نقطہ نظر

سیاسی حکمرانوں کی پولیس افسروں سے تعزیتیں اور مبارکیں جمہوریت کو مہنگی پڑتی ہیں

گوہر بٹ

ٹکرز نمبر 768، لاہور 29 مئی۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کاآرپی او فیصل آبادراجہ رفعت مختارکے بھائی کے انتقال پر اظہارِافسوس۔
وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار کاراجہ رفعت مختار کو ٹیلی فون۔
وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار نے بھائی کے انتقال پر راجہ رفعت مختار سے دلی ہمدردی اورتعزیت کا اظہار کیا۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطافرمائے۔ عثمان بزدار

مندرجہ بالا ٹکرز وزیرِاعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے پی آر او کی جانب سے جاری کئے گئے۔ لوگوں نے ہر دور کے حکمرانوں کے بیانات پر مبنی ایسے کئی بیانات پڑھے ہوں گے۔ ویسے تو کسی کی موت پر افسوس ہونا ایک قدرتی امر ہے اور اس پر لواحقین سے اظہارِ تعزیت بھی ہماری سماجی اخلاقیات کا ایک اہم اور بنیادی جزو ہے۔ یہ عمل بہر حال ایک بہتر عمل ہے لیکن یہ بات سوچنے کی ہے کہ آخر ہمارے سیاسی حکمران پولیس افسروں یا سول و ملٹری نوکر شاہی کے ساتھ ایسا ہمدردانہ رویہ کیوں رکھتے ہیں؟ اس کی دو تین بنیادی وجوہات ہیں جس پر بات کرنا ضروری ہے۔

پہلی بات: ہمارے سیاسی حکمرانوں کو اس حقیقت کا علم ہوتا ہے کہ وہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں (خاص طور پر موجودہ حکمرانوں کو) اور وہ کسی کی ’نظر ِکرم‘ کی وجہ سے اس عہدے پر براجمان ہیں۔ اس لئے وہ انتظامی افسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتظامی سے زیادہ ذاتی بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں تاکہ اگر’نظر کرم‘ کرنے والا اپنی نظریں پھیر بھی لے تو اسے بہرحال انہی انتظامی افسروں کے ذریعے ہی معاملات چلانے ہیں اور اگر ان سے تعلقات موجود ہوں گے تو حزب ِ اختلاف کے دنو ں میں بھی نزلہ کم گرے گا۔

دوسری بات: اگر’نظر ِکرم‘ جاری بھی رہے تو وزیرِاعلیٰ ہو یا وزیرِاعظم یا پھر کوئی وزیر، سب کو اپنے حلقے میں انہی افسروں کے ذریعے اپنی رِٹ (حکمرانی) کو قائم رکھنا ہے اور سیاسی مخالفین کو ناطقہ بند کرنا ہے۔

تیسری وجہ: برادری ازم بھی ہے۔ ہمارا معاشرہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے منقسم تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ’نسل پرستی‘ بھی ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ مثال کے طور پر جب پرویز الٰہی وزیرِاعلی تھے تو ہر دوسرے اہم عہدے پر جٹ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد افسر تعینات تھے۔ پھر مسلم لیگ (ن) کا دور آیا تو کشمیری برادری کے لوگ اہم عہدوں پر تعینات کئے گئے۔ آج کل آپ کو زیادہ تر پٹھان اور نیازی برادری کے افراد اہم عہدوں پر تعینات ملیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر کسی افسر کا قریبی عزیز وفات پا گیا ہے اور س کے ساتھ وزیرِاعلیٰ نے اظہارِ تعزیت کر لیا ہے تو پھر بات کو مشتہر کرنے کی کیاضرورت ہے؟

اس کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کہ دیگر افسران کو علم ہوسکے کہ وزیرِاعلیٰ افسروں سے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اس طرح دیگر افسروں کے ذہن و دل کے کسی گوشے میں وزیراعلیٰ کے لیے ہمدردی اور قربت کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔

قارئین کرام!’ہمارے سیاستدانوں کے اس روئیے، جوکہ بادی النظر میں ایک عمومی رویہ تصور کیا جاتا ہے، کے انتہائی دُور رس نتائج ہوتے ہیں‘۔ افسروں کے لاشعور میں یہ بات پکی ہوجاتی ہے کہ وہ انتہائی اہم ہیں اور ان کے بغیر یہ عوامی نمائندے کسی کام کے نہیں۔ اس کے ساتھ ہمارا جمہوری نظام بھی اس سے متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس روئیے کی وجہ سے انتظامی افسر کی گرفت عوامی نمائندے کی نسبت زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے اور سادہ لوح شہری اپنے نمائندے کی بجائے انتظامی افسروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 21 ویں صدی میں بھی وہی عوامی نمائندہ اپنی نشست جیت لیتا ہے جس کے تھانے کچہری اور پٹوار میں بہتر تعلقات ہوں۔ اگر ہمارے سیاستدان ملک میں جمہوریت کا استحکام چاہتے ہیں تو انہیں نہ صرف ایمانداری کو اپنا شعار بنانا ہوگا بلکہ انتظامی افسروں کی خوشامد کا رویہ بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر وہ ہمیشہ’نظر کرم‘ کے محتاج رہیں گے۔

گوہر بٹ عرصہ تیس سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وہ پاکستان کے اہم اخبارات اور نیوز چینلز میں صحافتی فرائض ادا کر چکے ہیں۔