خبریں/تبصرے


گلگت: فوجی عدالت سے سزا یافتہ 13 اسیروں کی رہائی کیلئے ورثا کا احتجاجی دھرنا

دھرنا میں شریک امجد چنگیزی نے ’جدوجہد‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 13 اکتوبر 2005ء کو سکول کے طلبہ کے احتجاج پر رینجرز نے لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد فسادات ہو گئے اور کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے فائرنگ کے نتیجے میں 2 رینجرز اہلکاران اور 2 خواتین سمیت 7 سویلین ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ انکا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ایک شیعہ مسلک کی مسجد کو بھی مسمار کیا گیا اور تحقیقات کرنے کے بغیر 14 بے گناہ افراد کو حراست میں لیکر انسداد دہشت گردی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔

جموں کشمیر: ڈاکٹروں کا وزیر اعظم تنویر الیاس کو ہیلتھ سروس فراہم کرنے سے انکار

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر بھر کے ڈاکٹروں نے وزیر اعظم تنویر الیاس کی جانب سے استعمال کی جانیوالی زبان اور دھمکیوں پر معافی مانگنے تک ہڑتال جاری رکھنے کے علاوہ جموں کشمیر و پاکستان بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

جموں کشمیر: واپڈا سے 5 ارب کی بجلی خرید کر صارفین کو 25 ارب میں بیچی جاتی ہے

غریب عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ مارنے کے باوجود بجلی بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس خطے میں بجلی جب 2.59 روپے میں خریدی جاتی ہے تو پھر صارفین کیلئے نرخ 5 روپے یونٹ سے کم مقرر کئے جائیں اور اس خطے کو لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ فراہم کیا جائے۔

فیس بک: اسقاط حمل کی گولیوں پر پابندی، بندوق بیچنے کی اجازت

”ٹیسٹ کے طور پر ایک رپورٹر نے فیس بک پر پوسٹ کیا: ’اگر آپ مجھے اپنا پتہ بھیجیں تو میں آپ کو اسقاط حمل کی گولیاں بھیج دوں گا۔‘ پوسٹ کو ایک منٹ میں ہٹا دیا گیا۔ جب رپورٹر نے وہی پوسٹ دوبارہ کی لیکن ’اسقاط حمل کی گولیاں‘ کے فقرے کو ’بندوق کی گولیاں‘ میں تبدیل کر دیا، تو پوسٹ کو چھوڑ دیا گیا۔“

علی وزیر کا معاملہ: ’سپیکر کی کرسی پر بیٹھنے والوں میں اخلاقی جرأت نہیں‘

ان کی درخواست ضمانت پر سماعت بھی 28 جون کو ہونا تھی، جو بوجوہ ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دی گئی ہے۔ یوں علی وزیر کو گرفتار ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت کے باوجود وہ ابھی تک کراچی جیل میں ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا مہم: آخری مہینوں میں 2 ارب کے اخراجات

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو تشہیر کا کام سونپا گیا، انہوں نے رقم کی تقسیم کیلئے ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی فہرست تیار کی۔ بجٹ دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ رقم ’حکومتی اقدامات، پروگرام اور منصوبوں پر جامع میڈیا مہم کے آغاز‘ کیلئے منظور کی گئی تھی۔