خبریں/تبصرے

حکومت میں آئے تو جلیانوالہ باغ پر معافی مانگیں گے، لیبر پارٹی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعرات کے روز برطانیہ کی لیبر پارٹی نے بارہ دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات کے لئے اپنا منشور پیش کیا جس میں یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ حکومت میں آنے کی صورت میں لیبر حکومت برطانیہ کی جانب سے جلیانوالہ باغ پر معافی مانگے گی۔

یاد رہے امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں ٹھیک سو سال پہلے برطانوی راج نے قتل عام کیا تھا اور اس اندوہناک واقعے میں ایک ہزار کے لگ بھگ افراد شہید ہو گئے تھے۔

107 صفحات پر مشتمل لیبر منشور میں جلیانوالہ باغ کے علاوہ بھی ایسے نکات شامل ہیں جن کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔

جلیانوالہ باغ کے قتل عام پر معافی کے علاوہ 1984ء میں آپریشن بلیو سٹار میں برطانوی کردار پر ”پبلک انکوائری“ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ 2017ء کے لیبر منشور میں اس واقعے کی ”آزادانہ تحقیقات“ کا وعدہ کیا گیا تھا۔

آپریشن بلیو سٹار علیحدگی پسند سکھوں کے خلاف کیا گیا تھا جنہوں نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں پناہ لے رکھی تھے۔ بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ اپنے مقدس مقام کی بے حرمتی پر سکھ مذہب کے ماننے والوں میں ایک غصہ ابھی تک موجود ہے۔ برطانیہ میں بالخصوص یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا جب 2014ء میں کچھ خفیہ دستاویزات کے ذریعے پتہ چلا کہ اس وقت کی اندرا حکومت کو، جس نے گولڈن ٹیمپل کے خلاف آپریشن بلیو سٹار کیا تھا، برطانیہ کی حکومت، جس کی قیادت مارگریٹ تھیچر کر رہی تھیں، نے رہنمائی فراہم کی تھی۔

اس منشور میں سری لنکا کے تامل اور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی بات کرنے کے علاوہ کشمیر کا بھی ذکر ہے مگر کشمیر پر جو ترقی پسندانہ موقف لیبر پارٹی کی گزشتہ کانفرنس میں اپنایا گیا تھا، اس منشور میں لیبر پارٹی اس سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں مقیم پندر ہ لاکھ بھارتی نژاد افراد نے لیبر پارٹی کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ووٹر پچاس سے زائد نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔