خبریں/تبصرے

[molongui_author_box]

پنجاب: ہتک عزت بل کیخلاف صحافیوں کا احتجاج، بل کے اندر کیا ہے؟

پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد ’فیک نیوز‘ کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور اِس بل سے کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف منفی پراپیگنڈے کو روکا جا سکے گا۔ تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔

چار افسران کی معطلی گندم سکینڈل کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کیلئے کی گئی: فاروق طارق

فاروق طارق نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گندم سکینڈل کی تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین ایسے شخص کو لگایا جو سابق وزیر اعظم انوارالحق کا کڑ کی کابینہ کا سیکرٹری تھا۔ کامران علی افضل نے تحقیقاتی کمیٹی کے چیئر مین کے طور پر جانب داری کرتے ہوئے نگران حکومت کو کلین چٹ دے دی۔ ایک وفاقی سیکرٹری اپنے سابق باس وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کر ہی نہ سکتا تھا۔

وفاقی بجٹ کی تیاریاں: آئی ایم ایف کی ایما پر سخت پالیسیاں جاری رکھنے کا فیصلہ

جولی کوزیک نے کہا تھا کہ آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ہمارا وفد اس وقت پاکستان میں ایک مشن پر ہے اور ہم انتظار کریں گے کہ وہ اپنا کام ختم کرلیں اور پھر وقت آنے پر ہم اس مشن کے نتائج سے سب کو آگاہ کریں گے۔
ڈائریکٹر آئی ایم ایف کمیونی کیشن نے صحافیوں کو اسلام آباد میں موجود اپنے وفد کے حوالے سے نئی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے 29 اپریل کو اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا دوسرا جائزہ مکمل کیا، جس کے بعد ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی گئی۔
جولی کوزیک نے مزید کہا تھا کہ ہمارے بورڈ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے دوسرے اور آخری جائزے کی تکمیل کے دوران حکام کی بہترین پالیسی کی کوششوں کی وجہ سے معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔

بہار: وزیر اعظم مودی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کے الزام میں ٹیچر کو جیل بھیج دیا گیا

انہوں نے مزید کہاکہ کلاس کے کئی لڑکوں اور لڑکیوں نے بھی تصدیق کی کہ رجک کلاس کے اندر ایسی باتیں کہہ رہے تھے۔ بنیادی طور پر یہ ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے جو کسی بھی سرکاری ملازم کو کسی سیاسی جماعت کے حق میں یا خلاف بات کرکے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے سے منع کرتا ہے۔ اس لیے ضروری کارروائی کے لیے ٹیچر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

30 اضلاع میں مظاہرے: گندم سکینڈل میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ

٭ کسانوں سے گندم کی خریداری فوری شروع کی جائے۔
٭گندم سکینڈل میں ملوث افرادکو گرفتار کیا جائے۔
٭ نجی شعبے کو اناج درآمد کرنے کی اجازت دینے والی پالیسی کا خاتمہ کیا جائے۔
٭ گندم اور تمام فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت مقرر کی جائے۔
٭ حکومت کسانوں کی پیداوار کی منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے منڈی کو ریگولیٹ کرے۔
٭ آئی ایم ایف کی نو لبرل اور کسان مخالف پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
٭ گندم سکینڈل کا نشانہ بننے والے کسانوں کو معاوضہ دیا جائے۔
٭ چھوٹے کسانوں سے قرضوں پر سود لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

گندم سکینڈل میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ، آج کسان احتجاج کرینگے

آج 21 مئی کو لاہور، کراچی، کوئٹہ، ملتان، مردان اور وہاڑی سمیت ملک بھر کے 30 اضلاع میں کسان احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی جانب سے حکومت کو 21 مئی تک مطالبات منظور کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ مگر حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور گندم نہ خریدنے کے مختلف بہانے گھڑے جا رہے ہیں۔

منگل 21 مئی کو ملک بھر میں کسان مظاہرے کریں گے

21 مئی کو لاھور، کوئٹہ، حیدرآباد، ملتان، وہاڑی، پشاور سمیت ملک بھر کے تیس اضلاع میں کسان مظاہرے کریں گے۔ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی جانب سے حکومت کو 21 مئی تک مطالبات منظور کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ مگر حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور گندم نہ خریدنے کے مختلف بہانے گھڑے جا رھے ہیں۔
پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے سیکرٹری جنرل فاروق طارق نے ملک بھر میں کسان تنظیموں کے لاھور میں 9 مئی کو اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ اگر مطالبات پر عمل نہ ہوا تو ملک گیر مظاہرے کریں گے۔ منگل کو پاکستان کسان کمیٹی سے منسلک تیس کسان تنظیمیں مظاہروں کا اھتمام کر رھی ہیں۔

لاہورمیں پی ایس سی کے زیر اہتمام فلسطین یکجہتی کانفرنس کا انعقاد

بدھ کے روز پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کی جانب سے ایچ آر سی پی لاہور میں فلسطین یکجہتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،جس میں طلبہ اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں ایچ کے پی کے صدر فاروق طارق، پروفیسر تیمور رحمن، عورت مارچ آرگنائزر لینا غنی، ایڈووکیٹ اسد جمال، طالب علم رہنما سارہ علی، سابقہ طالب علم رہنما علی بہرام گاندھی اور پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کے نائب صدر حماد ملک نے اظہار خیال کیا۔

لاہورمیں جموں کشمیر کی عوامی حقوق تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے احتجاج

منگل کے روز لاہورپریس کلب کے سامنے لاہور میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی قیادت میں جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک سے یکجہتی میں احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں کشمیری طلبہ کے علاوہ پاکستانی طلبہ اور کشمیری کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاج میں تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اور رینجرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے کشمیریوں پر سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی مذمت کی گئی۔

مذاکرات ناکام: ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ دھیرکوٹ پہنچ گیا، آج مظفر آباد روانگی ہو گی

لانگ مارچ کے قافلوں کو روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، درخت کاٹ کر سڑکوں پر پھینکے گئے اور اس کے علاوہ پہاڑیاں کاٹ کر بھی سڑکوں پر پھینکی گئی تھیں۔ تاہم مظاہرین رکاوٹیں ہٹاتے آگے بڑھتے رہے۔ متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔ 60سے زائد پولیس اہلکاران اور سینکڑوں مظاہرین زخمی ہوئے۔ ایک پولیس سب انسپکٹر کی ہلاکت بھی ہوئی۔
مظاہرین 11مئی کو ہی پونچھ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ 12مئی کو پونچھ ڈویژن کے قافلوں سمیت ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل قافلے راولاکوٹ شہر میں داخل ہوئے۔ یہ قافلے اب دھیرکوٹ میں پہنچ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ مظاہرین منگلا ڈیم کی پیداواری لاگت پر ٹیکس فری بجلی کی فراہمی، آٹے کے نرخ گلگت بلتستان کے برابر کرنے اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔