سماجی مسائل

ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں۔ وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فنانس سیکرٹری رہی ہیں اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم ہیں۔


دنیا بھر میں روزانہ 137 خواتین اپنے رشتہ داروں کے ہاتھوں ہلاک ہوتی ہیں

ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر 15 سے 30 سال کی عمر کے دوران تقریباً 736 ملین خواتین یا ہر 3 میں سے 1 خاتون کو زندگی میں کم از کم ایک بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، ان اعداد و شمار میں جنسی ہراسگی کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔

وزیر اعظم صاحب تو پھر سزا بے پردگی کو دینی ہے یا ریپسٹ کو؟

ساڑھی اور شلوار کے ذکر سے میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سکرٹ یا جینز پہننا بے ہودگی، بے حیائی اور بے شرمی ہے۔ عورت کا جو جی چاہے پہنے۔ عورت کہیں برہنہ حالت میں بھی ہو تو بھی کسی پلے بوائے یا جہلم سے سے ڈھاکہ گئے ہوئے غازی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔ ریپ ہر حالت میں ریپ ہے اور اس کا ذمہ دار ریپسٹ ہے۔ موٹر وے اور مدرسوں سے لے کر مشرقی پاکستان اور بوسنیا تک، ذمہ داری ریپسٹوں پر عائد ہوتی ہے۔

وارث

” ارے اس معذور کو کیا کرنا ہے ہم نے۔ خود تو چلی گئی اسے ہمارے سر پر تھوپ گئی۔ بہتر ہوتا اسے بھی لے جاتی ۔ایک وارث بھی پیدا نہ کر سکی۔ مشتاق کہتا ہوا ہسپتال سے باہر نکل آیا۔باہرکی تاریکی میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔

عورت کی آزادی میں رکاوٹ کلچر نہیں معیشت ہے

وقت آ گیا ہے کہ کلچر کا راگ الاپنا بند کر دیا جائے اور نام نہاد ماہرین کی نہ سمجھ میں آنے والی مشکل مشکل تجاویز پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں۔ جینڈر سے متعلق پالیسیوں میں انقلابی تبدیلی کے لئے سیاسی فیصلے لینے کی ضروت ہے۔ان پالیسیوں کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس پر ہم آخری پوزیشن کھودیں گے۔

عورت مارچ سوشلسٹ مارچ

پدر سری سرمایہ داری سے پہلے وجود میں آئی تھی۔ سرمایہ داری اور پدر سری کے ملاپ نے بے شک عورت پر جبر کو گمبھیر بنا دیامگر یہ کہنا کہ پدر سری سرمایہ داری کے خاتمے کے ساتھ خود بخود ختم ہو جائے گی، نعرے بازی کے سوا کچھ نہیں۔ محنت کش طبقے کے اندر بے شمار رجعتی رجحانات پائے جاتے ہیں۔