستان سے ہوا جس کی لپیٹ میں پاکستان بھی آ گیا اور 2003ء میں امریکہ نے اس جنگ کو شرمناک انداز میں عراق تک بڑھا دیا۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیاد ہلاکتیں عراق (2,68,000-2,95,000) میں ہوئیں، دوسرے نمبر پر افغانستان کو جانی نقصان اٹھانا پڑا (1,47,000) اور پاکستان کو بھی بھاری جانی نقصان پہنچا (65,000)۔

مندرجہ بالا اعداد و شمار میں موجودہ سال میں ہونے والے جانی نقصان کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسی اموات کو شامل کیا گیا ہے جو براہِ راست تشدد کا نتیجہ نہیں تھیں۔ مثلاًبہت سے لوگ دوائیوں کی عدم فراہمی، مضر ِصحت پانی یا انفرا سٹرکچر کی تباہی سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ اعداد و شمار براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹیٹیوٹ نے مرتب کئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم نصف تعداد عام شہریوں کی ہے(تفصیلات مندرجہ ذیل جدول میں پیش کی گئی ہیں)۔

واٹسن انسٹیٹیوٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد سے امریکہ نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا دائرہ کار 80 ملکوں تک بڑھا دیا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں صرف چار ممالک: افغانستان، شام، عراق اور پاکستان سے دو کروڑ دس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس’جنگ‘ پر امریکہ 5.9 ٹریلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

اگر چھ ٹریلین ڈالر کا نصف بھی جنگ کی بجائے امن پر خرچ کیا گیا ہوتا تو آج دنیا کہیں زیادہ بہتر جگہ ہوتی!

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔