خبریں/تبصرے

ڈاکٹر لال خان کی نماز جنازہ آج سہ پہر چار بجے ان کے آبائی قصبہ بھون میں ادا کی جائے گی

فاروق طارق

ڈاکٹر یثرب تنویر گوندل، جو لال خان کے نام سے لکھتے تھے، جمعہ 21 فروری کی رات سات بجے ہم سب سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے۔ وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے پھیپھڑوں کے کینسر جیسے موذی مرض سے نبردآزما تھے۔

ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی قصبہ بھون ضلع چکوال میں آج سہ پہر چار بجے ادا کی جائے گی اور بعد ازاں انہیں اسی قصبہ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

ڈاکٹر لال خان ایشین مارکسسٹ ریویو کے ایڈیٹر تھے اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے بین الاقوامی سیکرٹری تھے۔ وہ ایک مارکسسٹ تھے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے کے عظیم داعی تھے۔ ان کی تمام زندگی اسی مقصد کے لئے صرف ہوئی۔

کامریڈ لال خان نے مارکسی نظریات کے پھیلاؤ کے لئے درجنوں کتابیں لکھیں، ہزاروں لیکچر کئے اور دنیا بھر کے بیشتر ممالک کی مارکسی تحریکوں کو پاکستان میں متعارف کرایا۔ وہ مارکسزم کی ایک جیتی جاگتی ڈکشنری تھے۔

وہ ایک عظیم مارکسی دانشور تھے جو مسلسل جدوجہد اور قربانی پر یقین محکم رکھتے تھے۔ ان کی ساری عمر مارکسی تنظیم سازی کے لئے میں کام کرتے گزری۔

لال خان سے میرا تعارف ایمسٹرڈیم میں جون 1980ء میں جلا وطنی کے دوران ہوا جب ہم دونوں ضیا آمریت کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے ملک بدر تھے اور ہم نے دیگر ساتھیوں سے مل کر محنت کش طبقات کے لئے جدوجہد کرنے کا جو عزم کیا تھا وہ ان کی زندگی کے آخری لمحوں تک جاری رہا۔

کینسر بارے وہ کہتے رہے کہ ”آخری دم تک اس سے لڑوں گا اور ہار نہیں مانوں گا۔“

وہ ہمیشہ محبت اور اپنائیت سے مجھے ”چیئرمین“ کہہ کر پکارتے تھے اور کہتے کہ تم ماس ورک کرو اور میں تنظیم کا کام کر رہا ہوں۔ لال خان کی جدوجہد اور مارکسی نظریہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے انقلابیوں کے لئے مشعل راہ کا کام دیتا رہے گا۔ ابھی الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، طبیعت مضطرب ہے، چالیس سال کا ساتھی اب ساتھ نہیں… ان کی زندگی اور ہمارے ساتھ کی تفصیلات کسی اور نشست کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔