خبریں/تبصرے

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں تاریخ ساز ہڑتال تیسرے ہفتے میں داخل

لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ہائیر ایجوکیشن کی ہڑتال اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ تعلیمی کارکنان قابل رہائش اجرت، بچوں کی دیکھ بھال کے مزید فوائد، خاندانی چھٹیوں میں توسیع اور دیگر مطالبات کے حصول کیلئے احتجاج کر رہے ہیں۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے تمام 10 کیمپسوں میں تقریباً 48 ہزار تعلیمی کارکنان ہڑتال پر ہیں، جن میں تدریسی معاون، پوسٹ ڈاکٹرل اسکالرز، گریجویٹ طالبعلم محققین، ٹیوٹرز اور فیلوز شامل ہیں۔

ڈاکٹریٹ کے طالبعلم اور مقامی یونین کے سربراہ ایزیک اولیوارس کہتے ہیں کہ ’ہم وہی ہیں جو کام تیار کر رہے ہیں۔ ہم کلاس روز میں پڑھا رہے ہیں اور پھر بھی ان میں سے زیادہ تر سٹوڈنٹ ورکرز فوڈ اسٹامپ کیلئے اہل ہیں۔‘

محقق آرتھی سیکر کہتی ہیں کہ ’بین الاقوامی گریجویٹ طلبہ بھی بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘

وہ یونیورسٹی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنی یونین، یونائیٹڈ آٹو ورکرز کے ساتھ نیک نیتی سے سودے بازی نہیں کر رہی ہے۔ 11 ہزار سے زائد پوسٹ ڈاکس اور تعلیمی محققین کی نمائندگی کرنے والے نیل سوینی کا کہنا ہے کہ ’ہر موڑ پر یونیورسٹی نے بارگیننگ کی میز پر غیر قانونی طور پر کرنے کی کوشش کی ہے، جو ہمیں کسی معاہدے تک پہنچنے سے روک رہی ہے۔

بارگیننگ یونٹس کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی قیادت نے یونین سے مشاورت کے بغیر تنخواہ اور ٹرانزٹ فوائد میں غیر قانونی طور پر تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی نے اس بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ کون بارگیننگ یونٹ میں ہے اور دوسری صورت میں بارگیننگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ ایک سال سے زائد عرصے سے مذاکرات جاری ہیں۔