تاریخ

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


چراغ بجھتے ہی رہتے ہیں پر…

انکی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی بہادری تھی۔ ایک بار لاہور مال روڈ پر جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا۔ وہ خواتین کے سامنے ڈھال بن گئے۔ اسی طرح ایک بار بیڈن روڈ پر جس عمارت میں جدوجہد کا دفتر تھا اس پر قبضہ گروپ والے بندوقوں کی مدد سے قبضہ کرنے آ گئے۔ اس عمارت کے مالک حاجی صاحب کا کوئی لین دین کا جھگڑا تھا۔ اس کا خواہ مخواہ خمیازہ ہمیں بھی بھگتنا پڑا۔ قبضے کے دوران کلاشنکوف بردار بدمعاشوں سے شعیب بھٹی الجھ پڑے۔ وہ عمارت خالی کرنے پر تیار نہ تھے۔

طارق علی: تقسیم فیض، منٹو اور امرتا پریتم کی نظر میں

”آج میرا دل افسردہ ہے۔ ایک عجیب سا اضمحلال اس پر چھایا ہوا ہے۔ چارساڑھے چار سال پہلے جب میں نے اپنے دوسرے وطن بمبئی کو خیر باد کہا تھا تو میرا دل اس طرح مغموم تھا۔ مجھے وہ جگہ چھوڑنے کا صدمہ تھا جہاں میں نے اپنی زندگی کے بڑے پُر مشقت دن گزارے تھے۔ ملک کے بٹوارے سے جو انقلاب برپا ہوا، اس سے میں ایک عرصے تک باغی رہا اور اب بھی ہوں لیکن بعد میں اس خوفناک حقیقت کو میں نے تسلیم کر لیا مگر اس طرح کہ مایوسی کو میں نے اپنے پاس تک نہیں آنے دیا۔“

ملک ہار دینے والا جرنیل (آخری قسط)

فوج کو جب اندازہ ہوا کہ اس نے اپنا کتنا بڑا نقصان کر لیا ہے توزخم خوردہ فوجی قیادت نے ذوالفقار علی بھٹو نامی نجیب سیاستدان سے رابطہ کیا تاکہ بچے کھچے ملک کے معاملات کو چلایا جا سکے اور وہ انہیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔اس موقع پر فوج کی ”نسبی آزدی“ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ یہ کہ وہ کبھی پھر اقتدار کا رخ کریں گے، نا ممکن دکھائی دیتاتھا۔

ملک ہار دینے والا جرنیل (چوتھی قسط)

یہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار ہیں جن کے سامنے تقسیم ہند کے دوران یا بنگال میں پڑنے والے 1943ء کے عظیم قحط کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی کم پڑ جاتی ہے۔

ملک ہار دینے والا جرنیل (تیسری قسط)

مشرقی پاکستان کے کمانڈنٹ جنرل ”ٹائیگر“ نیازی نے بڑ لگائی تھی کہ وہ ہفتوں میں سرکشی کا قلع قمع کر دیں گے مگر ان کی شیخی کسی کام نہ آئی۔ جنرل گل حسن کے لئے مشکل ہو رہا تھ کہ وہ جنرل نیازی کے لئے اپنے دل میں موجود ہتک چھپائیں۔ گل حسن کے خیال میں جنر ل نیازی زیادہ سے زیادہ ”کمپنی کمانڈر بننے کے قابل“ تھے۔ جنرل گل حسن خود بھی کوئی توپ قسم کے فوجی مدبر نہ تھے۔

آج ن م راشد کی 111 ویں سالگرہ ہے

راشد کو ’نقادوں‘ کی حیرت زدہ چیخوں کی کیا پرواہ ہو سکتی تھی۔ سب سے بڑھ کر انہوں نے فنکار کے تخلیقی کام کو ’آزادی کی شرائط کے تحت‘ دیکھا۔ مختلف حلقوں کی خواہشات کے تابع ادب تخلیق کرنا انہیں بہت ناگوار تھا، چاہے اس خواہش کا اظہار ریاستی کرداروں کی طرف سے ہو یا نظریاتی پنڈتوں کی جانب سے، یہ ان کے نزدیک بہت بڑی ناانصافی تھی۔ اسی طرح جب انہوں نے اپنی موت کے بعد خود کو جلانے کا کہا تو ایسا ہی تھا جیسے انہوں نے…ایک معجزہ برپا کیا…کیوں کہ جب انسان آزادی کیلئے ساری زندگی زنجیریں توڑتا رہا ہو، تو پھر اس سلسلہ کی آخری کڑی کیوں باقی رہے؟

جوہر میر: مزاحمتی شاعری کا گم شدہ سپاہی!

مزاحمتی ادب بر صغیر کی روایتوں کا ایک اہم باب ضرور ہے لیکن انقلابی اردو شاعری میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے مقام پر ماحول کی گھٹن کو تواجاگر کیا مگر انہیں قومی سطح پر وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق ہیں۔جوہرمیر بھی مزاحمتی شاعری کا ایک گمنام سپاہی ہے جس نے سماجی انصاف کی چوکھٹ پر اپنی انفرادی خوشیوں کو ساری زندگی قربان کیا۔