سوچ بچار

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


وزیر اعظم صاحب! راشد رحمن اور شہاب خٹک کو کب تمغہ شجاعت دیں گے؟

آپ اور آ پ کی سیاسی جماعت نیز آپ کے سرپرستوں نے جس طرح کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے یا جس طرح کے نظریات کا آپ سب پرچار کرتے آ رہے ہیں، سیالکوٹ کا سانحہ اس کا ایک اظہار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیالکوٹ میں ہوئے المئے کی مذمت کر کے آپ سب منافقت کا اظہار کر رہے ہیں ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ وزیر اعظم تو مذمتی ٹویٹ کر رہا ہو مگر وزیر دفاع سر لنکن شہری کی لنچنگ کو سر عام میڈیا کے سامنے جسٹیفائی کر رہا ہو۔

پیار کیا تو ڈرنا کیا: طالبان سے اسلام آباد میں جلوس نکلوائیں

ہمارا ذہانت دیکھو ہم نے بیس سال سے پاکستان کو اپنا سٹریٹیجک ڈیپتھ بنایا ہوا ہے حالانکہ تم لوگ سمجھتا ہے کہ ہم تمہارا سٹریٹیجک ڈیپتھ بنے گا۔ کچھ کاپر لوگ تو یہ بھی کہتا کہ ہم تمہارا سٹریٹیجک ڈیپتھ نہی، تمہارا سٹریٹیجک ڈیتھ بنے گا۔

لاہور ایک بڑا سا منڈی بہاولدین بن چکا ہے

خادم تقریباً دو دہائیوں بعد پھر پاپی پیٹ کی خاطر لاہور میں پچھلے ایک ماہ سے مقیم ہے اور شب و روز غور و خوص کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گیاہے کہ اب لاہور لاہور نہیں رہا، ایک بڑا سا منڈی بہاولدین بن چکا ہے۔

عالم بالا سے اسامہ کا شاہ محمود قریشی کو خط

یا اخی! ایک ذاتی سا سوال بھی پوچھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے جب ایبٹ آباد میں آپریشن ہوا تھا، ان دنوں بھی آپ دولت الباکستان کے وزیر خارجیہ تھے۔ دس سال بعد بھی آپ وزیر خارجیہ ہو۔ ہمارے سعودی عرب میں تو سلطان بھی دس سال نہیں نکال پاتا۔ سچ پوچھو تو اتنے سال الباکستان کی مہمان نوازی کے باوجود مجھے الباکستانی سیاست، معیشت اور بالیسی خارجیہ کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔

مولانا مسئلہ تجارت نہیں منافقت ہے

ہمارے تمام تر اختلافات کے باوجود میں امید کرتا ہوں آپ مجھے ’MTJ‘ (ایم ٹی جے) کے مزدوروں کو ٹریڈ یونین میں منظم کرنے سے نہیں روکیں گے۔ اجازت چاہوں گا۔

انسانوں کے درمیان پیسے کے رشتے

’’لو میرج‘‘ اور ’’ارینج میرج‘‘ کی اصطلاحات بے معنی ہوگئی ہیں کیونکہ شادی والدین طے کریں یا لڑکا لڑکی کی اپنی مرضی سے ہو، فیصلہ کن کردار دولت کا ہی ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی: رحمت یا زحمت؟

’’گیجٹس‘‘ سے لاحق ہونے والی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے ہٹ کر بھی بات کی جائے تو موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے گرد گھومتی ہوئی زندگیاں، روح کی غربت کا اظہار ہیں۔

فواد چودہری! پرل ہاربر کا مقابلہ ہیروشیما ناگا ساکی سے نہیں کیا جا سکتا

لاپتہ بلوچوں کی ماؤں بہنوں کے بارے میں آپ کا شرمناک ٹویٹ پڑھا تو فوری طور پر اسرائیل ذہن میں آیا۔ صیہونی پراپیگنڈہ مشین دن رات دنیا بھر میں یہی شور مچاتی پھرتی ہے کہ فلسطینی دہشت گرد ہیں، غزہ سے خود کش حملہ آور اسرائیل پر حملہ آور ہوتے ہیں…اور سب سے زیادہ گھٹیا بات یہ کی جاتی ہے کہ جو فلسطینی عرب اسرائیل میں رہ رہے ہیں (یعنی وہاں کے اسلام آباد میں)، دیکھئے اسرائیل ان کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کر رہا ہے۔