تاریخ

[molongui_author_box]

دینا ناتھ کا کنواں

دینا ناتھ کی لاہور میں اور بھی کئی عمارتیں تھیں۔ کہنیالال نے دینا ناتھ کی دو حویلیوں کے علاوہ ان کے بنوائے ہوئے شوالے کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جن میں سے ایک شوالہ کوتوالی کے پاس بنوایا گیا تھا ،جبکہ دوسرا مسجد وزیر خان کے قریب کہیں واقع تھا۔ نیز نقوش ‘لاہور نمبر’ میں دینا ناتھ کے ایک وسیع باغ کا بھی ذکر ہے۔ لیکن اب یا تو صرف ان کا بنوایا یہ کنواں موجود ہے یا فقط ان کی ایک حویلی کے کچھ آثار باقی ہیں۔

یوم مزدور:  تاریک عہد میں امید کا استعارہ

آج کی سرمایہ داری سے کسی استحکام خوشحالی اور بہبود کی توقع رکھنا حماقت بلکہ  جُرم کے مترادف ہے۔ ٹریڈ یونینز ایسوسی ایشنز کے تمام نمائندوں اور لیڈران کو اس تمام تربین الاقوامی اور ملکی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاست و معیشت کے ان تمام داوپیچ کو سمجھتے ہوئے شعوری طور پر مزدورتحریک کو ملکی سطح پر بلاتفریق رنگ و نسل مذہب و قوم کے، یکجا کرنے کی اشد ضرورت کے تحت عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ ٹریڈ یونین لیڈران کی موجودہ شعوری کیفیت کو دیکھے تو محنت کشوں مزدوروں ملازمین پر جتنے بھی تابڑ توڑ حملے ہورہے جس کا ہم نے اوپر تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے سے آنکھیں چُرا کر ان حملوں کے خلاف خاطر خواہ عملی جدوجہد سے انحراف کررہے ہیں ۔

یوم مئی: مزدور کی محنت پر ہم مزدور کا قبضہ مانگیں گے!

یوم مئی ،مزدوروں کا عالمی دن ،امریکہ کے شہر شکاگو میں شہید ہونے والے مزدوروں کی یاد میں ہر سال بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب،قوم اور ملک ساری دنیا میں انتہائی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔اس سال یوم مئی ایسے وقت منایا جا رہا ہے ،جب سرمایہ دانہ نظام تاریخی متروکیت کا شکار ہو کر ساری دنیا میں مہنگائی،بے روزگاری، نجکاری، جنگوں،خانہ جنگیوں اور ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں ہر طرف بربادیاں پھیلا رہا ہے۔حکمران طبقہ بے رحمی سے مزدور دشمن نیو لبرل پالیسیوں کو لاگو کر رہا ہے۔ محنت کشوں پر معاشی حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور یونین سازی، پر امن احتجاج اور اجتماع جیسے جمہوری حقوق پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

یوم مئی: چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی!

سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ہی منافع اور شرح منافع پر ہے۔محنت کش پوری دنیا میں سستے داموں محنت بیچنے پہ مجبور ہیں۔ دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں تک محدود ہے۔ اکثریتی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے۔ مزدور جو اس نظام کا پہیہ چلا رہے ہیں۔ ان کے پاس دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ داری کے جبر سے نکلنے کے لیے اور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے محنت کش طبقے کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ بین الاقوامی جڑت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا تفریق رنگ، نسل، قوم، مذہب ذات ایک طبقے کی صورت آگے بڑھے اور ‘دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ’ کے نعرے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس جابر سرمایہ دارانہ نظام کو پاش پاش کر دے۔

رحمن صاحب آف حسن پور

ہمارے جیسے معاشرے میں رحمن صاحب جیسا شخص صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو عقل کی روشنی دکھاتے اور بڑے مقاصد کیلئے جینا سکھاتے تھے۔ تقسیم اور بے گھر ہونے کے درد سے گزرنے کے باوجود وہ 20 سال کی عمر سے پہلے ہی دانشمند رہنما بن گئے تھے۔

مسئلہ فلسطین کی ابتدا: کیا اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟

لارڈ آرتھر بالفور ہی وہ شخص تھا،جو 1917 میں ‘‘بالفور اعلامیے’’ کا معمار ٹھہرا اور یہی اعلامیہ در حقیقت فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی ریاست کی بنیاد بنا۔ نسل پرستی سے متعلقہ لارڈ آرتھر کے مندرجہ بالا الفاظ فلسطین کے حوالے سے نہیں بلکہ سیاہ فام افریقیوں کے خلاف کہے گئے تھے۔ لیکن یہ ہمیں مجموعی طور پر سامراجی ذہنیت اور نفسیات جبکہ انفرادی طور پر ایک ایسے شخص کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں،جو مشرق وسطی کے قلب میں ایک درد ناک زخم پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اکتوبر 2023 سے پوری دنیا، جدید دور کی تاریخ کے سب سے خوفناک اور وحشیانہ قتل عام کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ لہٰذا اس نفسیاتی ذہنیت کی گہرائیوں میں جھانکنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو دنیا کے نقشے پر اس جہنمی منظر کو پیدا کرنے میں لگی تھی۔

بھٹو کا خون کبھی ہضم ہو گا؟

جنرل ضیاء کا خیال تھا کہ جب تک بُھٹو زندہ رہیں گے وہ اپنے حامیوں کو اُمیدیں دلاتیں رہیں گے اور فوجی حکومت کے لئے عدم استحکام کا باعث بنتے رہیں گے۔ لہٰذا سپریم کورٹ نے فوجی حکومت کی خواہش کے مطابق پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔مقدمہ میں ناانصافیوں سمیت بُھٹو کے ساتھ جیل میں کیا گیا سلوک اور پھانسی سے پہلے کئے جانے والے تشدد کے متعلق مُختلف باتیں لکھی اور کہی جاچُکی ہیں۔ مگر ان پر غیر جانبدار اور پائیدار تحقیق کی ضرورت ہے،تاکہ تاریخ کے ریکارڈ کو درُست کیا جاسکے۔

بھگت سنگھ: بہروں کو سنانے کے لئے اونچا بولنا پڑتا ہے (دوسرا حصہ)

”بظاہر میں نے ایک دہشت گرد کی طرح کام کیا ہے، لیکن میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ میں پوری طاقت کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ میں دہشت گرد نہیں ہوں اور شاید اپنے انقلابی کیریئر کے آغازکے سوا کبھی تھا بھی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ان طریقے سے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ سوچ سمجھ کر میری رائے ہے کہ بم ہمارے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ یہ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کی تاریخ سے ثابت ہے۔ بم پھینکنا نہ صرف بیکار ہے بلکہ نقصان دہ بھی ہے۔ ان کا استعمال صرف بعض مواقع پر کرنا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد محنت کش عوام کو متحرک کرنا ہے۔ فوجی ونگ کو خصوصی مواقع پر استعمال کیلئے جنگ کا مواد اکٹھا کرنا چاہیے۔“

بھگت سنگھ: بہروں کو سنانے کے لئے اونچا بولنا پڑتا ہے

ننھے بھگت سنگھ نے بڑے جذبے کے ساتھ خود کو گاندھی کی تحریک عدم تعاون میں جھونک دیا۔ اسکی آزادی کا خواب اس وقت چکنا چور ہو گیا، جب گاندھی اچانک تحریک سے دستبردار ہو گئے۔ بھگت سنگھ اپنے (آزادی کے) خواب کو اپنے طریقے سے پورا کرنے کیلئے بڑا ہوتا ہے۔ وہ چندر شیکھر آزاد کی سربراہی میں ہندوستان ریپبلکن ایسوسی ایشن میں شامل ہوتا ہے اور اپنے ساتھیوں کو اپنی تنظیم کا نام بدل کر ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن (ایچ ایس آر اے)رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ کانگریس کی سخت مخالفت کرتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ اگر کانگریس کے طریقے سے آزادی جیتی گئی تو نام نہاد آزاد ہندوستان میں استحصال کا راج ہوگا اور ایک وقت آئے گا، جب ہندوستان فرقہ وارانہ انتشار کی سرزمین کی صورت میں تنزلی کا شکار ہو جائے گا۔