سوچ بچار

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


ابو بکر سے ملاقات پر ایک پشتون بچے کا عمران خان کو خط

امید ہے آپ کی سوشل میڈیا ٹیم یہ خط آپ تک پہنچا دے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا خط وائرل ہو مگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ آپ ان سارے سکھ بچوں سے ضرور ملیں جن کے والدین ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے اور ان سارے بچوں کی قمیضوں پر آٹو گراف دیں جن کی ٹانگیں طالبان کی لگائی لینڈ مائنز میں ضائع ہو گئیں۔ جس محبت سے آپ ابو بکر سے ملے اس کی وجہ سے مجھے پورا یقین ہے آپ میری بات ضرور مانیں گے۔

آئین کی جیت

جناب آپ تو جانتے ہوں گے کہ آئین کے دس سے زیادہ آرٹیکل ہیں جن میں عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ کروڑوں لوگوں پر حکومت کرنے والے اقتدار میں آنے اور جانے والے آئین سے نابلد ہیں؟ اگر یہ آئین نہیں جانتے۔ آپ نہیں جانتے تو کون جانتا ہے؟ کون جانتا ہے قانون، کون ہے ذمہ دار اس بوڑھی بیوہ کا جو شہر میں پندرہ میڈیکل سٹورز موجود ہونے کہ باوجود رات بھر درد سے بلکتی ہوئی دنیا کو خیر آباد کہہ گئی؟ کیونکہ اس کے پاس گولی کے پیسے نہیں تھے؟ کون ہے ذمہ دار اس کنواری بڑھیا کا جس کی شادی صرف اس وجہ سے نہ ہو سکی کہ اس کے بھیا بھابھی کے پاس جہیز کی رقم نہیں تھی؟ آپ کا وہی مقدس آئین جس کی آج جیت ہوئی جس میں بنیادی حقوق ریاست کی ذمہ داری ہیں؟ یا وہ آئین جو امیروں کی دولت کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے؟

منٹو، چچا سام اور قوم یوتھ کی ’سامراج دشمنی‘

فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان ملاؤں کو مسلح کرنا ہے۔ میں آپ کا پاکستانی بھتیجا ہوں، مگر آپ کی سب رمزیں سمجھتا ہوں، لیکن عقل کی یہ ارزانی آپ ہی کی سیاسیات کی عطا کردہ ہے (خدا اسے نظر بد سے بچائے)۔ ملاؤں کا یہ فرقہ امریکی اسٹائل میں مسلح ہو گیا تو سویٹ روس کو یہاں سے اپنا پاندان اٹھانا ہی پڑے گا جس کی کلیوں تک میں کمیونزم اور سوشلزم گھلے ہوتے ہیں۔ امریکی اوزاروں سے کتری ہوئی لبیں ہوں گی۔ امریکی مشینوں سے سلے ہوئے شرعی پیجامے ہوں گے۔ امریکی مٹی کے ”ان ٹچڈ بائی ہینڈ“ قسم کے ڈھیلے ہوں گے، امریکی رحلیں اور امریکی جائے نمازیں ہوں گی…بس آپ دیکھئے گا چاروں طرف آپ ہی کے نام کے تسبیح خواں ہوں گے۔

منٹو بنام ہارون رشید

خدا لگتی کہوں۔ تمہارا انٹرویو سن کر میں تھوڑا سا خوش بھی ہوا۔ مجھے تخلیقی لوگ اچھے لگتے ہیں چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ تخلیق کریں۔ تمہارا یہ دعویٰ کہ ’فاتح‘ کے 12 ملین ڈالر بیٹے ہاسٹل میں برتن دھوتے تھے کسی جینیئس کی ہی پرواز سوچ ہو سکتی تھی۔

کینیڈا میں بڑھتی ہوئی غربت پر جسٹن ٹروڈو کا عمران خان کے نام خط

یور ہائی نس! آپ کی کینیڈا بارے تقریر کے بعد مجھے اب دو باتوں بارے آپ سے رائے لینی ہے۔ اؤل: ان لاکھوں درخواستوں کا کیا کروں جو پاکستانیوں نے کینیڈا کی امیگریشن کے لئے دے رکھی ہیں۔ دوم: کینیڈا میں رہائش پذیر لاکھوں یوتھیوں کو واپس پاکستان بھیج دوں یا کینیڈین غربت کی دلدل میں پڑا رہنے دوں۔

عمران خان بنام جنرل ضیا

خوشی کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں القاعدہ بھائیوں نے آخر کار آزادی حاصل کر لی ہے۔ جی ہاں! آپ کی طرف سے بھی مبارک باد بھیج دی تھی۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ آپ کی تصویر امیرالمومنین کے دفتر میں لٹکائیں گے۔ حیران مت ہوں۔ انہوں نے تصویر وں اور ٹیلی ویژن پر پابندی ختم کر دی ہے مگر، الحمداللہ، عورتوں کی تعلیم اور زندگی پر مکمل پابندی ہے۔ نہ جانے ہم پاکستان میں اس منزل مقصود تک کب پہنچیں گے تا کہ ملک سے ریپ کلچر کا خاتمہ ہو سکے۔

وزیر اعظم صاحب! راشد رحمن اور شہاب خٹک کو کب تمغہ شجاعت دیں گے؟

آپ اور آ پ کی سیاسی جماعت نیز آپ کے سرپرستوں نے جس طرح کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے یا جس طرح کے نظریات کا آپ سب پرچار کرتے آ رہے ہیں، سیالکوٹ کا سانحہ اس کا ایک اظہار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیالکوٹ میں ہوئے المئے کی مذمت کر کے آپ سب منافقت کا اظہار کر رہے ہیں ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ وزیر اعظم تو مذمتی ٹویٹ کر رہا ہو مگر وزیر دفاع سر لنکن شہری کی لنچنگ کو سر عام میڈیا کے سامنے جسٹیفائی کر رہا ہو۔

پیار کیا تو ڈرنا کیا: طالبان سے اسلام آباد میں جلوس نکلوائیں

ہمارا ذہانت دیکھو ہم نے بیس سال سے پاکستان کو اپنا سٹریٹیجک ڈیپتھ بنایا ہوا ہے حالانکہ تم لوگ سمجھتا ہے کہ ہم تمہارا سٹریٹیجک ڈیپتھ بنے گا۔ کچھ کاپر لوگ تو یہ بھی کہتا کہ ہم تمہارا سٹریٹیجک ڈیپتھ نہی، تمہارا سٹریٹیجک ڈیتھ بنے گا۔

لاہور ایک بڑا سا منڈی بہاولدین بن چکا ہے

خادم تقریباً دو دہائیوں بعد پھر پاپی پیٹ کی خاطر لاہور میں پچھلے ایک ماہ سے مقیم ہے اور شب و روز غور و خوص کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گیاہے کہ اب لاہور لاہور نہیں رہا، ایک بڑا سا منڈی بہاولدین بن چکا ہے۔

عالم بالا سے اسامہ کا شاہ محمود قریشی کو خط

یا اخی! ایک ذاتی سا سوال بھی پوچھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے جب ایبٹ آباد میں آپریشن ہوا تھا، ان دنوں بھی آپ دولت الباکستان کے وزیر خارجیہ تھے۔ دس سال بعد بھی آپ وزیر خارجیہ ہو۔ ہمارے سعودی عرب میں تو سلطان بھی دس سال نہیں نکال پاتا۔ سچ پوچھو تو اتنے سال الباکستان کی مہمان نوازی کے باوجود مجھے الباکستانی سیاست، معیشت اور بالیسی خارجیہ کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔