خبریں/تبصرے


عورتوں اور خوشیوں سے خوفزدہ طالبان

”افغان لوگوں کا کسی چیز پر کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ ہماری ہر چیز حتیٰ کہ ہماری نجی زندگی اور بیڈ روم بھی طالبان سے محفوظ نہیں۔شادیوں پر طالبان کے حملوں بارے اور بھی رپورٹس سننے کو ملی ہیں۔ بعض خواتین اب بھی جینز پہن کر نکلتی ہیں۔۔۔کہ یہ بھی مزاحمت کی ایک علامت ہے،مگر اکثریت نے برقعہ اوڑھ لیا ہے۔“

نیا افغانستان: خواتین کی ملکیت والے کیفے، ریستوران بند

یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ ایسے تمام کیفے یا ریستوران بھی بند کر دئیے جائیں جن میں خواتین بطور سٹاف کام کرتی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق اس حکم کی وجہ سے کابل سمیت ملک بھر میں درجنوں کیفے بند ہو جائیں گے اور سینکروں خاندان بے روز گار ہو جائیں گے۔

طالب کی بطور چانسلر تعیناتی: پروفیسرز یونین نے فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دیدی

اشرف غیرت کی تعیناتی کے بعد ان کے بعض پرانے ٹویٹ بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک ایسے ہی ٹویٹ میں انہوں نے کہا تھا: ”ایک جاسوس صحافی سو پولیس والوں سے خطرناک ہوتا ہے۔جو لوگ صحافیوں کو قتل کرنے سے گریز کرتے ہیں مجھے ان کی ایمان پر شک ہے۔ جاسوس صحافیوں کو قتل کر دو۔ میڈیا کو قابو کرو“۔

وارث رضا بازیاب: آج انکی جبری گمشدگی کے خلاف پی ایف یو جے مظاہرہ کریگی

بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ آر ایس ایف اور جے کے این ایس ایف کے رہنماؤں نے سینئر صحافی کو اس طرح حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا۔

کراچی: سینئر صحافی وارث رضا اداروں کی حراست میں، نامعلوم مقام پر منتقل

وارث رضا کی بیٹی لیلیٰ وارث رضا نے ’جدوجہد‘کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی صبح 3 بجے اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے گھر کے باہر دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے، رینجرز کی دو گاڑیاں اور ایک سفید کار پر سوار رینجرز اور سول وردیوں میں ملبوس اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیا اور گھر سے انکا کچھ سامان، بٹوا اور موبائل بھی اٹھا کر لے گئے۔